فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر122

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر122
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر122

  

شوٹنگ پر دیر سے پہنچنے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا تھا۔ وہ تو مسلسل سفر اور کام میں مصروف رہتا تھا۔ ایک دن میں پانچ چھ اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ فلموں کی شوٹنگ کرنا کوئی مذاق نہیں ہے۔ پھر نگار خانوں اور لوکیشنز کے مابین طویل فاصلے اور ٹریفک کی ناہمواریاں بھی تاخیر کا سبب بن جاتی تھیں۔ سب جانتے تھے کہ اس تاخیر میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ وہ تو دم لینے کیلئے بلا ضرورت کہیں رکا بھی نہیں ہے، سستانے کیلئے آدھ گھنٹا کمر سیدھی کرنے کی غرض سے آنکھیں موند کر لیٹا بھی نہیں ہے، پھر بھی وہ لیٹ ہوجاتا تھا۔ کبھی کبھی سیٹ پر موجود لوگوں کا موڈ بگڑ بھی جاتا تھا۔ منہ سے بولنے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی وہ ان کے چہروں سے ان کے خیالات پڑھ لیتا تھا۔ سینئر فنکاروں اور ہدایتکاروں کی وہ بے پناہ عزت کرتا تھا۔ انہیں ناراض دیکھ کر پریشان ہوجاتا تھا۔

’’السلام علیک آغا جی! میں آگیا ہوں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اطمینان رکھئے، کام ختم کرکے ہی جاؤں گا‘‘۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر121 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کسی کو سر جی، کسی کو آغا جی، کسی کو میری جان، کسی کو یار جانی کہہ کر وہ روٹھوں کو منا لیتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیٹ کا ماحول اور مزاج ہی بدل جاتا تھا۔ چند ہی لمحوں بعد وہاں صرف مصروفیت نظر آتی تھی یا پھر سلطان راہی کے قہقہے گونجتے سنائی دیتے تھے۔

سیٹ پر وہ آندھی طوفان کی طرح داخل ہوتا تھا۔ وہ ایک سیٹ یا ایک فلم کا لباس پہن کر دوسری فلم کی شوٹنگ پر جانے کا عادی نہ تھا حالانکہ اکثر اوقات تو اس کے پاس لباس تبدیل کرنے کا وقت بھی نہیں ہوتا تھا۔ مگر وہ کوئی عام آدمی نہیں، سلطان راہی تھا۔ سب سے الگ، سب سے مختلف۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا۔ وہ سیٹ پر بھونچال کی طرح داخل ہوتا، دور ہی سے سب کو علیک سلیک کرتا، کسی سے مذاق تو کسی سے چھیڑ خانی کرتا ہوا ڈریسنگ روم یا کسی غیر آباد گوشے کی طرف چلا جاتا۔ سیٹ پر داخل ہونے سے پہلے ہی وہ قمیص کے بٹن کھولنے شروع کردیتا تھا۔ اور ڈریس مین کو آواز دیتا ’’بیٹے، منے، سر جی.... لے آؤ‘‘۔

تین چار منٹ کے اندر وہ لباس تبدیل کرلیتا۔ امیک اپ والا اتنی دیر میں مونچھیں اور وگ لئے تیار کھڑا ہوتا تھا۔ وہ سیٹ کی جانب جاتے ہوئے برق رفتاری سے ہونٹوں کے اوپر مونچھیں لگاتا، سر پر وگ رکھتا، چند لمحوں کیلئے رک کر ساتھ ساتھ چلنے والے میک اپ مین کے ہاتھ سے آئینہ لے کر اس میں اپنا چہرہ دیکھتا۔ اگر چہرے پر کسی خاص میک اپ کی ضرورت ہوتی تو وہیں کھڑے کھڑے یا کرسی پر بیٹھ کر میک اپ کراتے ہوئے وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو پکارتا ’’ہاں جی، کیا ڈائیلاگ ہیں؟‘‘

اسسٹنٹ اسے مکالمہ پڑھ کر سناتا وہ دل ہی دل میں یا اونچی آواز میں دہراتا اور آئینے میں میک اپ کو بھی دیکھتا رہتا۔ چند منٹ بعد وہ لباس پہن کر میک اپ کرکے کیمرے کے سامنے شوٹنگ کرتا ہوا نظر آتا تھا۔

سلطان راہی نے سالہا سال سے اپنی فلموں کی کہانیاں سننا موقوف کردیا تھا۔ وہ کبھی مکالمہ ساتھ لے جاکر پڑھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنی فلموں کی کہانی، مکالمہ اور کردار اسے زبانی یاد ہوگئے تھے۔ وہ سالہا سال سے شب و روز چھ سات فلموں میں یہی آواز اور یہی مکالمہ ادا کرتا آیا تھا۔ کہانی پر غور کرنے یا اس کے بارے میں بات چیت کرنے کی نہ اسے فرصت تھی، نہ ضرورت۔ وہ جانتا تھا کہ فلمساز اس کے کرداروں اور مکالموں کو ہرگز نہیں بدلیں گے، اس لئے بات کرنا لاحاصل ہے۔ کہانی و کردار یا مکالموں میں کوئی جدت یا ندرت کا امکان بھی کم تھا اس لئے اس بارے میں غور کرنا بیکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بس اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ اس طریقہ کار سے مطمئن تھا؟ جی نہیں، ہرگز نہیں۔ وہ بارہا اپنے فلم سازوں اور کہانی نویسوں سے ہاتھ جوڑ کر منت کرچکا تھا کہ خدارا میرے کردار اور مکالمے بدل دو، وہ اخبارات کے ذریعے پریس کانفرنسوں میں کہہ کہہ کر تھک چکا تھا کہ اس یکسانیت سے میں تنگ آچکا ہوں۔ اس میں کوئی تبدیلی پیدا کرو۔ کئی بار وہ اعلان کرچکا تھا کہ آئندہ اس قسم کی فلموں میں کام نہیں کرے گا۔ وہ تبدیلی کیلئے ترستا تھا۔ مگر فلم سازوں کا خیال تھا کہ لوگ اسے محض ایک ہی قسم کے کرداروں میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ وہ درجنوں ایسی فلموں میں کام کرنے سے انکار کرچکا تھا مگر پھر یہی کام کرنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔

آخر کیوں؟ کیا وہ دولت کا پرستار اور لالچی تھا؟

جی نہیں۔ اس سوال کے جواب کے اندر ہی اس شخص کا اصلی کردار موجود ہے۔ سلطان راہی فلمی صنعت کو ٹھپ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک زمانے تک پاکستان کی فلمی صنعت پنجابی فلموں کے بل پر چلتی رہی ورنہ نگار خانوں میں تالے پڑ جاتے۔ ان فلموں سے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ تھا، وہ بے روزگار ہوجاتے۔ ان ہی فلموں کی بدولت سنیما گھر، ڈسٹری بیوٹروں کے دفتروں اور نگارخانوں میں رونق تھی۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد براہِ راست یا بالواسطہ ان فلموں کے طفیل کام پر لگے ہوئے تھے۔ اور ان فلموں کا جسم، جان اور روح صرف اور صرف سلطان راہی تھا۔ اس کے بغیر پنجابی فلم بنانے کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر کسی نے ایسا تجربہ بھی کیا تو دو چار کے سوا ہمیشہ منہ کی کھائی۔ رزق دینے والا آسمان پر خداوندِ تعالیٰ ہے۔ مگر زمین پر فلمی دنیا کے لوگوں کو سلطان راہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ رزق فراہم کرتا رہا تھا۔ سلطان راہی کو اس بات کا پوری طرح احساس تھا۔ مگر اس نے کبھی اس پر فخر یا ناز نہیں کیا۔ غرور کا لفظ تو اس کی ڈکشنری میں ہی نہیں تھا۔ اس حقیقت کا اسے بخوبی علم تھا اور وہ اپنی اس حیثیت کے باعث اللہ تعالیٰ کا شکر گزار تھا۔ گڑگڑا گڑگڑا کر اس کے حضور میں دعائیں کرتا رہتا تھا کہ اے اللہ! مجھے حوصلہ دے، صحت، دے ہمت دے۔ میرے ذہن کو متوازن رہنے کی توفیق دے۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال تک فلمی صنعت کا واحد سہارا بنا رہنے کے باوجود وہ غرور سے دور تھا اور عروج کی جانب ہر قدم کے ساتھ اس کا سر عجز و نیاز سے خدا کے حضور جھکتا ہی جاتا تھا۔

سلطان راہی ایسا ہی عجیب وغریب انسان تھا۔ ویسا نہ پہلے کبھی پیدا ہوا نہ شاید آئندہ پیدا ہوگا۔ گنیز بک آف ریکارڈز میں اس کا نام درج ہوا تو پاکستان میں کسی نے اس اعزاز کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ خود سلطان راہی نے بھی اس کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس نے اپنی ۲۸، ۲۹ سالہ اداکاری کی زندگی میں ساڑھے سات سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ یہ ریکارڈ دنیا میں کون توڑے گا؟ انسان کے روپ میں دوسرا جنات اور اداکار کے روپ میں دوسرا سلطان راہی کہاں سے آئے گا؟ ناممکن!

عہدِ آغاز میں وہ صرف سلطان تھا۔ راہی کا لفظ تو اداکار بننے کے بعد اس کے نام کے ساتھ شامل ہوا تھا۔ ایک ایکسٹرا یا عام فائٹر محض اپنے نام ہی سے پکارا جاتا ہے۔ اسے بھی سلطان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اسے اداکار بننے کا شوق نہیں جنون تھا۔ سدھیر اور علاؤالدین اس کے آئیڈیل تھے۔ وہ ان کا پرستار تھا اور ان جیسا بننا چاہتا تھا اس کے جاننے والے اور دوست احباب اس کی اس تمنا پر ہنستے تھے۔ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ صورت نہ شکل، نہ اداکاری کی صلاحیت اور چلے ہیں سدھیر یا علاؤالدین بننے۔ یہ دیوانے کا خواب ہی تو تھا۔ مگر دیوانے ہی خوابوں کو حقیقت میں ڈھال سکتے ہیں۔ فرزانوں سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی۔

سلطان ہر اسٹوڈیو کے آس پاس منڈلاتا رہتا تھا۔ خدا خدا کرکے وہ ایکسٹرا کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس زمانے میں ایکشن فلمیں زیادہ نہیں بنائی جاتی تھیں مگر سلطان ایک مضبوط جسم کا جفاکش جوان تھا۔ اسے تو کام سے غرض تھی۔ ایکسٹرا کردار نہ سہی فائٹر سہی۔ چنانچہ کبھی کبھی اسے فائٹر کے طور پر بھی کام ملنے لگا۔ اس طرح وہ ایکسٹرا اور فائٹر کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے ساتھ کے بہت سے لوگ ساری زندگی اس پہلی سیڑھی تک ہی پہنچ سکے اور دوسری سیڑھی پر قدم تک نہ رکھ سکے۔ مگر سلطان کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوسکی۔ وہ آخری سیڑھی تک پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ سیڑھی ختم ہوگئی۔ اس کے آگے آسمان تھا۔ اس نے آسمان کی جانب بھی قدم بڑھا دیا۔ اللہ کی رحمت نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہ سیڑھیوں کے بغیر ہی بلندیوں پر چڑھتا چلا گیا۔ ایسی بے مثال کامیابی، ایسی قابلِ رشک مقبولیت، ایسا بلند مقام کسی اور کے حصے میں نہ آیا تھا نہ شاید آسکے گا۔ وہ سب سے بلند، سب سے ارفع ہوگیا۔ ایک خاکی، بے بس انسان اور اتنی بلندی، کہتے ہیں کہ بلندی کے بعد پستی بھی آتی ہے مگر سلطان راہی اس منزل سے نا آشنا رہا۔ جب ایک سنسان ویران ہائی وے پر وہ گولی کا نشانہ بن کر دوسری دنیا کی طرف روانہ ہوا تو آخری سانس تک وہ سب سے بلند اور سپراسٹار تھا۔ یہاں تک کہ موت کے بعد بھی ہر جگہ اسی کا چرچا رہا۔ اخبارات اس کی تصویروں، خبروں اور حالاتِ زندگی کے واقعات سے بھرے رہے۔ وہ زندگی میں بھی سپر اسٹار تھا اور مر کر بھی سپر اسٹار ہی رہا۔

سلطان کی بلندی کا سفر فلم ’’بابل‘‘ سے شروع ہوا تھا۔ اس کے ہدایتکار اقبال کاشمیری تھے۔ ’’بابل‘‘ سلطان راہی کو اداکار کی حیثیت سے متعارف کرانے والی پہلی فلم تھی۔ یہ فلم ہٹ ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی سلطان بھی ہٹ ہوگیا۔ اس کے بعد وہ تاحیات ’’ہٹ‘‘ ہی رہا۔ اس کی فلمیں پٹتی رہیں مگر وہ ہر فلم میں ہٹ رہا۔ لوگ سلطان راہی کا نام دیکھ کر سنیما گھروں کا رخ کرتے تھے۔ فلم ہٹ ہو یا فلاپ، وہ سلطان راہی کے گن گاتے ہوئے سنیما گھر سے باہر نکلتے تھے۔ فلم کے پٹ جانے کا الزام انہوں نے کبھی سلطان راہی کو نہیں دیا۔ وہ بدستور ان کا چہیتا، لاڈلا، پسندیدہ فنکار ہی رہا۔ اس لئے نہیں کہ وہ بہت اچھا اداکار تھا بلکہ اس لئے کہ اس پر خدا کا سایہ تھا۔

’’بابل‘‘ نے سلطان راہی کو اسٹار بنادیا تھا۔ سلطان راہی فلم کے ہدایتکار اقبال کاشمیری کایہ احسان زندگی بھر نہیں بھولا۔ اس کی دوسری کامیاب ترین فلم ’’بشیرا‘‘ تھی۔ اس فلم کا پوسٹر آج بھی سب کو یاد ہے جس میں خون میں لت پت سلطان راہی ایک ڈانگ تھامے، للکارنے کے انداز میں کھڑا نظر آتا ہے۔ بس یہ روپ سلطان راہی کا مستقل فلمی روپ بن گیا۔

’’بشیرا‘‘ کے فلم ساز اور ہدایتکار اسلم ڈار تھے۔ اس فلم نے سلطان راہی کی حیثیت کو مستحکم کردیا اور وہ سپراسٹار بن گیا۔ اسلم ڈار کو بھی سلطان راہی نے کبھی فراموش نہیں کیا۔ وہ تادمِ آخر ان کا بھی احسان مند رہا۔ اس کے بعد سلطان راہی کی مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ ختم ہونے میں نہ آیا۔

’’بشیرا‘‘ سے وہ سپراسٹار تو بن گیا تھا مگر ابھی اسے فنکار اور اداکار کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ یہ موقع اسے ہدایتکار حسن عسکری نے فراہم کردیا ’’وحشی جٹ‘‘ میں حسن عسکری نے سلطان راہی کو ایک ایسے کردار میں ڈھالا جو اس کا ٹریڈ مارک بن کر رہ گیا۔ یہ فلم احمد ندیم قاسمی صاحب کے شاہکار افسانے ’’گنڈاسہ‘‘ سے اخذ کی گئی تھی۔ یہ وہ فلم تھی جس نے سلطان راہی کو اداکاروں کی صف میں کھڑا کردیا اور پنجابی فلموں میں ’’گنڈاسہ‘‘ کا ہتھیار متعارف کرایا۔ یہ ’’گنڈاسہ‘‘ اس کے بعد پنجابی فلموں کی لازمی ضرورت اور سلطان راہی کی فلمی پہچان بن گیا۔ اس فلم پر بہت لے دے ہوئی تھی۔ سب سے پہلے تو احمد ندیم قاسمی صاحب نے اعتراض کیا کہ ان کی کہانی کو ان کی اجازت کے بغیر فلم کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔ خدا خدا کرکے یہ مسئلہ حل ہوا تو اخبارات کے میں لے دے شروع ہوگئی کہ پنجابی فلموں میں تشدد اور خون خرابے کی طرح ڈالی جا رہی ہے۔ حسن عسکری اور سلطان اس نکتہ چینی کے ہدف تھے۔ عسکری صاحب ذہین اور پڑھے لکھے ہدایتکار ہیں۔ انہوں نے اپنی صفائی میں بہت سی دلیلیں پیش کردیں۔ مگر سلطان راہی خاموش رہا اور آخر تک خاموش ہی رہا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -