سرفراز، دھوکہ نہ دینا

سرفراز، دھوکہ نہ دینا
سرفراز، دھوکہ نہ دینا

  



سرفراز کی جارحانہ بلے بازی، کیپنگ، فیلڈنگ، عامر کی گیند بازی کے بعد کپتان کے ساتھ شاندار شراکت نے لنکا ڈھائی تو کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستان جیت گیا ہے،سب کے چہروں پر خوشی تھی ہرایک مبارکباد دینے میں پیش پیش تھا،پھر سیمی فائنل میں شاہینوں نے ایسے کھیل پیش کیا کہ سب شائقین کے دل جیت لیے،اس میچ میں تمام کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کیا۔

غضب کے میچ تھے، کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی ہاہا تو کبھی تھو تھو۔ شائقین کرکٹ پر جذبات غالب رہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنون جیتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ قوم کی دعاؤں کے ساتھ کھلاڑیوں کی محنت نے خوب کام دکھایا۔ٹیم میدان میں کھیل رہی تھی اور ادھر کرکٹ کے دیوانوں کا جوش خروش بھی دیدنی تھا، کچھ ٹی وی سکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھے تھے تو کچھ مصلے بچھا کر دعائیں مانگنے میں لگے تھے۔ قوم کی دعائیں رنگ لے آئیں اور ہماری ٹیم کامیاب ہوگئی،شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ گوروں کے دیس میں سبز ہلالی پرچم لہراتا، پاک سرزمین شاد باد کی گونج سننا ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔ میدان میں ملک کے صرف گیارہ کھلاڑی کھیلتے ہیں لیکن ان کی فتح کیلئے پوری قوم میدان کے باہر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔ یہ فتحیاب ہوتے ہیں تو کروڑوں چہروں پر خوشی بکھر جاتی ہے۔ جب یہ ہارتے ہیں تو کروڑوں دل ٹوٹتے ہیں، ارمانوں کا خون ہوتا ہے، کئی جذباتی تو قابو سے باہر ہوجاتے ہیں، مقابلہ کرکے ہارنا الگ بات لیکن بغیر لڑے ہارنا قوم نہ برداشت کرتی ہے اور نہ ہی وہ کرسکتی ہے۔

چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں سرفراز الیون بھارت کا مقابلہ کرنے جارہی ہے،یہ شائقینِ کرکٹ کا ایک ایسا خواب ہے جو لندن کے اوول کرکٹ گروانڈ پر اس اتوار کو پورا ہونے جا رہا ہے،یہ خواب صرف کرکٹ کا شوق رکھنے والوں کا ہی خواب نہیں ہے بلکہ ان اداروں، تجارتی اور اشتہاری کمپنیوں اور ٹی وی چینلوں کا بھی خواب ہے جن کا اس کھیل سے مالی مفاد وابستہ ہے۔

کرکٹ پنڈتوں، ٹی وی مورچوں کے فوجیوں میں بیٹے ’’فوجی‘‘مختلف تجزیے اور تبصرے دے رہے ہیں کہ پاکستان کھیلے گا؟بھارت کامزاج کیسا ہوگا؟کیا حکمت عملی اپنائی جائے کہ ٹرافی ہمارے ہاتھ آجائے۔

دونوں ٹیموں کی اگر موجودہ آئی سی سی رینکنگ، حالیہ برسوں میں ٹیموں کی کارکردگی، بین الاقوامی مقابلوں میں ٹیموں کا ریکارڈ، دونوں ملکوں میں کرکٹ کے کھیل کی صورت حال، بلے بازوں کی اوسط اور کھلاڑیوں کا تجربہ دیکھیں تو کاغذ پر ٹیم انڈیا پاکستان سے کہیں آگے نظر آئے گی،کھلاڑیوں کی عمروں کے اعتبار سے پاکستانی ٹیم اس لحاظ سے بہتر ہے کہ وہ نسبتاً نوجوان ٹیم ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی اوسط عمر انڈین کھلاڑیوں کی اوسط عمر کے مقابلے میں ایک سال کم ہے۔ انڈیا کی ٹیم کی اوسط عمر 29 سال جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی اوسط عمر 28 سال بنتی ہے۔

پاکستان ٹیم میں نئے شامل ہونے والے کھلاڑی، فخر زمان، فہیم اشرف، شاداب، حسن علی اور رومان ریئس وہ نیا خون ہے جس نے ٹیم کا رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور طور اطور بدل کر رکھ دیے ہیں،یہی نوجوان کھلاڑی پاکستانی ٹیم کی رگوں میں دوڑتا ہوا جوان اورگرم خون ہے جو کسی بھی ٹیم کو راکھ کی طرح اڑا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،انہوں نے ہی پاکستان کو فائنل تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے۔

ویرات کوہلی اس ٹورنامنٹ میں اس اعزاز کا دفاع کرنے آئے ہیں جبکہ سرفراز نہ صرف خود کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کپتانی پہلی مرتبہ کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی ٹیم بھی پہلی مرتبہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچی ہے، مبصرین کے خیال میں پاکستان کی ٹیم سرپرائز دینے کی پوری صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہے،کرکٹ کی دنیا کے عظیم بلے باز برائن لارا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کی ٹیم پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیران کر سکتی ہے۔

سرفراز دھوکہ نہیں دے گا

پاکستان دنیا کی واحد کرکٹ ٹیم ہے جو کسی بھی وقت کچھ کرسکتی ہے،یہ جیتنا چاہیں تو پہاڑ جیسا ہدف عبور کرلیں،ہارنے پر آئیں توکھیلنا بھی بھول جاتے ہیں،بلے باز خزاں کے پتوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کرگرتے ہیں،فیلڈر ز کہیں تو گیند کہیں ہوتی ہے،گیند بازی پر آئیں توایک اوور میں چھ چھکے بھی کھالیں اور نیت ہوتو پانچ آؤٹ بھی کرلیتے ہیں،پاکستانی ٹیم جب بھی دفاعی پوزیشن میں کھیلی ہے ہاری ہے ،جارحانہ کھیل میں جیتی ہے،چیمپئنز کی ٹرافی اپنے نام کرنی ہے تو جارحانہ کھیل کھیلنا ہوگا،امید ہے ایسا ہی ہوگا،میرا دل کہتا ہے سرپرائز ملے گا،اچھے والا سرپرائز۔میرا دل کہتا ہے سرفراز دھوکہ نہیں دے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ