محمد فیاض ابن عبد اللہ سے مکہ المکرمہ میں ملاقات

محمد فیاض ابن عبد اللہ سے مکہ المکرمہ میں ملاقات
محمد فیاض ابن عبد اللہ سے مکہ المکرمہ میں ملاقات

  


اہل فکر و دانش ہمیشہ سے ہمیں بتاتے چلے آ رھے ہیں کہ جب بھی آپ کسی دوسرے ملک یا علاقے میں جاتے ہیں تو یہ یاد رکھا کیجۓ کہ آپ اپنے ملک اور علاقہ کی پہچان بن کر جاتے ہوں آپ جہاں بھی جائیں گے وہاں آپکو آپکے ملک اور علاقہ کی پہچان کے طور پر شمار کیا جاۓ گا اسلۓ اپنے اخلاق اور اطوار کو بہتر سے بہترین رکھا کیجۓ ایسے ہی سعودیہ میں پاکستان کے معروف خیر سگالی ایمبسڈر اور محب وطن پاکستانی سے راقم کی بطور چئیرمین ڈیمو کریٹک میڈیا فورم پاکستان کی حیثیت سے ملاقات طے پائے جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے سپرد قرطاس کرنے کی کوشش کی ھے کیونکہ وقت کے دامن میں زیادہ کنجائش نہ ھے لہذا تمہیدی کلمات سے احتراز ضروری -گزشتہ روز مکہ میں عرصہ دراز سے حجاج کرام کیلۓ کام کرنے والے بڑے گروپ یعنی کہ الحافظ گروپ کے چیف ایگزیکٹو معروف سعودی بزنس مین محمد فیاض ابن عبداللہ سے انکے مرکزی دفتر میں طویل ملاقات ھوئ جس میں باہمی تبادلہ خیال کے ساتھ پاکستان اور سعودیہ کے کاروباری اور عوامی سطح کے تعلقات سمیت پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات زیر بحث رھے جس میں موصوف فیاض صاحب نے اپنے تجربات کا کھل کر اظہار کیا اور اس دوران فیاض ابن عبد اللہ صاحب نے سعودیہ میں اپنے پنتالیس سالہ طویل جدوجہد کے سفر کی داستان بتائ -کامیابیوں اور آنے والی مشکلات بارے تفصیلی تذکرہ کرتے ھوۓ جملہ کامیابیوں کا سہرا اپنی مرحومہ والدہ کو دیتے ھوۓ انکا کہنا تھا کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں سب میری ماں کی دعاؤں اور راہنمائ کا نتیجہ ھے انکا مزید کہنا تھا کہ ماں بنا کوئ اولاد کچھ نہیں میں نے ہمیشہ ہر کام ماں کی اجازت کے ساتھ کیا اور الحمد للہ کامیابیاں نصیب میں آئیں ۔ چیئرمین الحافظ گروپ مکہ محمد فیاض ابن عبداللہ ملنسار منکسر المزاج دھیمے لہجے کے حامل انسان دوست اور حجاج کرام کیلۓ خادم بن کر خدمت کرنے والے انسان ہیں جسکا ثمر اللہ پاک نے انہیں ٹرانسپلانٹ کے بعد مکمل صحتیابی کی صورت عطا فرمایا ھے پاکستانی اور سعودی عوام کے ساتھ انکا یکساں اور قلبی تعلق قابل رشک ھے وہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کے ہمیشہ سے خواہاں ہیں انکا کہنا تھا کہ سعودیہ مسلمانوں کا مرکز اسلام ھے جبکہ پاکستان فخر عالم اسلام ھے- فیاض ابن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ دونوں برادر اسلامی ممالک عالم اسلام کیلۓ اللہ پاک کی نعمت خاص ہیں بلاشبہ ایسے لوگ دھرتی پر اللہ کا انعام ہوا کرتے ہیں ۔محمد فیاض ابن عبد اللہ پاکستان اور سعودیہ میں فلاحی اور سماجی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں انکا نقطہ نظر خدمت انسانیت کے حوالے سے اس طرح سے واضح ھے کہ وہ کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ ھے اللہ پاک دے کر بھی آزماتا ھے اور واپس لے کر بھی شواہد سے معلوم ہوتا ھے کہ فیاض ابن عبد اللہ اس اصول پر ڈٹے ھوۓ ہیں تاکہ اللہ رب العزت کو دنیا میں راضی کر کہ آخرت اچھی کر لی جاۓ -الحافظ گروپ کی پوری ٹیم خدمت میں عظمت کے اصول پر مکمل یقین رکھتے ھوۓ کام کر رہی ھے بیسیوں افراد پر مشتمل یہ ٹیم خصوصاً حجاج کرام کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ھے ۔ اس سلسلے میں محمد فیاض ابن عبد اللہ نے پاکستان کے معروف شہر بہاولپور میں ایک کمپنی قائم کر رکھی ہے جس کے زیر انتظام حجاج کرام کو بہتر پیکجز پیش کیۓ جاتے ہیں - مثلا رواں سال حج مشن 2019 کے دوران پاکستان کے بڑے شہروں میں جو VIP پیکج تقریباً نو لاکھ کا دیا جا رہا ہے۔ وہی VIP پیکج قدرے بہتر سہولیات کے ساتھ فیاض ابن عبداللہ کا ادارہ پانچ لاکھ پچاس ہزار کا دے رہا ہے۔انکا بتانا تھا کہ یہ سلسلہ الحمد للہ پچھلے کئی سالوں سے اسی ترتیب کے ساتھ جاری ہے۔فیاض ابن عبد اللہ کہتے ہیں کہ اپنے وطن سے آۓ ھوۓ حجاج کرام کی خدمت اور انکے لیۓ بہتر سہولیات کا انتظام کرنا ہی میرا مشن ھے جبکہ دھرتی ماں کامجھ سے محبت کا تقاضا بھی یہی ھے واضح رہے کہ محمد فیاض ابن عبداللہ تقریباً پچھلے پینتالیس سال سے مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔ الحافظ گروپ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ میں مختلف نوعیت کی خدمات جاری ہیں۔

مزید : بلاگ