جب خوا ب بکھرتے ہیں

جب خوا ب بکھرتے ہیں
جب خوا ب بکھرتے ہیں

  


گذشتہ چند سالوں سے عمران خان اور ان کی پارٹی نوجوانوں کو بہت سے خواب دکھا رہی تھی جس کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کو ووٹ بھی دئیے۔ ملکی اداروں کو عمران خان پسند تھے، نوجوانوں نے بھی بہترمستقبل کا خواب دیکھتے ہوئے ووٹ دئیے اور انہوں نے انتہائی جانفشانی سے محنت بھی خوب کی اور اپنی توجہ وزیر اعظم بننے کے ایک نقطہ پر مرکوز رکھی، چنانچہ ان تمام عوامل کے یکجا ہونے کے نتیجہ میں عمران خان ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ دوسرے لوگوں کی طرح نوجوانوں کو امید تھی کہ عمران خان اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے انہیں روزگار فراہم کریں گے۔اس کے علاوہ لوگوں کو یہ بھی یقین تھا کہ مبینہ طور پرباہر کے بینکوں میں پڑے ہوئے لوٹ مار کے دو سو ارب ڈالر بھی عمران خان پلک جھپکتے میں واپس لے آئیں گے جس میں سو ارب ڈالر کا قرضہ بیرونی ممالک اور اداروں کے منہ پر مارنے کے بعد باقی کے سو ارب ڈالر سے ملک کی تعمیر نو کریں گے۔

لوگوں کو اس بات پر بھی اعتماد تھا کہ بیرونی ممالک میں مقیم لاکھوں کروڑوں پاکستانی عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی ڈالروں کے جہاز بھر بھر کر پاکستان بھیجیں گے۔ اسی طرح پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے بارے میں بھی سب ہی پر امید تھے کہ 180 ارب ڈالر کا پراجیکٹ (پاکستان کی کل GDP کا تقریباً 60 فیصد) عمران خان کے لئے انتہائی آسان ہو گا۔ خواب دیکھنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ بہترزندگی اوربہترمستقبل کے خواب ہر شخص اور ہر قوم دیکھتی ہے۔ البتہ عمران خان کے دکھائے گئے خواب اور ملک کے کروڑوں نوجوان ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی کارکردگی بھی سب کو نظر آرہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سب دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان حکومت میں وہ قابلیت ہے کہ نہیں جس کے خواب دکھائے گئے تھے۔ اللہ کرے کہ نوجوانوں کے خوابوں کی عملی طور پر تعبیر اچھی نکلے ورنہ نا امیدی کے عالم میں مایوس نوجوانوں کا بوجھ ان کے اہل خانہ کو بھی اٹھانا پڑے گا اور ریاست کو بھی۔ریاست ہر قسم کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن ٹوٹے اور بکھرے خوابوں سے مایوس نوجوانوں کا بوجھ ہرگز نہیں اٹھا سکتی۔ پتہ نہیں عمران خان جب نوجوانوں کو یہ خواب دکھا رہے تھے تو ان کے ذہن میں یہ نکتہ تھا کہ نہیں کہ ٹوٹے خوابوں کا بوجھ تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

ایک کروڑ نوکریوں کو بھول جائیں، پچاس لاکھ گھروں کو بھی۔ ان اعداد و شمار کو بھی بھول جائیں جو کہیں ادھر ادھر سے سن کر عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر بول دیا کرتے تھے جیسے باہر پڑے دو سو ارب ڈالر واپس لائیں گے یا دس سے بارہ ارب روپے روزانہ ہونے والی منی لانڈرنگ روک دیں گے۔ اگر یہ باتیں درست ہوتیں تو اس وقت دھڑا دھڑ گھر بن رہے ہوتے اور ملک کے ہر تیسرے گھر میں نوجوان کی نوکری کی خوشی میں مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہوتیں۔ اگر باہر سے دو سو ارب ڈالر لانے ممکن ہوتے تو چھ ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کی خوشامدیں نہ کی جاتیں اور اس کے کہنے پر مالیاتی منیجر تعینات نہ کئے جاتے۔

الیکشن سے پہلے کئے گئے وعدوں اور کنٹینر پر جھاڑی گئی تقریروں کو بھی رہنے دیں۔ اس چیز کا بھی ذکر نہیں کرتے کہ خان صاحب کیسے وزیراعظم بنے، الیکشن میں کیا ہوا اور سلیکشن کیسے ہوئی۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ عمران خان نا تجربہ کار تھے یا انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم نہیں تھا۔ ہم یہ بھی تصور کر لیتے ہیں کہ انہیں تمام خرابیوں کا علم وزیر اعظم بننے کے بعد ہوا کہ پچھلے حکمران سارا خزانہ خالی کرگئے، تمام وسائل ہڑپ کر گئے اور ملک کو سینکڑوں ہزاروں ارب کے قرضہ کے بوجھ تلے چھوڑ گئے۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ تمام خرابیاں میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی وجہ سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جو کچھ عمران خان کہہ رہے ہیں سب بالکل ویسے ہی ہے، اس لئے ہم نہیں یاد کراتے کہ پہلے سو دنوں میں عمران خان نے روڈ میپ دینا تھا، چھ ماہ میں اس روڈ میپ پر عمل درآمد شروع ہونا تھا اور نئی دی گئی تاریخوں کے تحت دو سے تین سالوں میں تمام خوابوں کی تکمیل ہو جائے گی۔ یہ تمام چیزیں درست نہ ہونے کے باوجود ہم اس لئے فرض کر رہے ہیں کہ چلیں اب آگے بڑھیں اور جتنے ٹائم فریم میں چاہیں اپنے کام کر کے دکھائیں۔ لیکن ان تمام فرض کرنے کے بعد ایک نیا مسئلہ ایسا ہے جس کی وجہ سے مجھے کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا اور پچھلی باتوں کی طرح یہ تمام باتیں بھی ہوائی لگتی ہیں۔

مجھے نوجوانوں کے خواب بکھرتے اور ان خوابوں کے بوجھ تلے پورا ملک اور معاشرہ دبتا دکھائی دیتا ہے۔یہ مسئلہ ہے حکومت اور وزیر اعظم کی قابلیت اور صلاحیت۔ اگر ملک کو اقتصادی طور پرآگے لے کر چلنا ہے تو سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت پڑے گی وہ درست اعدادو شمار ہیں۔ کم از کم بنیادی اعداد و شمار کہ ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح کیا ہے تاکہ اس کے مطابق منصوبہ بندی کی جا سکے۔ جب آپ کو ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح ہی نہیں معلوم ہو گی تو آپ کیسے آگے کی پروجیکشن کر سکیں گے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت کے ذمہ آگے کی منصوبہ بندی ہے اور اس کے وفاقی وزیر خسرو بختیار ہیں۔ بجٹ سے قبل قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاقی وزیر نے اپنی وزارت کی رپورٹ پیش کی جس میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد بتائی گئی۔ وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ وزارت کی پیش کردہ رپورٹ کی منظوری دی۔

اس کے بعد وزیر اعظم نے وفاقی بجٹ کے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی پیش کردہ رپورٹ اور وفاقی بجٹ تجاویز کی منظوری دی۔ وزارت خزانہ کی بجٹ رپورٹ میں ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح 2.4 فیصد بتائی گئی۔ اب اگر وزیر اعظم پاکستان قومی اقتصادی کونسل میں وزارت منصوبہ بندی کی بتائی گئی 4 فیصد اور بجٹ اجلاس میں وزارت خزانہ کی بتائی گئی 2.4 فیصد کی دونوں رپورٹوں کی منظوری دیتے ہیں تو لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جس حکومت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح کیا ہے، وہ کیسے آگے کی منصوبہ بندی کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی اقتصادی سروے (سرکاری) میں یہ شرح 3.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت کومہنگائی کے مارے ہوئے لوگوں کی تکلیف کا احساس ہے تو کم از کم اسے اتنا تو پتہ ہو گا کہ ملک میں افراطِ زر کی شرح کیا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی نے یہ شرح 8.5 فیصد اور بجٹ اجلاس میں وزارت خزانہ نے 11.5 فیصد بتائی ہے اور دونوں ڈاکومنٹس کی منظوری وزیر اعظم صاحب نے خود اپنی صدارت میں دی ہے۔ اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے معاشی اعدادو شمار کیا ہیں، وزیر اعظم سمیت کوئی شخص نہیں جانتا۔ جب یہی نہیں پتہ کہ کہاں کھڑے ہیں تو آگے کا سفر کیسے شروع کیا جائے گا۔ خوابوں کا ٹوٹ کر بکھر جانا بہت تکلیف دہ ہو تا ہے لیکن جب ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کی بات کی جائے تو بکھرے خوابوں کا بوجھ اٹھانا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہوتا، نہ معاشرہ کے لئے اور نہ حکومت کے لئے۔

مزید : رائے /کالم