سامانِ رسوائی!

سامانِ رسوائی!
سامانِ رسوائی!

  


صدارتی نظام کی جستجو اور شوق کا قائل ہونا پڑے گا۔ جی ہاں!اس کے بڑ ے فائدے ہیں الیکشن خاموشی اور آرام سے ہو جاتا ہے، زیادہ خطرہ ہو تو صدارتی ریفرنڈم بھی کرایا جا سکتا ہے۔نہ جلسے، نہ تقریر نہ بڑ ے بڑے پوسٹرز،نہ بر یانی کی دیگ نہ چائے کے مگ، نہ لاؤڈ سپیکر نہ دنگا نہ فساد نہ فائرنگ کا کوئی جنجھٹ، نہ دیواریں کالی کر نے کی گنجائش اور نہ حریف کے منہ پر کالک ملنے کا امکان، صدارتی نظام بھی کیا حکیمانہ نسخہ ہے پو ری قوم کو مٹھی میں بند رکھنے کا۔ہو سکے تو ایسا نظام لایا جائے، جس میں امیدوار اپنے اپنے حامیوں کے شناختی کارڈز بوروں میں بھر کر الیکشن کمیشن لے کر آ جائیں،ان کی گنتی کر لی جائے، جو امیدوار زیادہ شناختی کارڈ لایا ہو اقتدار کی کنجی انہیں سونپ دی جا ئے اللہ اللہ خیر صلا۔1965ء میں محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی الیکشن لڑا تھا، کہا جاتا ہے کہ انتظامیہ نے بنیادی جمہوریت کے اراکین پر زبردست دباؤ ڈا لا تھا تا کہ ان کا ووٹ فاطمہ جناح ؒ کو نہ پڑ جائے نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان ہمیشہ ایک نظریاتی ریاست رہا ہے۔ جمہوری سیاست کا میدان ہمارے ملک میں روز اول سے بنجر قرار پایا ہے، نہ اس نے جڑ پکڑی نہ ہم نے اس کا پھل چکھا اور نہ ہی اس کے سائے میں بیٹھنے دیا گیا۔آ ج پھر نعرہ عام ہے کہ اس سے بادشاہت بھلی، کیا ہم ان راہوں سے پہلے کبھی نہیں گزرے؟

ضمیر دنیا میں ہر جگہ بیچے جا تے ہیں، مگر ہمارے جیسے ممالک میں بہت چھوٹے چھوٹے مفادات کے عوض ان کی خریدو فروخت ہوتی ہے۔ سیاست کے ضمیر فروش وفا داریاں بدلنے کو اقتدار کے ایوانوں میں تیار کھڑے نظر آ تے ہیں۔58ء میں مارشل لاء کے بعد مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ ایوب خان کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئی تھی۔ بے شک نظریہ ضرورت میں بڑی طا قت ہے۔ایوب خان ایشیا کے ڈیگال بن گئے، انہیں مہرِ صبح نو قرار دیا گیا، ترانے گائے گئے کہ ان کے بعد اندھیرے کا ڈر اور خوف لا حق ہے۔اس نظام کے فوائد بھی بہت ہیں،چاہو تو فاطمہ جناحؒ جیسی قد آور شخصیت کو غدار قرار دے دو۔اس نظام میں اقلیت اکثریت کو دیوار سے لگا سکتی ہے،قومی دولت اور ابھرتی معیشت میں چند خاندانوں کو شریک بنایا جا سکتا ہے۔بھارت کو مشترکہ دفاع کی پیشکش کی جا سکتی ہے،یہ الگ بات کہ آگے سے کوئی نہرو پوچھے جناب،کس کے خلاف، مشترکہ دفاع؟ نہ کوئی موثر اور بااختیار پارلیمنٹ (ویسے وہ تو اب بھی نہیں اپنی پارلیمینٹ کو ذرا غور سے دیکھ لیں)نہ جمہوری آوازیں نہ جمہوری جماعتیں بس صدر ایوب زندہ باد۔پہلا صدر جا تے جاتے ملک یحییٰ خان کے حوالے کر گیا۔ ان کا کو ئی کارنامہ تو نظر نہیں آ تا بس یہ بھی ایک فریب نظر دے گئے تھے کہ مغربی پاکستان ہی اصل پاکستان ہے اور خود فراموشی ایسی کہ ہم ان کے بعد مشرقی پاکستان کو ہمیشہ کے لئے بھول گئے۔ خیر بعض مقامات کی طرح بعض موضو عات بھی ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے جلدی جلدی دامن چھڑا لینا چاہئے۔

جنرل ضیاء الحق کے عہد میں جس نے مردِ مومن کے سیاسی قلعہ میں پناہ لی اس کی خطا معاف ہوئی۔ملک درست کرنے کی بجائے مجلس شو ریٰ اور بیورو کریسی نمازیں پڑھاتے رہے۔ عدالت، سیاست دان، فوج اور مذ ہبی عناصر سب اس سے فیضیاب ہوتے رہے۔مشرف کے صدارتی عہد میں بھی بے مثال فرق باور کرایا جاتا ہے، مگر اس میں سیاسی توڑ پھوڑ کے سوا کچھ نہ ملابغور جائزہ لیں تو ملک میں کبھی فوجی صدارتی نظام رہا ہے تو کبھی سیاسی صدارتی نظام،جب سیاسی نظام کی باری ختم ہوئی تو مو قع پرستوں کی ڈار کی ڈار کسی مسیحا کے گن گاتی ہے اور جب مارشل لاء صدارتی نظام کے بعد ڈھلنے لگتا ہے تو فوراً سیا سی صفوں میں جا ئے اماں تلاش کرتے ہیں۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو صحیح معنوں میں جمہو ری نظام کبھی مل ہی نہیں سکا۔ بھلا موروثیت کی اسیر سیاسی جماعتیں ملک میں کیسی جمہوریت لائیں گی؟ ایک جمہوریت ذوالفقار علی بھٹو چلاتے رہے، اختلاف رائے کو کچلتے رہے، دوسرا جمہو ری عہد، جس میں بینظیر اور نواز شریف عملاً تمام فیصلو ں کا سر چشمہ خو د بنے رہے اور پارلیمنٹ پربا لا دستی کی محض تہمت رہی۔ آصف علی زرداری تو پارلیمانی نظام میں حکومت کو عملاً صدارتی محل لے گئے، جو محاذ آرائی پیپلزپارٹی سے میمو گیٹ پر کی گئی اور بعدمیں جو حالت نواز شریف کی کی گئی اس کا انجام عمران خان کا اقتدار بنا ہے۔

اب ملک ایک نئے عہد میں داخل ہو چکا ہے جہاں اپنی خوبیوں کی بجائے دوسروں کی خامیوں کو اچھال کر جگہ بنائی گئی ہے۔ ان کے دور میں جنتا بھی مثبت سوچیں ایک بات تو واضح ہے ملک آ گے جاتا دکھائی نہیں پڑتا۔مقام عبرت ہے جہاں الزامات سے آگے حکمرا نوں کے قدم عمل سے آ شنا نہیں۔ اس حکومت کے پہلے دِن سے اٹھال بٹھال کے دن ہیں۔ یہاں امیدیں زیادہ اور صلا حیتیں کم ہیں اور یہ نسبت مسائل اور وسائل کے درمیان بھی ہے تو صاف لگ رہا ہے کہ وقت بر باد اورحقیقی تبدیلی کا موقع ضائع ہوا چاہتا ہے۔

زیا دہ علم تو نہیں،مگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی کی غلط منصوبہ بندی سے ہونے والا نقصان سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ ملک میں معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حکومت وقت اپنی صفائیاں پیش کر رہی ہے، مگر عوام اس پر کان دھرنے کو تیار نہیں ایسی صورتِ حال میں محض ایک راہ باقی بچتی ہے،جہاں شکست کے بھاری پتھر سے سر ٹکرانا پڑتا ہے۔یہاں سے وہ بد اعتمادی پھوٹتی ہے،جس سے ملک اور سماج میں میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس ملک میں یہ عمل شروع ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے؟ اس صورتِ حال میں جمہو ریت کے شارٹ سر کٹ کے بعد صدارتی نظام کی وائرنگ کی جا رہی ہے۔ظاہر ہے کھسیانی بلی کو اب اپنا کھمبا نوچنے کا حق تو ملنا چاہئے۔ صدارتی نظام کی دبی دبی آوازیں آ رہی ہیں۔ وزیراعظم جتنا انکار کریں، مگر یہ حقیقت ہے کہ صدارتی نظام کے لئے ابتدا ئی سطح پر کام شروع ہو چکا ہے۔کسی کے گدلے اور استعمال شدہ پانیوں میں دوبارہ سیاست دانوں کو ڈبکی نہیں لگانی چاہئے، مگر ماضی تو یہی ہے کہ یہ اپنے شوق سے اس پانی میں اترتے بھی ہیں اور اپنی مرضی سے ڈوب بھی جا تے ہیں۔

مزید : رائے /کالم