دبنگ صحافی

دبنگ صحافی
دبنگ صحافی

  


سوشل میڈیا پر رحمت علی رازی کے انتقال کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا۔ رمضان میں ”ایکسپریس“ کی دعوتِ افطار میں ان سے ملاقات ہوئی تو میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ ان سے آخری ملاقات ہے۔ وہ روایتی جوش و خروش سے ملے۔ زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ مختلف احباب پر طنزو مزاح کے تیر چلاتے رہے۔ رحمت علی رازی نے تحقیقی رپورٹنگ کے سات اے پی این ایس ایوارڈ جیتے۔ اس کے بعد انہوں نے اس مقابلے میں حصہ لینا بند کر دیا وگرنہ اب تک وہی یہ ایوارڈ جیت رہے ہوتے۔رازی صاحب کبھی کبھار اس رات کا تذکرہ کرتے تھے، جو انہوں نے برسوں پہلے پاکپتن شریف میں بابا فریدؒ کے مزار پر گزاری تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اس وقت وہ بے روزگاری کی وجہ سے پریشان تھے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کریں؟ بابا فریدؒ کے مزار پر وہ ساری رات نوافل پڑھتے رہے، عبادت کرتے رہے اور رہنمائی کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ صبح ایک مجذوب نے انہیں کہا ”لاہور چلے جاؤ“۔ رازی صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے اسے غیبی اشارہ سمجھا اور وہ لاہور چلے آئے۔ لاہور میں انہوں نے بے پناہ محنت کی، نام بنایا، عزت بنائی۔ بیورو کریسی اور پولیس کے حلقوں میں ان کا فرمایا ہوا مستند سمجھا جاتا تھا۔

رازی صاحب نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز 1974ء میں وفاق میں سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے کیا۔ وفاق کے بعد وہ دوسرے بہت سے اداروں کے ساتھ وابستہ ہوئے، مگر مصطفی صادق صاحب سے ان کے تعلق میں کمی نہ آئی۔ ان کی وجہ سے میرے ساتھ بھی ہمیشہ غیرمعمولی محبت سے پیش آتے۔ ملاقات میں مصطفی صادق مرحوم کی بہت سی باتیں یاد کرتے اور بتاتے کہ 1977ء کی تحریک میں ”وفاق“ کتنا بڑا اخبار بن گیا تھا۔ رازی مرحوم خوف نام کی کسی چیز سے واقف نہیں تھے۔ بڑے بڑے لوگوں کے سامنے وہ دھڑلے سے بات کرتے اور اکثر اپنی بات منوا کر رہتے۔ انہیں تعلق نبھانا آتا تھا۔ ان کی دبنگ شخصیت کے پیچھے ایک بے پناہ محبت کرنے والا شخص تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے برے وقتوں میں ان کے ساتھ پوری طرح سے کھڑے ہوتے اور کسی مخالفت کی پروا نہیں کرتے تھے۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ مجید نظامی مرحوم ان سے بڑی محبت کرتے تھے۔ رازی صاحب بتایا کرتے تھے کہ کس طرح ایک دن انہیں نظامی صاحب کا فون آیا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ رازی صاحب نے کہا کہ میں حاضر ہو جاتا ہوں، مگر نظامی صاحب اصرار کر کے ان کے دفتر میں آئے۔

رازی صاحب اسے اپنی غیر معمولی عزت افزائی قرار دیتے تھے۔ ”نوائے وقت“ کے بعد وہ ”جنگ“ سے وابستہ ہو گئے۔ میر شکیل الرحمن ان پر غیر معمولی اعتماد کرتے تھے۔ بیورو کریسی کے حلقوں میں ان کا کالم ”درونِ پردہ“بہت زیادہ پڑھا جاتا تھا۔ ان کے تعلقات چپڑاسی سے لے کر وزیراعظم تک رہے اور سچی بات یہ ہے کہ انہیں تعلقات نبھانے کا ہنر آتا تھا۔ ایک سدبہار مسکراہٹ ان کے چہرے پر رہتی۔ ان میں حس مزاح بدرجہ اتم موجود تھی، وہ اکثر سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسروں کے قصے سناتے، جنہیں وہ لڑکی بن کر فون کرتے تھے۔ ایک ایسے ہی افسر کو انہوں نے اچھرہ کی نہر پر بلُا لیا۔ اعلیٰ افسر بڑی چاہت سے اچھرہ کی نہر پر پہنچے، مگر وہاں لڑکی کی بجائے ان کی رازی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ رازی صاحب ایسے قصے سناتے وقت عموماً متعلقہ فرد کا نام نہیں بتایا کرتے تھے۔ تاہم وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ بیورو کریسی کے افسروں کے پہلو میں جو دِل ہے وہ کچھ زیادہ ہی دھڑکتا ہے۔

رازی صاحب کے متعلق بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ان کی شخصیت کے متعلق کچھ معلومات ایک پوسٹ میں شیئر کی گئی تھیں اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔”تحقیقاتی صحافت اور کالم نویسی کے میدان میں عالمی شہرت کے حامل رحمت علی رازی کا نام ایک منفرد پہچان کا حامل ہے۔ انہوں نے سخت محنت اور لگن سے دُنیائے صحافت میں ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ چار عشروں پر محیط ایک طویل قلمی کیریئر کی بدولت انہیں وہ مقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے کہ اب ان کی شخصیت شفاف جرنلزم، بے داغ کردار اور صحافیانہ بصیرت کی ترجمان بن چکی ہے۔ جنابِ رحمت علی رازی نے تحریک ِ پاکستان کو مہمیز دینے والے تاریخ ساز شہر بہاولپور میں جنم لیا۔ انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز 1974ء میں روز نامہ ”وفاق“ کے سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے کیا اور جب اِس دُنیا سے رخصت ہوئے تو ایک اخباری گروپ کے پبلشر اور پرنٹر تھے،جس کے اخبارات کئی شہروں سے شائع ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم