ففتھ جنریشن واریا آرماگیڈن؟

ففتھ جنریشن واریا آرماگیڈن؟
ففتھ جنریشن واریا آرماگیڈن؟

  


ففتھ جنریشن وار کا کوئی وجود نہیں ہے۔ایک چُلبلا سا قطعہ، ایک بولتا ہوا تیکھا سا ٹکڑادوست احباب کو بھیجا تو ان کا ردِعمل تو واجب تھا ہی۔ کچھ چپ رہے، کچھ ہنس دئیے، کچھ مسکرائے، پر ایک محب وطن برافروختہ ہو گئے۔ فوراً ہی ردِعمل دیا اور میری اس حرکت کو ملک، قوم او ر خدا لگتی کہیئے، بعض اداروں کے خلاف ففتھ جنریشن وار میں میری شمولیت قرار دیا۔ ادھر میں بھی طبیعت میں بھرپور استحضار کے ساتھ بیٹھا تھا۔ دو ایک دفعہ جواب دینے کی کوشش کی، پر موصوف برافروختگی کی حدود سے باہر ہو کر قدرے سیخ پا ہو گئے۔ کوشش تو کی کہ وہ کچھ گفتگو، کچھ مکالمے، کچھ فہم وتدبرکی حدود میں رہ کر بات کریں لیکن ہوا یہ کہ میرے چند تبصرہ جات پراب وہ چراغ پا ہو گئے۔ میں غلطی یہ کر بیٹھا کہ ان سے درخواست کرد ی کہ درج ذیل چار چھ سوالوں کے جواب لکھ کر دیں۔ اللہ میرے حال پر رحم کرے، یہ ہمارا آخری رابطہ تھا۔ اس کے بعد موصوف نے میرا فون نمبر مقفل کر دیا اور رابطے کی یہ واحد صورت منقطع ہو کر رہ گئی۔ اس وقوعے کو لگ بھگ چھ سال ہو گئے ہیں۔ برسوں پر محیط ہمارا یہ بھلا بُرا تعلق آج بھی ففتھ جنریشن وار کے حصار میں ہے اور میں منتظر ہوں کہ ہمارے وہ پیارے دوست میرے سوالوں کا جواب دیں۔ خوش گمانی کا تقاضایہ قیاس کرناہے کہ میرے سوال قدرے مشکل تھے، موصوف جواب تیار کر رہے ہوں گے۔ اس کے بعد میں خاصا محتاط ہو گیا۔ افکار و نظریات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اتنی بھی نہیں کہ دوست احباب کو پرچھائیوں پر قربان کر دوں۔ ایمان کے بعد میرے نزدیک انسانی تعلقات ہر شے پر مقدم ہیں۔

لیکن اس کا میں کیا کروں، خاصے مخمصے کا شکار ہوں؟اخباری تحریروں میں جب کبھی میں نے آئین کی مدح سرائی کی، اسے عوامی امنگوں کی علامت قرار دیا، اسے ملکی اتحاد و یکجہتی کا بنیادی نشانِ راہ قرار دیا اور اس کے ساتھ جنگ کرنے، اسے نظرانداز کرنے یا اس جیسے دیگر اقدام کرنے والوں کو میں نے ملک اور قوم کا دشمن قرار دیا تو محب وطن افراد نے اسے بھی بالعموم ففتھ جنریشن وار قرار دے کر مجھے، کہا تو نہیں لیکن، دوسرے دشمن کیمپ کا فرد قرار دیا اور مزید بات چیت کے دروازے بند کر دیے۔ جب یہ صور ت ہو جائے تو لازم ہے کہ میں پتہ کروں کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے کیا۔سب سے پہلے میں نے انہی محب وطن لوگوں سے جاننے کی کوشش کی کہ بھائی یہ باقی چار جنگیں کیا ہوتی ہیں اور ان کی نوعیت کیا ہوا کرتی ہے، اور یہ کہ بقیہ چار قسم کی جنگوں اور اس جنگ میں فرق کیا ہے؟ معلوم ہوا، ان معصوم محب وطنوں کو اتنا بھی معلوم نہیں جتنا خاکسار کو علم ہے۔ بس کہیں کسی کورس کے درمیان کسی محب وطن نے یہ اصطلاح کیا استعمال کر دی، محکمہ سارا مچھندر ہو گیا۔ لیکن ایک بات مجھ پر واضح ہو گئی کہ یہ جنگ ملک کے افراد باہم مل جل کر آپس میں لڑتے ہیں۔ سرحدوں کے باہر کے دشمن اوّل اوّل خاموش تماشائی رہتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ بھی اپنے اس پڑوسی ملک کے اندر اپنے حلیف تلاش کرکے اسے دامے، درمے، قدمے، سخنے مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کی مثال مجھے مرحوم مشرقی پاکستان کی صورت میں ملی۔ ہمارے وہاں کے سپہ سالار نے ایک دن اپنے فارمیشن کمانڈروں کو فرمانِ امروز دیا جو ہم نے اخبارات میں پڑھا: ”مجھے ان بنگالیوں کی ضرورت نہیں بس ہمیں زمینی رقبہ درکار ہے۔“

ففتھ جنریشن وار شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ اس پر بات بعد میں ہو گی، پہلے تو یہ بتا دوں کہ فی الحال جنگوں کی چار انواع پائی جاتی ہیں کسی ففتھ جنریشن وار کا ابھی تک وجود نہیں ہے۔ طرح طرح کے لکھنے والوں نے کافی کچھ لکھا ہے لیکن ففتھ جنریشن وار کا فی الحال کوئی وجود نہیں ہے۔اکتوبر 1989ء میں امریکی میرین کورگزٹ میں ایک مضمون شائع ہوا(The Changing Face of War: Into the Fourth Generation) اس مضمون کے مؤلفین پانچ افراد تھے جن میں سے چار مسلح افواج کے افسران تھے۔لیکن 4GW یعنی فورتھ جنریشن وار کا بانی و موجد امریکی سینٹر رابرٹ ٹیفٹ کے دفتر میں کام کرنے والا ولیم سی لِنڈ ثابت ہوا۔ دراصل وہی اس مضمون کا مؤلف تھا جسے مسلح افواج کے دیگر چار افراد نے کچھ معلومات بہم پہنچائی تھیں۔ لِنڈنے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام انسانی جنگوں کو چار انواع میں سمودیا۔ فورتھ جنریشن وارمتعارف کرانے کا مقصد دراصل یہ تھا کہ جنگ کی ایک ایسی نوع متعارف کرائی جائے جس کا سامنا آئندہ امریکہ نے کرنا تھا جسے اس سے قبل اپنی زمین پر کسی جنگ کاکوئی تجربہ نہیں تھا۔ تمام تنقیدی آرا کے باوجود لِنڈ نہ صرف اس میں کامیاب رہا بلکہ امریکہ نے آئندہ تیس برسوں میں جو جو جنگی کار روائیاں کیں (بالخصوص گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد) ان میں لِنڈ کی فکر ہر جگہ پر دیکھی جا سکتی ہے۔

فورتھ جنریشن وارکی سادہ سی تعریف تلاش کی جائے تو یہ ایسی جنگ ہے جس میں ریاست سے متحارب دوسرا فریق ریاست نہیں کوئی دیگر ہو سکتا ہے۔ کون ہو سکتا ہے؟ یہ دوسرا فریق کوئی باغی گروپ، کوئی سیاسی جماعت، کوئی دہشت گرد، کوئی باغی، ریاست کا حقیقی یا فرضی ڈسا ہوا کوئی مظلوم گروہ وغیرہ ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک یا زیادہ فریق جب خم ٹھونک کر ریاست یا کسی ریاستی ادارے سے جنگ کی کیفیت پیدا کر دیں حالانکہ وہ جنگ نظر نہ آئے تو یہی فورتھ جنریشن وار ہے۔کسی ففتھ جنریشن وارکا ابھی تک کوئی وجود نہیں ہے۔لِنڈ کے خیال میں فورتھ جنریشن وار کے نمایاں خدوخال یہ ہیں۔ یہ جنگ گوریلا جنگ سے مماثل منتشر جنگی کارروائیوں، بالخصوص دہشت گردی کی شکلیں ہو سکتی ہیں (ہاں تو وہ 2014ء میں اپنے سیکرٹریٹ اور ٹی وی اسٹیشن پر قبضہ؟)۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے مخصوص ریاستی اداروں کو ہدف بنا کر کارروائی، یعنی وہ ادارے جن کی مدد سے ریاست چلائی جا رہی ہو جیسے حکومت، پارلیمنٹ، صدر، وزیراعظم، پولیس وغیرہ ان کے خلاف عوامی نفرت کو ہوا دینا (2014ء کا دھرنا یاد کر لیں)۔ سیاسی مخالفین کو سامنے رکھ کر ملکی اقتصادیات کو بالخصوص ہدف بنانا (بجلی، گیس اور یوٹیلٹی بل نہ جمع کرانے کی اپیلیں اور بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کہ وہ زرِمبادلہ بینکوں کے ذریعے نہ بھیجیں ہنڈی کے ذریعے بھیجیں، یاد کر لیں۔ اس ”فتنہ و فساد“کا اپنا دماغ میرے نزدیک ہے ہی نہیں)۔

ولیم سی لِنڈ نے کسی فوجی پس منظر کے بغیر وہ جنگی نظریہ پیش کیا جس کی آج ساری ترقی یافتہ دنیا اسیر ہے۔ یہاں آ کر مجھے چرچل (غالباً) کا قول کیوں نہ یاد آ جائے: ”جنگ کوئی ایسا غیرسنجیدہ کام نہیں ہے کہ اسے ہم جرنیلوں پر چھوڑ دیں۔“ اب ذرا لِنڈ کی یہ فورتھ جنریشن تھیوری اپنے ملکی حالات پر لاگو کریں اور سر دُھنیں کہ اس ”فتنہ و فساد“ (جس کا اپنا دماغ میرے نزدیک ہے ہی نہیں) کے لانے والے کون لوگ ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ اگر ولیم سی لِنڈ کی 1989ء میں پیش کردہ فورتھ جنریشن وار تھیوری سے ذرہ برابر بھی واقف ہوتے تو بحرِاوقیانوس کے دو طرفہ پانیوں میں دھلی ”صاف چلی شفاف چلی“ اس ملک دشمن لہر کے خلاف اسی طرح سینہ سپر ہوتے جس طرح ہمارے سپاہی، کرنل، میجر، کپتان سینے پر گولیاں کھا کر ملک و ملت کو بچائے ہوئے ہیں۔ ہمارے کتنے ہی گھر ہیں جو کسی نہ کسی شہیدکے وجودِ معطر سے مشک آگیں ہیں۔لیکن کتنے اورشہیدوں کے معطر جسم ہم نے ابھی اٹھانے ہیں۔میں فوجی تعلیمات سے واقف نہیں ہوں۔ولیم سی لِنڈ بھی نہیں تھالیکن کیابھنور میں پھنسے، گرداب میں دھنسے ملک کو بچانا سرحدوں پر سینہ تانے راتوں کی نیندیں حرام کرنے والے ہمارے سپاہی، کرنل، میجر، کپتان بیٹوں ہی کا فرض ہے؟ تو کیا ملک بچانے کے لیے اولاً میں فوجی تربیت حاصل کروں؟ ولیم سی لِنڈ نے تو کسی فوجی پس منظر کے بغیر امریکہ کو فورتھ جنریشن وار سے متنبہ کیاتھا، میں کیو ں نہ کروں؟ یہ سمن اندام وطن عزیز چلانے والوں کویہاں آ کر میں اپنے حالات کے قریب ترین صرف ایک ملک کی داستان خونچکاں سنانا چاہتا ہوں۔ ممکن ہے، اس زیرِزمیں مافیا میں کوئی رجل رشید موجود ہو، اسی کے دل میں اتارنے کے لیے میں یہ باتیں کرتا رہتا ہوں۔

ولیم سی لِنڈ کا نظریہ میں نے برادر ملک انڈونیشیا پر لاگو کیا تو مجھے اپنے مستقبل کی خوفناک پرچھائیاں دن رات نظر آنے لگیں۔ نیند آج کل حرام ہے۔ 1965ء میں جب امریکی جان فاسٹرڈلس کا خوفناک ہیولہ جکارتہ پہنچا تو اسے ہر طرف کمیونسٹ نظر آئے۔ چنانچہ مغربی دنیا کے خطوط پر استوار انڈونیشی فوج کے جنرل سوہارتو کو ذرا سے اشارے کی ضرورت تھی۔ اس فوجی انقلاب میں محتاط اندازوں کے مطابق دس لاکھ افراد مارے گئے۔ انقلاب کامیاب ہونے پر ہر شعبے میں فوجی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا۔ یہ نمائندگی سیاست، معیشت، معاشرت ہر جگہ ہوتی رہی۔ یونین کونسل سے پارلیمان تک ہر طرف فوجی بھائی ہی نظر آئے۔ ڈرل، پی ٹی، پریڈ اور اعلیٰ ڈسپلن سے قبل 1966ء میں سول حکومت میں ڈالر تقریباً 150 انڈونیشی روپے کے برابر تھا۔ 33 سالہ فوجی اقتدار میں ڈرل، پی ٹی، پریڈ اور اعلیٰ ڈسپلن کے ساتھ جون 1998ء میں وہی روپیہ لڑھکنیاں کھاتے کھاتے 14 ہزار 219روپے دے کر ایک ڈالر حاصل کر پاتاتھا۔33سال بعد 1998ء میں سول حکومت، ایک لولی لنگڑی سول حکومت 14 ہزار 219روپے دے کر ایک ڈالر حاصل کر پاتی۔ قارئین کرام نیٹ پر جا کر خود ملاحظہ کر لیں۔ سول حکومتوں کے اقتدار کے آج اکیس سال بعد، کتنے؟ اکیس سال بعد بھی تقریباً اتنی ہی قیمت پر امریکی ڈالر ملتاہے (14,234 روپے انڈونیشی)۔

قارئین کرام 6 جون 2013ء کو نواز شریف نے حلف اٹھایا تو ڈالر 99 روپے 45 پیسے کا تھا۔ سوا سال بعد 14 اگست 2014ء کو بھی یہ اتنی قیمت ہی کا تھا۔ اگلے سال دھرنے، چینی صدر کے دورے کے التوا، امپائر کی انگلی، اس وقت کے ایک حاضر ناظر پاکستانی محب وطن سے مزیّن ملک بھر کے کوچہ و بازار کے باعث روپے کی قیمت تین فی صد کم ہو کر 102/3 روپے ہو گئی تھی۔ جولائی 2017ء تک لبیک یا رسول اللہ بھی اس فورتھ جنریشن وار میں ابتدائی طور پر شریک کرا دی گئی تھی۔ اب بھی روپیہ سر تانے کھڑا تھا، تاوقتیکہ 28 جولائی2017ء کو جسٹس منیر کے آسیب نے ایک بار پھر اس ملک کو بارہ پتھر کر دیا۔پھر بھی اس دن ڈالر 105روپے کا تھا۔ ایک سال بعد مسلم لیگ نے اقتدار چھوڑاتو ڈالر116روپے کا تھا۔ یعنی اس عدالتی آسیب کے باعث صرف ایک سال میں ڈالر کی قیمت 11 روپے بڑھ گئی جو چار برسوں میں نہ بڑھی تھی۔ آج جب بحرِاوقیانوس کے دو طرفہ پانیوں میں دھلی صاف چلی شفاف چلی اس ملک دشمن لہرمیں تمام ریاستی ادارے باہم شیر و شکر ہیں توروپے کی قیمت کم ہوہوکر 160روپے فی ڈالررہ گئی ہے۔ ملک صرف دس ماہ میں انڈونیشیا بن کر رہ گیا ہے۔ قارئین کرام! کیا مزید کچھ لکھنے کی حاجت ہے۔ کیا اس میں کوئی صوفی منش رجل رشید ہے جو سرحدوں پر سینہ تانے سپاہیوں، کرنل، میجر، کپتان کی طرح میرے ملک کو بچائے۔ آرماگیڈن (Armageddin) آرماگیڈن!

مزید : رائے /کالم