رشین میڈیاکو وزیراعظم کا ایک انٹرویو

رشین میڈیاکو وزیراعظم کا ایک انٹرویو
رشین میڈیاکو وزیراعظم کا ایک انٹرویو

  


اگلے روز بشکیک (کرغستان) میں ”شنگھائی تعاون تنظیم“ کے 19ویں اجلاس میں وزیراعظم پاکستان نے شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کے بعض بنیادی مسائل حل کئے بغیر اس خطے کی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کو خرابی کی اصل جڑ قرار دیا، دہشت گردی کی مذمت کی، ثقافتی کاریڈار پر فوکس کرنے کو کہا اور چینی تجربات سے فائدہ اٹھانے کی بات کی۔ علاوہ ازیں روس، چین اور کرغستان کے صدور سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ان کے ساتھ تھے۔مودی سے ادب آداب کا تبادلہ بھی کیا جسے انگریزی میں Pleasantries کہا جاتا ہے۔ اس دورے سے ایک روز پہلے روسی میڈیا نے وزیراعظم کا ایک طویل انٹرویو کیا جس میں اس خطے کے اور نیز بہت سے بین الاقوامی معاملات پر بھی عمران خان کا نقطہ ء نظر جاننے کی کوشش کی…… ذیل میں ہم اس انٹرویو کے بعض اہم حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کر رہے ہیں:

سوال:کیا آپ کا روس کی وزٹ کا بھی کوئی پروگرام ہے؟

جواب:مجھے روس جا کر بے انتہا خوشی ہو گی۔ میں بہت پہلے ایک دفعہ ماسکو گیا تھا، مجھے امید ہے بشکیک میں صدر پوٹن سے ملاقات ہو گی۔

سوال:اس ملاقات سے آپ کو کیا امیدیں وابستہ ہیں؟

جواب:میرا خیال ہے یہ ایک غیررسمی ملاقات ہو گی۔ جب میں چین گیا تھا تو اس وقت بھی مختصر ملاقات ہوئی تھی۔ اس بار بھی غیر رسمی گپ شپ ہو گی۔ چین میں روسی وزیراعظم سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

سوال:رشین ملٹری نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ روسی ٹروپس اس سال کے اواخر میں پاکستانی فورسز کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے۔ آپ روس سے کس طرح کے عسکری تعاون کی امید رکھتے ہیں؟ کیا موجودہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے بھی کوئی پلان ہیں؟

جواب: بالکل ہیں۔ ہماری مسلح افواج کے تعلقات سے باہمی تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔ دفاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ روابط اور گہرے ہوں گے۔

1950ء، 1960ء ور 1970ء کے عشرے ہم نے سرد جنگ میں گزارے۔ ان میں انڈیا، سوویت یونین کے زیادہ قریب تھا اور پاکستان، امریکہ کے………… ہم مختلف کیمپوں میں تھے۔ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ انڈیا بھی امریکہ کا دوست ہے اور پاکستان کے بھی امریکہ سے دوستانہ تعلقات ہیں …… یعنی اب وہ سرد جنگ والی کیفیت باقی نہیں رہی۔ یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ ہمارے تعلقات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

سوال:آپ کا ملک ایک طویل عرصے تک امریکی ہتھیاروں کا خریدار رہا بلکہ سب سے بڑا خریدار رہا۔ لیکن اب اس ریجن میں روسی اسلحہ زیادہ توجہ کا حامل بنتا جا رہا ہے۔ کیا اسلام آباد، روسی اسلحہ خریدنے کا بھی کوئی پروگرام بنا رہا ہے؟ کیا آپ ایس۔400 ائر ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر غور کر رہے ہیں؟

جواب:جیسا کہ میں نے کہا ماضی میں ہم امریکہ سے بندھے ہوئے تھے اور انڈیا، سوویت یونین کے ساتھ وابستہ تھا۔یہ صورتِ حال اب نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہنی چاہوں گا کہ مجھے امید ہے کہ انڈیا کے ساتھ ہماری کشیدگی کم ہو جائے گی، اس لئے ہمیں زیادہ ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور ہم یہ رقم عوامی اور انسانی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنا چاہیں گے۔لیکن آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم بعض ہتھیاروں کی خرید کے لئے بھی روس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ ہماری فوج پہلے ہی روسی فوج کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت کر رہی ہے۔

سوال:کیا ایران۔ پاکستان گیس پائپ لائن کے سلسلے میں کوئی پیشرفت ہو رہی ہے؟ کیا آپ امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو یکسر ترک کرنے کا سوچ رہے ہیں؟

جواب:فی الوقت اس پراجیکٹ پر کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی کیونکہ امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

سوال:”شنگھائی تعاون تنظیم“ کے تناظر میں آپ روس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون دیکھ رہے ہیں؟

جواب:اس سلسلے میں ہماری بات چیت ہوئی ہے۔ ہم روابط کو مزید بڑھا رہے ہیں اور باہمی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔ پاکستان میں انرجی کی قلت ہے اس لئے ہم ان موضوعات پر بھی مذاکرات کی امید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بھی باہمی تجارت کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔

سوال:یہ دوسرے موضوعات کون کون سے ہیں؟

جواب:ہمارا ایک تجارتی وفد جلد روس جا رہا ہے اور ہم روسی تجارتی وفود کو بھی اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ایک رشین سٹیل کمپنی ہماری کراچی سٹیل مل میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ یہ مل روس نے ہی لگائی تھی۔ میرا خیال ہے یہ 1970ء کے عشرے کی بات ہے۔ ہم ان امکانات کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم اپنی ویزہ پالیسی پر بھی غور کر رہے ہیں،تاکہ باہر کے ملکوں کے لوگ جب پاکستان آئیں تو ائرپورٹ ہی پر ان کو ویزہ لگا دیا جائے۔

سوال:کیا یہ ممکن ہے کہ روس اور پاکستان باہمی ویزے کی پابندی بالکل ہی ختم کر دیں؟

جواب:جی ہاں ……پاکستان اسی جانب بڑھ رہا ہے۔ ہم طے کر چکے ہیں کہ 70ممالک کے باشندوں کو ائرپورٹ پر اترتے ہی ویزہ دے دیا جائے۔ قبل ازیں اسی قسم کا ہمارا کوئی معاہدہ کسی بھی ملک کے ساتھ نہیں تھا۔ لیکن اب ہم پاکستان کو سیاحت اور سرمایہ کاری کے لئے کھول رہے ہیں۔ باقی ممالک کے ساتھ بھی ہماری کوشش ہے کہ ویزہ رجیم کو آسان بنایا جائے۔ جن 70ممالک کو ائرپورٹ ہی پر ویزہ دے دیا جائے گا، ان میں روس بھی شامل ہے۔

سوال:اب ہم ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) کی طرف ایک بار دوبارہ رخ کرتے ہیں …… کیا اس تناظر میں آپ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کسی قسم کی بہتری دیکھ رہے ہیں؟

جواب:فی الحقیقت یہ تنظیم، ممبر ممالک کے مابین روابط کو فروغ دے رہی ہے۔ ماضی میں ہمارا جھکاؤ مغرب کی طرف تھا۔ اب ہم اس رجحان کو بوقلموں بنا رہے ہیں یعنی Diversifyکر رہے ہیں اور ان ممالک سے اور ان کی مارکیٹوں سے بھی تعلقات بڑھا رہے ہیں جن کے ساتھ قبل ازیں بس واجی سے اور برائے نام تعلقات تھے۔ یہ تنظیم (SCO) ہمیں تازہ مواقع فراہم کر رہی ہے اور ہم ان ملکوں کے ساتھ روابط کو مزید استوار کر رہے ہیں۔ اس میں انڈیا بھی شامل ہے۔ لیکن اس وقت انڈیا کے ساتھ ہمارے باہمی روابط تاریخ کی زیریں ترین سطح پر ہیں۔ اس آنے والے اجلاس میں انڈین لیڈرشپ کے ساتھ بات چیت کرنے کا شائد موقع ملے۔

سوال:کیا پاکستان، انڈیا کے ساتھ کسی بین الاقوامی ثالثی عمل میں بھی شریک ہونا چاہے گا اور کیا روس اس طرح کا کوئی ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے؟

جواب:پاکستان کسی بھی قسم کے ثالثی کردار کو خوش آمدید کہے گا کیونکہ پاکستان اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ ترقی کے لئے امن ناگزیر ہے۔ جب ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی ہو تو اس سے وسائل کا رخ کسی اور طرف ہونے لگتا ہے۔ یہی وسائل انسانوں پر خرچ ہو سکتے ہیں۔ بصورت دیگر یہی وسائل غیر پیداواری سرگرمیوں مثلاً ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ ہونے لگتے ہیں۔ ہم اپنے تمام ہمسایہ ممالک، بالخصوص انڈیا کے ساتھ پُرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہم نے بھارت کے ساتھ تین مختصر جنگیں لڑی ہیں اور ان سے دونوں ملکوں کو نقصان ہوا ہے۔ ہم برصغیر ہندو پاک میں دنیا بھر کے مقابلے میں زیادہ غربت اور افلاس دیکھ رہے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہم زیادہ سے زیادہ خرچ اس غربت کو دور کرنے پر کریں۔ اس لئے ہمارا فوکس امن پر ہونا چاہیے۔ اور ہمیں اپنے اختلافات، بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔ انڈیا پر ہمارا سب سے بڑا اختلاف کشمیر پر ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے سربراہ سرجوڑ کر بیٹھ جائیں اور دونوں حکومتیں چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انڈیا کی طرف سے ہمیں اس پر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔پھر بھی مجھے امید ہے کہ اب انڈیا کے وزیراعظم کو ایک بھاری مینڈیٹ ملا ہے تو اس برصغیر میں بہتر باہمی روابط کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

سوال:حال ہی میں میڈیا میں یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ ازبکستان، روس، افغانستان اور پاکستان کو ملانے کے لئے 700کلومیٹر ریل روڈ تعمیر کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ کیا اس پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے کوئی ٹائم لائن بھی طے کی گئی ہے؟ ……اس پراجیکٹ سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے یہ ایک عظیم پراجیکٹ ہے جس سے پورا ریجن کھل جائے گا اور یاد رکھیں پاکستان سے گوادر کے راستے یہ لنک سمندر تک جانے کا مختصر ترین راستہ ہے۔ ہم اس کے لئے کوئی ٹائم لائن اس لئے نہیں دے سکتے کہ اس کا انحصار فنڈز کی فراہمی پر ہے۔ دوسرا مسئلہ افغانستان میں قیامِ امن سے منسلک ہے۔ یہ ریلوے لائن افغانستان کے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہے۔

سوال:افغان صدر اشرف غنی جون کے اواخر میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ کون کون سے موضوعات ایجنڈے پر ہوں گے؟

جواب:ایک ہفتہ قبل سعودی عرب میں میری ملاقات صدر غنی سے ہوئی تھی۔ یہ بڑی مثبت بات چیت تھی۔ ہم نے بہت سے موضوعات پر بات کی مثلاً پاکستان اس خانہ جنگی کے حل میں کیا مدد کر سکتا ہے، طالبان کو کس طرح مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے اور افغانستان کا امن دونوں ملکوں کے مفاد میں کتنا اہم ہے۔ افغانستان کے بعد جس ملک کو وہاں امن کی زیادہ ضرورت ہے وہ پاکستان ہے۔ افغانستان میں جنگ ہوتی ہے تو ہمارا مغربی بارڈر بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مسئلہ جلد سے جلد حل ہو۔ طالبان، پہلے ہی امریکہ سے مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ وہاں امن قائم ہو۔ امن قائم ہو گا تو باہمی آمد و رفت بڑھے گی اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ یہ علاقہ پہلے روس اور پھر امریکہ کے ساتھ طویل جنگوں نے برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

سوال:آپ کے خیال میں ماسکو اس مسئلے میں کیا رول ادا کر سکتا ہے۔

جواب:روس اس سلسلے میں کئی اقدامات پہلے ہی اٹھا چکا ہے۔ ماسکو میں طالبان اور افغانستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان بات چیت ہو چکی ہے اور یہ بہت مثبت پیشرفت ہے۔ ماسکو اس میں اہم رول ادا کرسکتا ہے اور کر رہا ہے۔

سوال:آپ بین الاقوامی سامعین کو کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب:میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ دنیا کو باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہیے، دنیا کی غریب آبادیوں کی مدد کرنی چاہیے اور باہمی کشیدگیاں کم کرنی چاہیں۔ آپ یہ دیکھیں کہ آج مشرق وسطیٰ اور مسلمان ممالک میں کیا ہو رہا ہے۔…… میں ہمیشہ سے مجہولیت پسند (Pacifist) ہوں۔ ہمیں خون خرابہ نہیں چاہیے۔دنیا میں مسائل کے حل میں فوج کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے۔ گزشتہ 15،20برسوں کی جنگ میں جو اس نے امریکہ سے مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑی اس میں پاکستان کا بہت نقصان ہوا۔ ہمارے 70,000افراد موت کے گھاٹ اتر گئے اور اکانومی کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ میری حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ملکوں کو اپنے اختلافات دور کرکے امن کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

مجھے آپ تصور پرست (Idealist) بھی کہہ سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم