سی سی پی او بی اے ناصر کہیں نہیں جا رہے

سی سی پی او بی اے ناصر کہیں نہیں جا رہے
سی سی پی او بی اے ناصر کہیں نہیں جا رہے

  


سی سی پی او لاہور کی سیٹ دیانت دار اور اچھی خوبیوں کے حامل پولیس افسران کے لیے کانٹوں کی سیج جبکہ زرخیز افسران کے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں تاہم 24 گھنٹے یہ سیٹ کسی خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔اسے لاہورکی خوش قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ایک ایسے پولیس آفیسرسی سی پی او کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے جس نے اپنی پوری سروس کے دوران غیر سیاسی آفیسر کے طور پر شہرت پائی۔بشیر احمد ناصر (بی اے ناصر) کو ایماندار، بہادر، دیانت دار اور غیر سیاسی پولیس آفیسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

وہ ایک ایسے پولیس آفیسر ہیں جن پر آج تک کرپشن کا الزام نہیں لگا اور نہ ہی کبھی ان کے حوالے سے کسی قسم کا سیاسی ایجنڈا سامنے آیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں قائد آعظم محمد علی جناح کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے پوری کرتے ہیں جو انہوں نے سول سروس کے آفیسرز سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔سی سی پی او لاہور بی اے ناصر ایک ایماندار پیشہ وارانہ مہارت کے حامل اور محب وطن افسر ہیں۔اپنی تقریبا ایک سالہ تعیناتی کے دوران انہوں نے لاہور میں ریکارڈ کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔

ان کے دور میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت کئی ایک اہم شخصیات کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو نے کی پاداش میں سنگین دفعات کے تحت مقدمات بھی درج ہوئے ۔لاہور پولیس میں پائی جانیوالی عرصہ دراز سے خامیوں کا جڑ سے خاتمہ کیا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب سے انہوں نے تعیناتی حاصل کی ہے ایک مخصوص لابی جو کہ سابق حکمرانوں مسلم لیگ نون کی حمایت یافتہ ہے انہیں ڈرا دھمکا کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتی ہے ناکامی کی صورت میں اس مافیا نے سی سی پی او لاہور کو بلیک میل کرنے کے لیے ان پر تنقید شروع کررکھی ہے اور اپنے کئی ایک کالم میں انہیں برا بھلا کہا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے یہ مافیا لاہور میں امن کے خواہاں نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی میرٹ کی پالیسی کوملحوظ خاطر رکھنا چاہتے ہیں یہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں یہ اخبارنویس سابقہ ادوار میں پولیس میں پائی جانے والی خرابیوں کا باقاعدہ حصہ رہے ہیں۔ سابق سی سی پی او صاحبان ان کی بلیک میلنگ میں آ کر ان کے قریبی رشتے داروں کو نہ صرف من پسند جگہوں پر تعینات کرتے رہے، بلکہ یہ اپنے جائز ناجائز کام بڑے پرٹوکول سے کروانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ سی سی پی او لاہور بی اے ناصرنے ایسے دو نمبری کے ماہر دانشوروں کا اپنے دفتر میں داخلہ بند کر کے عوام پر تو احسان کیا ہی ہے مگر انھوں نے اپنے ماتحتوں کو بھی ایک بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ طاقت کا سر چشمہ یہ لوگ نہیں صرف اللہ تعالی کی زات ہے ایسے پولیس افسر کو خراج تحسین پیش نہ کر نا ان کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہو گا۔ بی اے ناصر واقعی ایک دبنگ ڈرنے اور جھکنے والے پولیس افسر نہیں ہیں اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ یہ مافیا جواپنی تحریروں کے ماہرکا لم نگارہیں اب بھی پنجاب کے کئی ایک بڑے افسران پر اپنا نفسیاتی دباؤ صرف اس لیے برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ وہ ان کے بڑے خیر خواہ ہیں۔

ان دانشوروں کا عالم یہ ہے کہ اگر سی سی پی او لا ہور ان کی ہاں میں ہاں ملادیں ان کے جائز ناجائز کام کرنا شروع کردیں تو یہ ہی سی سی پی کی خوبیوں کے گن گاتے نظر آئیں گے۔ اصل میں بی اے ناصر ایک سسٹم کا نام ہے اور انھوں نے ایمانداری سے کام کرنے کا جو حلف اٹھا رکھا ہے وہ اس کی پاسداری پر پیرا عمل ہیں انھوں نے سی سی پی او آفس سمیت لا ہور پو لیس میں پائی جانے والی ایسی تمام خرابیوں کا نہ صرف خاتمہ کردیا ہے بلکہ سابقہ ادوار میں یہاں اکھٹی ہو نیوالی سفارشی فوج ظفر موج کو بھی چلتا کیا ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک وقت میں سی سی پی او کا دفتر زمینوں پر قبضے اور دیگر غیر قانونی کاموں کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور یہ بلیک میلر ٹولہ بھی ان کا حصہ رہا ہے یہ ہی موصوف بی اے ناصر سے پریشان ہیں اور وہ آئے روز بی اے ناصر کے تبدیل ہو جانے کی افواہیں چھوڑ رہے ہیں سی سی پی او لاہور بی اے ناصر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق کام کر ہے ہیں اور انھیں لوگوں کی خدمت کرتے ایک سال گزرنے کے قریب ہے۔

فی الحال وہ کہیں نہیں جارہے۔ آئی جی پولیس پنجاب کی ہدایت کے مطابق لاہور پولیس اپنے تمام ٹارگٹ پورے کررہی ہے سی سی پی او لاہور جب سے تعینات ہوئے ہیں انہوں نے شہر میں ہونے والے تمام ایونٹس چاہے وہ الیکشن کا تھا محرم الحرام یا رمضان المبارک کے دن گزرے ہیں انہوں نے تمام مواقعوں پر خود کو ایک اچھا کمانڈر ثابت کیا ہے تمام معاملات کی نگرانی میں وہ پیش پیش رہے۔

لاہور پولیس ایک تسبیح کے دانوں کی مانند متحد نظر آتی ہے پہلی دفعہ شہر میں آپریشن اور انویسٹی گیشن ونگ کے افسران بغیر کسی دباؤ کے اپنے فرائض سرانجام دیتے پائے گئے۔ پولیس کا مورال بہت بلند ہوا۔یہاں جو بھی آتا ہے آخر اس نے تبدیل ہو کر ایک دن جانا ہی ہے لیکن اچھی خوبیوں کے حامل افسران کا نام ہمیشہ تا ریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھاجاتا ہے اس بات میں بھی کو ئی شک نہیں کہ بی اے ناصر کانام بھی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں ریاست کو جہاں میری ضرورت ہو گی میں وہاں اپنی ذمہ داریاں مکمل ایمانداری سے نبھاؤں گا۔

انہوں نے ہی پولیس فورس کی تنخواہوں میں اضافے کے لئے کوشش کی اور یہی وہ آفیسر ہیں جنہوں نے پولیس کا رسک الاؤنس بڑھانے کے لئے بھرپور کوشش کی اوراس جدوجہد میں بھی کامیاب رہے۔ انہیں پولیس ویلفیرکے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے پولیس کی ویلفئر کے لئے جتنے اقدامات کئے اس سے پولیس فورس کا مورال انتہائی بلند ہوا۔

انہوں نے لاہور پولیس کے شہدا کی فیملیز کو اپنی فیملی کی طرح عزت دی اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے ذاتی طور پر دلچسپی لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ایسا پولیس آفیسر تعینات ہو جو اپنی کارکردگی سے عوام کے دل جیتنا جانتا ہو تو اسے بھرپور سپورٹ کرنا بھی لازم ہے کیونکہ ایسے افسران ہی ہمیں اور ہمارے بچوں کو تحفظ کا احساس دلاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم