’’اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں بھی ایک خیر اور تعمیر کا پہلو ہے اور وہ یہ کہ ۔ ۔ ۔‘‘ حامد میر نے دل کی بات کہہ دی

’’اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں ...
’’اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں بھی ایک خیر اور تعمیر کا پہلو ہے اور وہ یہ کہ ۔ ۔ ۔‘‘ حامد میر نے دل کی بات کہہ دی

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور مختلف لوگ اپنے اپنے دکھڑے سنارہے ہیں، ایسے میں تحریک انصاف کے کچھ کارکنان بھی دلبرداشتہ ہیں اور اب سینئر صحافی و کالم نویس حامد میر نے بھی اس پر روشنی ڈالی ۔ 

انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ سیالکوٹ میں شادی کی ایک تقریب میں موجود تھا جہاں ایک کاروباری شخصیت موجودہ صورتحال پر مطمئن دکھائی دی اور سوال کرنا چاہا لیکن انہیں اپنے ہی کاروباری دوستوں سے جواب مل گیا، ایک ہی گھرانے میں موجود ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ووٹر باپ بیٹا بھی موجود تھے لیکن بیٹا اب پشیمان تھا۔ روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ ’’ایک صاحب نے ماتمی لہجے میں کہا ہم تو کہیں کے نہ رہے، لٹ گئے، برباد ہو گئے، کاروبار تباہ ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں، کدھر جائوں؟ پھر انہوں نے اپنے نوجوان برخوردار کو آواز دی۔ جون کی گرمی میں سوٹ ٹائی پہنے ایک خوبصورت نوجوان گود میں دو سال کی پیاری سی بچی اٹھائے والد صاحب کے سامنے حاضر ہو گیا۔ بچی نے دادا کو دیکھا تو باپ کی گود سے چھلانگ مار کر دادا کے کندھے سے جا لگی۔ مضطرب اور پریشان دادا کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے قدرے اطمینان سے اپنے بیٹے کو کہا ’’ذرا میر صاحب کو بتائو کہ پچھلے سال کے عام انتخابات میں آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا؟‘‘ بیٹے نے جھکی جھکی نظروں کیساتھ کہا کہ میں نے اور امی جان نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، ابو نے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیا تھا۔ ابو نے پوتی کا گال چومتے ہوئے برخوردار سے کہا کہ اب ذرا یہ بھی بتائو کہ کیا پاکستان میں استحکام آگیا ہے؟ کیا عمران خان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے؟

بیٹے نے اپنی پیشانی سے پسینے کے قطروں کو رومال سے پونچھا اور انگریزی لہجے میں اردو بولتے ہوئے کہا کہ میں نے عمران خان کو اسلئے ووٹ دیا تھا کہ اس نے ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ہمیں نیا پاکستان دینے کی بات کر رہا تھا۔ اُس نے ہمیں جو خواب دکھائے وہ خود ہی توڑ دیئے اُس نے جو وعدے کئے وہ خود ہی توڑ دیئے۔ نوجوان نے کہا کہ 2011ءمیں وہ برطانیہ میں پڑھتا تھا اور والد کہہ رہے تھے کہ وہیں بزنس شروع کر دو پاکستان واپس نہ آئو لیکن میں اکتوبر 2011ءمیں مینارِ پاکستان لاہور کے سائے میں عمران خان کی تقریر سے متاثر ہو کر پاکستان واپس آ گیا۔ اُس زمانے میں خان صاحب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈاکو اور زرداری کو سب سے بڑی بیماری قرار دیتے تھے۔ 2014ءمیں عمران خان نے اسلام آباد میں نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا تو میں اپنے دوستوں کیساتھ کئی دن تک اس دھرنے میں شریک رہا۔ 2018ءمیں ہم نے بڑی بے لوثی کے ساتھ تحریک انصاف کو صرف ووٹ ہی نہیں دیا بلکہ انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا لیکن پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب عمران خان نے پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا۔

پھر جھٹکے پر جھٹکا لگتا رہا اور سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کا وزیر خزانہ حفیظ شیخ ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کے دعویدار عمران خان کا مشیر خزانہ بن گیا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ اب عمران خان معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دے گا لیکن جس دن بجٹ آنا تھا اُس دن ہمیں اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں کی خبریں مل رہی تھیں۔ زرداری تو پہلے بھی کئی سال جیل کاٹ چکا ہے اُس سے پرویز مشرف ایک روپیہ نہیں نکلوا سکا تو عمران خان کیا نکلوائے گا؟ ہماری حکومت اور معیشت کی حالت ہماری کرکٹ ٹیم جیسی ہو چکی ہے وزیراعظم کا کچھ پتہ نہیں کس وقت کیا تقریر کر دے، کس وقت کون سا وعدہ توڑ کر یوٹرن پر اترانے لگے۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ہماری کرکٹ ٹیم کبھی کبھار دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو شکست بھی تو دے ڈالتی ہے۔ اُس نے بہت تلخ لہجے میں کہا کہ کرکٹ میں ہار جیت سے پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا، کرکٹ ٹیم جیت جائے تو ہم بھی ناچتے ہیں لیکن ہمارے ناچنے سے ڈالر کی قیمت تو نیچے نہیں آئیگی اسلئے عمران خان کو اب کرکٹر بن کر نہیں وزیراعظم بن کر سوچنا چاہئے۔

اس نوجوان کی گفتگو سن کر میں خاموش رہا لیکن میرے اندر یہ اطمینان پیدا ہوا کہ اس وقت ہمیں پاکستان میں جو افراتفری، مہنگائی اور خوف نظر آرہا ہے اس میں بھی ایک خیر اور تعمیر کا پہلو ہے اور وہ یہ کہ بڑے بڑے لوگوں کا چھوٹا پن تیزی کیساتھ سامنے آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے وہ رہنما جنہوں نے صرف ایک سال پہلے علی جہانگیر صدیقی کی امریکا میں بطور سفیر تقرری کو مسلم لیگ(ن) کی اقربا پروری قرار دیا تھا اُسی تحریک انصاف نے علی جہانگیر صدیقی کو اپنی حکومت کا سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری بنا ڈالا ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اسے کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا تو تحریک انصاف کے حامی کہیں گے کہ کیا صرف ہم تھوک کر چاٹتے ہیں؟ جی نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی والے بھی تھوک کر چاٹتے ہیں۔ جس طرح عمران خان کہا کرتے تھے کہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی کہتے تھے کہ نواز شریف مودی کا یار ہے۔ مریم نواز اپنے جلسوں میں زرداری عمران بھائی بھائی کے نعرے لگواتی تھیں۔ اب ان دونوں کے والد صاحبان گرفتار ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے دستر خوان کو رونق بخش رہے ہیں۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں تو ٹھہریں پرانے پاکستان کی نمائندہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی طاقتیں۔ یہ اپنا تھوکا چاٹ کر نئے پاکستان کا نعرہ نہیں لگاتیں نئے پاکستان کا نعرہ تو عمران خان نے لگایا تھا۔ کیا وہ حفیظ شیخ اور علی جہانگیر صدیقی کیساتھ مل کر نیا پاکستان بنائیں گے؟ مان لیں کہ آپ بھی وہی ہیں جو ماضی کے حکمران تھے‘‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ اس ناچیز کو ملکی حالات پر کوئی پریشانی کیوں نہیں؟ بڑے بڑے سیاستدان گرفتار کئے جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے مزید سیاستدانوں کو گرفتار کر لیں۔ کچھ صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیں۔ الٹا لٹکانے اور پھانسیاں لگانے کی خواہش بھی پوری کر لی جائے۔ کرپشن اور غداری کے الزامات میں سے جو نکالنا ہے اب نکال ہی ڈالیں۔ جو نچوڑنا ہے وہ نچوڑ لیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کرپشن اور غداری کے غلغے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آخر کب تک آپ لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کراتے رہیں گے کہ اس ملک کی معیشت کو نواز شریف اور زرداری نے تباہ کیا؟ آخر کو لوگ بھی تو پوچھیں گے نا کہ ٹھیک ہے نواز شریف اور زرداری لٹیرے تھے لیکن آپ لٹیروں کے ساتھیوں کو حکومت میں شامل کر کے بھی معیشت کیوں نہیں سنبھال پا رہے؟ کرپشن اور غداری کے الزامات کا بیانیہ نیا نہیں بہت پرانا ہے لیکن اس دور میں یہ بیانیہ اپنے آخری سانسوں پر ہے۔ اس بیانئے سے نجات میں پاکستان کا بہت فائدہ ہے لہٰذا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے‘۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد