پاکستانی دلہنوں کےساتھ غلاموں جیسا سلوک

پاکستانی دلہنوں کےساتھ غلاموں جیسا سلوک
 پاکستانی دلہنوں کےساتھ غلاموں جیسا سلوک

  


پاکستان کے ایک گائوں میں رہنے والی سائرہ جو کچھ سال قبل شادی کے بعد شمالی انگلستان آئی تھی اپنے سسرال میں ظلم و ستم سہنے کے بعد اپنے دو ماہ کے بچہ اور پاسپورٹ ویزا کے کاغذات سے محروم چھ ہزارمیل دور اپنے والدین کے گھر میں اذیت ناک دن گزاررہی ہے ۔سائرہ اکیلی نہیں اس جیسی سینکڑوں پاکستانی خواتین برطانیہ میں اپنے سسرال کے ظلم و ستم کا نشانہ بنکر اپنے بچوں اور شوہروں سے محروم ہوچکی ہیں سائرہ کی شادی مارچ 2008 میں ہوئی تھی جبکہ اسکی عمر 18 برس تھی اکتوبر 2008 میں وہ دسمبر 2010 تک کے عارضی ویزہ پر شمالی انگلستان گئی تھی امیگریشن قوانین کے تحت اسکے شوہر کو سائرہ کے برطانیہ میں غیرمعینہ مدت کے قیام کےلیے درخواست دینی چاہیے تھی لیکن اس نے یہ درخواست نہیں دی اسکے شوہر نے اسکی کوئی وجہ نہیں بتائی تھی سائرہ کاکہنا ہے کہ اسکے برطانیہ آتے ہی اسکی ساس اور اسکی نندوں نے اس سے بدسلوکی شروع کردی اور اسکاپاسپورٹ چھین لیا اس دوران سائرہ نے جب اپنے شوہر کے رات کودیر سے گھر آنے پراعتراض کیا تو اسکے شوہر نے اسے بری طرح ماراپیٹا اور زودکوب معمول بن گیا سائرہ کاکہنا ہے کہ اس سے غلاموں کطرح گھر کاکام لیا جاتا تھا اور اسے گھرمیں عملی طورپرنظربند کردیاگیا تھا اسے اکیلے گھر سے باہر نہیں جانے دیا جاتا تھا اور نہ ہی اکیلے میں کسی کو فون کرنے دیاجاتاتھا برطانیہ آنے کے سات ماہ بعد وہ پریگنٹ ہوگئی اور وقت سے دو ماہ قبل اسکے ہاں بچہ پیدا ہوا ڈاکٹروں نےجب یہ خطرہ ظاہرکیا کہ سائرہ آئندہ بچہ پیدا کےقابل نہیں رہےگی تو سسرال والوں اسکے ساتھ رویہ اور بدترہوگیا ۔چند ہفتوں بعد اسکاشوہراور سسر اسے ایک طرف کے ٹکٹ پرپاکستان لےآے اور گاوءں میں اسے اسکے والدین کے گھر میں چھوڑگے سائرہ کے دو ماہ کے بچہ کواسکے ساتھ پاکستان نہیں جانے دیاگیاتھا اور اس سے اسکا وہ پاسپورٹ بھی چھین لیاگیا جس پر برطانیہ کاویزا لگا ہوا تھا سائرہ کے اس دردناک واقعہ کو بتانے کا مقصد ان سینکڑوں پاکستانی خواتین کی حالت زار کواجاگرکرناہے جو پاکستان سے خاص طور پر دیہاتوں سے شادی کےبعد وہاں اپنے سسرال والوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہیں اور ان سے انکے بچے چھین کر انہیں امیگریشن کے کاغذات سے محروم لاوارث چھوڑ دیاجاتا ہے گزشتہ سال میں ایسی 500 خواتین کی شادیاں خراب ہوئیں جن میں سے بیشترخواتین کو ملک بدر کیاگیا کیونکہ انکے لیے یہ ثابت کرنا مشکل تھا کہ انکے ساتھ تشدد اور زیادتی ہوئی ہے وزارت داخلہ کے قواعد کے مطابق ایسی خواتین جنکی شادیاں دوسال کے اندراندر گھریلو تشددزیادتی کی وجہ سے ختم ہوجائیں تو وہ برطانیہ میں غیرمعینہ مدت کے قیام کی مجاز ہوجاتی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ پاکستانی دیہاتوں سے جانے والی بیشتر ان کو انگریزی نہیں آتی اور انہیں قواعد و قوانین کاعلم نہیں ہوتا ۔ان قواعد کےتحت ان حالات میں 980 خواتین نے برطانیہ میں قیام کی درخواست دی تھی جن میں سے صرف 470 خواتین کوبرطانیہ میں قیام کی اجازت دی گئی برطانیہ میں پاکستانی بہووءں پرساس سسر کے ظلم وستم کی نمایاں مثال بلیک برن کی نصیبہ بی بی کی ہے جنہیں عدالت نے اپنی 3 بہووءں کو گھر میں غلاموں کی طرح نظربند رکھنے کےجرم میں سات سال قیدکی سزا دی تھی پولیس اور امدادی تنظیموں کاکہنا ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی خاندانوں میں ساس سسر کے ظلم و ستم کامعاملہ سنگین ہے اور انہیں تشویش ہے کہ بہت سے معاملات منظرعام پرنہیں آتے کیونکہ ظلم و ستم سہنے والی خواتین کو خاندانی دباوء کاسامنا کرناپڑتا ہے یا پھر انہیں انتقامی کارروائی کاخطرہ ہوتا ہے شمالی انگلستان ہی کی ایک 20 سالہ لڑکی نسرین نےبتایا کہ اسکی ساس نے متواتر تین سال تک گھر میں قید رکھا اسکا کہنا تھا کہ اسے صبح سویرے اُٹھ کرپورے گھر کی صفائی کرنا پڑتی ، کپڑے دھونے پڑتے اور پھر پورے گھر والوں کےلیے کھاناپکانا پڑتا تھا سارا دن وہ گھر میں نظر بند رہتی تھی اور اس دوران اسے ٹیلی وژن تک دیکھنے نہیں دیاجاتا تھا اسکا کہنا تھا کہ اس نے دوبار خودکشی کی کوشش کی اور آخرکار اس وقت گھر سے بھاگنے میں کامیاب ہوئی جب اسکی ساس اسکے بیڈ روم کا دروازہ مقفل کرنا بھول گئی تھی ۔اس مسئلہ کادوسرا سنگین پہلو یہاں پیدا ہونے والی پاکستانی لڑکیوں کو زبردستی پاکستان لےجاکر انکی جبری شادیوں کامسئلہ ہے ایک بڑی تعداد وہاں چونکہ پاکستان کے دیہاتوں سے تعلق رکھتی ہے اور اب بھی انکے ہاں لڑکیوں کی شادیاں اپنی برادری اور اپنے قبیلے میں کرنے کی ریت ہے لہذا ان لڑکیوں کی پاکستان میں جبری شادی کی کوشش کی جاتی ہے متعدد ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ لڑکیاں ایسی جبری شادیوں سے بچنے کےلیے گھروں سے فرار ہوگئیں ۔بہت سی لڑکیوں نے جنہیں ذبردستی پاکستان لایا جارہا تھا ہوائی اڈاہ پر پولیس کی مدد طلب کی ہے یہی وجہ ہے کہ 2008 میں ایسی جبری شادیوں کے خلاف قانون نافذ کیاگیا جسکے تحت جبری شادیاں کرانے والوں کو دوسال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے گو یہ مسئلہ سنگین ہے لیکن پاکستان سے برطانیہ جانے والی دلہنوں کا مسئلہ اس سے کہیں سنگین ہے جو سسرال میں غلاموں جیسی زندگی بسرکرنے پرمجبور ہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید : بلاگ