سلیکٹڈ لاک ڈاؤن شروع!

سلیکٹڈ لاک ڈاؤن شروع!

  

لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں کورونا متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی روشنی میں بالآخر 20بڑے شہروں میں سلیکٹڈ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرکے اس پر عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ لاہور کے حوالے سے اطلاع تشویشناک ہے کہ یہاں شہریوں کی لاپرواہی کی وجہ سے متاثرین کی تعداد میں معتدبہ اضافہ ہو گیا، اب اس ایک شہر کے نو بڑے علاقے سخت لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں، ان میں ڈیفنس جیسے پوش علاقے کے بھی چار پانچ بلاک شامل ہیں جبکہ واپڈا ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور مصطفے ٹاؤن کے ساتھ ہی شاد باغ، شاہدرہ اور سمن آباد بھی ہیں، یوں شہر کے سارے کونے ہی لاک ڈاؤن کی زد میں آ گئے، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق یہ لاک ڈاؤن دو ہفتے کے لئے ہے اور جہاں جہاں یہ ہوا، وہ تمام علاقے بند رہیں گے، کسی کو گھر سے باہر بھی نکلنے نہیں دیا جائے گا۔ ڈاکٹر یاسمین کے مطابق اگر شہری احتیاط کرتے تو یہ نوبت نہ آتی، یہ لاک ڈاؤن گزشتہ شب سے شروع اور دو ہفتوں کے لئے ہے، اس پر عمل درآمد کے لئے رینجرز کی بھی مدد لی جائے گی، اتنی رعائت کی گئی ہے کہ دودھ دہی اور کریانہ کی دکانیں کھلی رہیں گی، تاہم ان سے سودا خریدنے والوں کو احتیاطی تدابیر مکمل طور پر اختیار کرنا ہوں گی، جہاں تک سنجیدہ فکر حضرات کا تعلق ہے تو ان کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا، بلکہ کہا جا رہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن ہی سے دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ میں کمی آئی اور اب وہاں نرمی برتی جا رہی ہے، لیکن ہمارے ملک میں ابتدا نیم دروں، نیم بروں والی تھی، حالانکہ شروع میں چار ہفتوں کے لاک ڈاؤن سے نرمی والی نوبت آ سکتی تھی، اب خود حکومتی وزرا بلکہ وزیراعظم شدید پھیلاؤ کی خبر سناتے ہیں اور ساتھ ہی نرم رویے کی بات کر دیتے ہیں، اب اگر موجودہ سلیکٹڈ لاک ڈاؤن کو ہی دیکھیں تو عملی طور پر متاثرہ شہروں کے بڑے حصے بند ہوں گے جب لوگوں کو گھروں سے نہیں نکلنے دیا جائے گا تو وہ کاروبار یا ملازمت کیسے کر سکیں گے؟، اس لئے حکومت اور ذمہ دار اداروں کو پھر سے طبی ماہرین کی آراء کی روشنی میں فیصلے کرنا چاہئیں جن سے عارضی نہیں، مستقل حل ہو، خود ہی کہا جا رہا ہے کہ کورونا کے ساتھ رہنا ہوگا، اگر ایسا ہی ہے تو پہلے اس کی شدت کو اس حد تک لے آئیں کہ معاشی اور سماجی سرگرمیاں آپ کے مرتب کردہ قواعد کے مطابق بحال ہوں۔

مزید :

رائے -اداریہ -