سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

  

دور حاضر میں عصر حاضر کی سب سے اہم شے، کورونا وائرس کے بارے میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا، دنیا کے 200سے زائد ممالک اس عفریت کا شکار ہیں سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں بلکہ بات لاکھوں تک جا پہنچی ہے چند ہی مہینوں کے اندر اندر اس نادیدہ بلاء جان نے انسانی عظمت اور بڑھائی کے بت کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے صدیو ں سے کی گئی ترقی، اعلیٰ ذہنی و جسمانی کاوشوں سے کھڑی کی گئی عظمت اور سطوت کی عمارت کو دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس کر دیا ہے جدید نیو کلیئر اور الیکٹرانک ہتھیاروں سے لیس دنیا کی ترقی یافتہ اقوام ویکسین کے چند قطروں کی محتاج بنی نظر آتی ہیں نادیدہ وائرس کا تریاق، ویکسین ابھی تک کسی کے قبضے میں نہیں آ سکا ہے جی ہاں کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں آ سکا ہے باتیں ہم یعنی انسان خلاؤں کی تسخیر کی کرتا رہا ہے زیر تعمیر سمندر کی دنیا آشکار کرنے پر نازاں ہے لیکن قدرت کے ایک ہی وار نے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی ہے ویسے تو قرآن نے پہلے ہی حضرات انسان کو اس کی اوقات بتلائی ہوئی ہے کہ وہ ایک اچھلتے ہوئے قطرے کی پیدائش ہے لیکن وہ بھول جاتا ہے غرور کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے خالق حقیقی اسے اس کی اوقات یاد دلاتا رہتا ہے کورونا ایسی ہی ایک یا د ہے لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارا قدرت کی اس دیکھی بھالی، نظر آتی، چلتی پھرتی، حملہ کرتی نشانی کے بارے میں بھی اتفاق رائے نہیں ہے اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے،

اس سے کیسے نمٹنا ہے، اس سے کیسے بچنا ہے، ان باتوں بارے بھی یکسوئی نہیں ہے کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان معاملات ہموار نہیں ہیں۔ حالانکہ کورونا کی ہلاکتیں دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہیں ہماری آنکھوں کے سامنے کورونا تباہی پھیلا رہا ہے لیکن ہم بنیادی احتیاط کرنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آ رہے ہیں ان پڑھ اور دیہی عوام کی بات نہیں لاہور شہر جیسے ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ شہر کے باسیوں کا رویہ اس حوالے سے انتہائی مایوس کن ہے سماجی، فاصلہ قائم رکھنا ہو یا ماسک کا استعمال، پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب ہو یا غیر ضروری میل ملاقات سے پرہیز ہم کسی بات پر بھی عمل کرتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ٹوٹکے چل رہے ہیں ثنا مکی جو 200روپے کلو تھی اب شاید 2000روپے کلو میں بھی دستیاب نہیں کیونکہ لوگ سمجھ رہے کہ یہ کورونا کا تیز بہدف علاج ہے اسی طرح کی اور الم غلم اشیاء کے بارے میں بھی ہمارا رویہ ایسا ہی ہے۔

ایسے ماحول میں بجٹ 2020-21آیا ہے وفاقی ہو یا صوبائی اس بارے میں بھی قومی یکجہتی اور یکسوئی نہیں پائی جاتی اس بارے میں تو شک نہیں ہے کہ ہماری معاشی صورت حال بہتر نہیں تھی کورونا سے پہلے بھی اقتصادی معاملات درست نہیں تھے اقتصادی نمو کی شرح گھٹ رہی تھی معیشت کے مختلف شعبے گراوٹ کا اظہار کر رہے تھے ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے ایسے میں کورونا کی وبا نازل ہو گئی اور اس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی، کمزور ہوتی معیشت کو اور بھی کمزور کر دیا اسی حملہ آوری کے نتیجے میں معاشی نمو کی شرح گھٹتے گھٹتے منفی ہو گئی یہ ایک فطری منظر ہے کیونکہ کورونا کے باعث عالمی معیشت سکڑ گئی ہے اور پاکستان کیونکہ عالمی معیشت کا حصہ ہے اس لئے اس پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے تھے اور ہوئے ہیں یہ منفی اثرات معاشی سال 2021ء میں بھی دیکھے جائیں گے معیشت کی بحالی کے امکانات بہت کم ہیں لیکن ہمارا اس پر بھی اتفاق رائے نہیں ہے بجٹ پر تنقید جاری ہے۔ مراعات کی باتیں ہو رہی ہیں سہولیات بارے بجٹ و مباحثے ہو رہے ہیں کہ بجٹ میں ان کا خیال نہیں رکھا گیا ہے، اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا ہے کیونکہ ہم اس کے مقروض ہیں اس کا دیا ہوا کھا رہے ہیں اس کی سپورٹ کے ذریعے ہی ہمارا دال دلیا چل رہا ہے ہمارے قرضے پھل پھول رہے ہیں اور ہم مزید قرضے لے کر اپنی معاش کو دھکا دے رہے ہیں اس نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں میں اضافہ نہیں ہو گا اور ایسا ہی ہوا۔ ایک شور اٹھا کہ بیچارے ملازمین پہلے ہی مہنگائی کے مارے ہوئے ہیں اس پر ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کر کے ظلم کیا گیا ہے۔

بادی النظر میں یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ سرکاری ملازمین بالخصوص چھوٹے سکیل کے سرکاری اہلکاروں کے روز و شب پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں افراط زر، اقدار زر میں کمی نے پہلے بھی ان کی کمر توڑ رکھی ہے اس پر مستزاد تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونا بظاہر ظلم نظر آتا ہے لیکن دوسری طرف قومی معیشت کی ابتر صورتحال کو دیکھیں،گزرے چھ مہینوں سے کاروبار زندگی معطل ہے، پوری دنیا پر کورونا کے بادل چھائے ہوئے ہیں، معاشی سرگرمیاں معطل ہیں پیدائش دولت کے ذرائع مکمل طور پر منجمند ہو گئے ہیں عالمی سطح پر بے روزگاری پھیل چکی ہے کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں پاکستان میں حالات پہلے سے ہی خراب ہیں حکومت پریشان ہے اس کے وسائل کم ہیں اخراجات زیادہ، اب کہاں اس بجٹ کی گنجائش نہیں، حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں لیکن کیسے؟اس بارے میں بھی متضاد آراء پائی جاتی ہیں فکری انتشار پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ حکومتی وسائل محدود اور اخراجات بہت زیادہ ہیں عالمی اور لوکل قرضوں کی اقساط کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد بہت کم مالی وسائل بچ رہتے ہیں کہ جنہیں قومی تعمیر و ترقی میں لایا جا سکے۔ ایسے ماحول میں حکومت نے سرکاری ملازمین کو گھر بٹھا کر تنخواہیں دی ہیں اور دے رہی ہے کیا یہ ایک قابل ستائش عمل نہیں ہے کہ حکومت نے اپنے ملازمین کو جیسے تیسے بھی ہے برسر روزگار رکھا ہوا ہے ان کی تنخواہیں اور پنشن دی جا رہی ہیں جبکہ پوری دنیا میں لے آف کا دور دورہ ہے سرکاری ملازمین کی موجودہ تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتی کی تجاویز بھی زیر بحث لائی گئی تھیں لیکن سرکار نے ان پر عمل نہیں کیا وگرنہ اگر حکومت اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتیوں کا فیصلہ کر لیتی تو ہم کیا کر لیتے؟ ہمیں حکومت کی اس پالیسی پر اس کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے جیسے تیسے بھی ہے ملازمین کی جاری تنخواہوں اور مراعات پر کٹ نہیں لگایا ہے وگرنہ قومی معیشت کی جو جاری صورتحال ہے اور جس کے مستقبل قریب میں بہتری کے امکانات بھی نہیں ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ شاید معاملات اور بھی گھمبیر صورت اختیار کر لیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت کی نزاکت کو سمجھیں۔ جاری اقتصادی صورتحال بارے غور و فکر کریں ہم بحیثیت قوم ہی نہیں بلکہ بحیثیت نوع انسانی ایک ہنگامی اور انہونی صورتحال سے گزر رہے ہیں یہ خطرناک اور ناقابل بھروسہ حالات ہیں بنی نوع انسان اپنی تاریخ کے انتہائی غیر معتبر حالات سے گزر رہی ہے یہ زندگی و موت کا کھیل ہے انسان بمقابلہ قدرت ہے جس میں انسان مقابلہ جیت نہیں سکتا، ہمیں اس بارے میں تدبر سے کام لینا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -