کورونا!ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی

کورونا!ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
کورونا!ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی

  

ملک میں جس تیزی کے ساتھ کورونا وبا پھیل رہی ہے پاکستان کے ہر شہری کو اس پر تشویش ہے کہ ایک تو ویسے ہی ہمارا شعبہ صحت کسمپرسی کا شکار ہے اس پر اس جان لیوا وبا کا پھیلاؤ اور ہماری حکومت کی فہم وفراست سے بالاتر پالیسیاں عوام کی بے چینی میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ اگلے روز وزیر منصوبہ بندی اور سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر اسد عمر نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ماہ رواں جون میں کورونا کیسز کی تعداد تین لاکھ جبکہ اگلے ماہ جولائی میں یہ تعداد بڑھ کر 12لاکھ تک ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو صحت کا نظام مفلوج ہوسکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اول تو ہمارا شعبہ صحت پہلے ہی اپاہج تھا اور اگر مفلوج ہوگیا تو پھر ملک اورقوم کا کیا بنے گا۔ حکومتی اعلی عہدیداروں کو چاہیے کہ جہاں وہ اس قسم کے مایوسی اور مضطرب کرنے والے بیانات سے نوازتے ہیں تو وہاں اس کے سد باب کے لئے کی گئی حکومتی کوششوں کا بھی ذکر کردیا کریں تاکہ عوام میں بے چینی اور مایوسی نہ پھیلے۔ مذکورہ بیان میں اسد عمر نے کورونا کے پھیلاؤ کی ذمہ داری بھی احتیاط کی صورت میں عوام کو سونپی ہے یہ نہیں بتایا گیا کہ حکومت اس سلسلے میں کیا اقدامات کررہی ہے۔ بجٹ ہو یا کورونا وبا ہمارے ارباب اختیار ہمیشہ اعداد و شمار کی ایسی کہکشاں منور کرتے ہیں جس کی روشنی عوام کے لیے لا متناہی مسائل کی تاریکیوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہے اور موجودہ حکومت کا تو یہ طرہ امتیاز بنتی جارہی ہے اگر محترم وزراء کے بیانات دیکھیں تو وہ اپنے مخالفین کے خلاف طمطراق سے جاری کئے جاتے ہیں مگرڈھونڈنے سے بھی ان میں عوامی مسائل کے حل کی کوئی بات نہیں ملے گی۔

ویسے بھی اس حکومت کے اقتدار کو تقریباً دو سال ہونے کو ہیں اس عرصہ میں یا تو ہم نے وزراء کے ارشادات سنے یا پڑھے ہیں یا پھر محترم وزیرا عظم کے خطابات جو سننے کی حد تک توبڑے بھلے لگتے ہیں مگر جب مطلب نکالتے ہیں تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جہاں تک کورونا وبا کا تعلق ہے توعالمی سطح کی طرح پاکستان میں بھی اس پر سیاست کی جارہی ہے۔ امریکہ اورچین ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں تو پاکستان میں حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ جہاں تک حزب مخالف کا تعلق ہے تو اس کا یہ حق ہے کہ وہ حکومت کی خامیوں پر نکتہ چینی کرے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ٹھوس اور مثبت جواب دے جو ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا۔عالمی سطح پر ایک نئی بحث بھی جاری ہے کہ معروف تعلیمی درسگاہ ہاورڈ یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کا آغاز گزشتہ برس کے ماہ اگست کے اوائل میں ووہان سے ہوا جوچین کی حکومت کے علم میں تھا مگر اس نے اسے ظاہر نہیں ہونے دیا جبکہ چین نے اسے سختی سے مسترد کر دیا ہے اور چین کے بقول وبائیں چھپ نہیں سکتیں اور نہ ہم نے اسے چھپانے کی کوشش کی۔ چین کے مطابق یہ وباء دسمبر2019ء کے شروع میں سامنے آئی اس بحث کے قطع نظر حیران کن بات یہ ہے کہ کورونا کا وائرس 20سیکنڈ کسی بھی عام صابن سے ہاتھ دھونے پر مر جاتا ہے

اور دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک ابھی تک اس کی ویکسین تیار نہیں کر سکے۔ جس سے ان خدشات کوتقویت ملتی ہے کہ کہیں اس ویکسین کی تیاری بھی عالمی سطح پر سیاست کی بھینٹ تو نہیں چڑھ رہی اور اگر ایسا ہے تو یہ عالم انسانیت کے خلاف ایک ناقا بل معافی جرم ہے۔ ادھر اس وباء کے پیش نظر 88برس قبل 1932ء میں قائم آل سعود کی حکومت پہلی بار اس سال حج منسوخ کرنے پرسنجیدگی سے غور کررہی ہے جبکہ بعض اسلامی ممالک جن میں دنیا کے سب سے بڑی آبادی والا مسلم ملک انڈونیشیا اور ملائشیا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کو وہ اس سال اپنے اپنے ملکوں کے عازمین حج کو فریضہ حج کے لئے نہیں بھیجیں گے اوربھارت کی حج کمیٹی نے بھی اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اس سال حج کی ادائیگی کے لئے عازمین حج کو بھیجنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں اس مرحلہ پر دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور اس موذی وباء کا حج سے پہلے خاتمہ کردے۔ (آمین)

دریں اثناء عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں کم ٹیسٹنگ کے باوجود آبادی کے تناسب سے کورونا کے مریضوں کی تعداد برطانیہ کے برابر اور جرمنی سے چھ گنا زیادہ ہے جو خاصی پریشان کن ہے۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہرلاہور ہے جہاں 26ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور اس تعداد میں مزید اضافہ کے امکانات ہیں جبکہ ضلع چکوال سب سے کم متاثرہ ضلع ہے جہاں اب تک 59افراد متاثر ہوئے ہیں اور کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا لاہور کے بعد دوسرا نمبر ضلع روالپنڈی کاہے جہاں چار ہزار 145افرادمتاثر ہوئے ہیں اوراموات 205 ہیں، تیسرا فیصل آباد جہاں 3667افراد متاثر ہوئے اور 89افراد جان کی بازی ہار گئے چوتھا ملتان جہاں 3636افراد متاثر ہوئے ہیں اور 90 اموات جبکہ گوجرانوالہ میں 2 ہزار62مریض اور کورونا سے اموات 47ہیں۔ چکوال کے بعد دوسرے نمبر پر کم متاثرہ ضلع پاک پتن ہے جہاں کورونا کے 102مریض ہیں اور کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔ عالمی سطح پر برونڈی کے پیری کورنزز(Pierre Nkurunzizas)کسی بھی ملک کے پہلے صدر ہیں جو کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے ان کی اہلیہ بھی کورونا کے علاج کے لیے ہسپتال میں زیر علاج ہیں وہ اس سال اگست میں سبکدوش ہونے والے تھے۔ ادھر کورونا سے حال ہی میں نجات حاصل کرنے والے ملک نیوزی لینڈ میں رگبی مقابلہ 43ہزار تماشائیوں نے اکھٹے بیٹھ کر دیکھا۔

خدا کرے ہمارے حکمران بھی کورونا کے حوالے سے ٹھوس، مربوط اورموثر اقدامات و انتظامات کریں کہ ہم بھی اس موذی وبا سے جلد چھٹکارا حاصل کر سکیں اورروزمرہ کی معمول کی زندگی گزار سکیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ وباکی یہ گھڑی بڑی نازک اورپر خطر ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اورخصوصاًوزیراعظم عمران خان صحت عاملہ کے مسئلہ کوترجیح دیں اوراپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں کورونا کی وبا پر قابو پانے میں صرف کریں وزیراعظم آپ ایک زیرک اور دانشمند اور معاملہ فہم شخصیت ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو وہ ضروری سہولتیں فراہم کریں جو اس سلسلے میں درکار ہیں۔ یہ وہ ہراول دستہ ہے جو جان کی پرواء کئے بغیر اس وباء سے برسرپیکار ہے آپ کو آپ کے اردگرد لوگ شاید حقائق سے باخبر نہ رکھتے ہوں مگر ہم آپ کے گوش گزار کررہے ہیں کہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب کہتے ہیں کہ حکومت ہسپتالوں کے ایمرجنسی اور اوپی ڈی میں ڈاکٹروں کو کورونا کی حفاظت کے لئے کوئی سہولت مہیا نہیں کررہی۔ وزیر اعظم آپ خود سوچیں اگر مسیحا ہی مریض بن گئے تو کیا ہوگا۔ اس کے جو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ الامان الحفیظ۔

یہ بجا کہ کورونا سے تحفظ کے پیش نظر درسگاہوں کے بجائے آپ نے طلباء کو آن لائن تعلیم کا بندوبست کیا جو ایک احسن اقدام ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ کبھی بجلی نہیں تو کبھی انٹر نیٹ نہیں تو ایسے میں طلباء کیا کریں ان کی تعلیم میں حرج ہورہا ہے اس طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے اکثرکہا جاتا ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر جن کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو تو وہ ماسک، دستانے اور سینی ٹائزر کہاں سے خریدیں۔ آپ یہ ضروری اشیاء غریب طبقے کو حکومت کی طرف سے فراہم کریں۔ اگر لاک ڈاؤن میں سختی ضروری ہے تو سخت لاک ڈاؤن کیا جائے۔ جہاں تک پسماندہ طبقے کی خورد و نوش کا تعلق ہے تو مدینہ کی ریاست کے زریں اصول آپ کے سامنے ہیں۔ غریب اورکچی آبادیوں تک خوراک پہنچانے کا بندوبست حکومت خودکرے، ان آبادیوں سے متعلقہ علاقوں کی بلدیات بخوبی واقف ہیں اوروہ جانتی ہیں کہ یہ آبادیاں کہاں واقع ہیں۔ سب سے اہم بات کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط، منظم اور موثر پالیسی ترتیب دیں، ہر لمحہ نت نئے اعلانات اور انتظامات سے گریز کریں، یہ جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں۔ وزیر اعظم ہر جان قیمتی ہے وہ آپ کی ہو، میری ہویا کسی پسماندہ طبقے کے فرد کی۔ اب بھی وقت نہیں گیا۔ ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ مفت کرائے جائیں، ہر آدمی میں ٹیسٹ کے ہزاروں روپے دینے کی سکت نہیں ہوتی۔ ہسپتالوں کے علاوہ ان ٹیسٹوں کے لئے موبائل یونٹ تیار کئے جائیں اور مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے متعلقہ علاقے میں ٹیسٹ کا دن اور اوقات کار کا اعلان کرایا جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا ایک نعرہ ہے۔جو بہت ہی متاثر کن ہے۔

”ہر جان ایک جہاں ہے ہر جان کو بچالیں“

وزیراعظم جانیں قیمتی ہیں دکانیں نہیں، محمود شام کا یہ شعر اس حوالے سے بالکل منطبق ہوتا ہے۔

ہیں قیمتی افراد کی جانیں یا دکانیں

کیا مسجدیں اس شہر کی کعبے سے بڑی ہیں

ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی

تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی!

مزید :

رائے -کالم -