کمپنیوں کو قرضوں کی فراہمی، ری شیڈولنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے: سٹیٹ بینک

  کمپنیوں کو قرضوں کی فراہمی، ری شیڈولنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے: سٹیٹ بینک

  

لاہو ر(مانیٹرنگ ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی سالانہ مطبوعہ ”مالی استحکام کا جائزہ برائے 2019ء“ جاری کر دی ہے، اس میں مالی شعبے کے کئی زمروں بشمول بینکوں، غیر بینک مالی اداروں، مالی بازاروں، غیر مالی کارپوریٹ اداروں اور مالی بازاروں کے انفراسٹرکچرز کی کارکردگی اور خطرات کا تجزبہ پیش کیا گیا ہے۔مالی استحکام کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ مالی خدمات کی دستیابی اور تسلسل یقینی بنانا اور ادائیگی کے نظام سے متعلق اخراجات میں کمی لانا، ان اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ بینکوں نے تقریباً 495 ارب روپے کے قرضوں کو موخر کر دیا ہے اور تقریباً سات سو ہزار قرض گیروں کے تقریباً 70 ارب روپے کی ری شیڈولنگ، ری سٹرکچرنگ کی گئی ہے۔ملازمین کی برطرفیاں روکنے کی ری فنانس سکیم کے تحت تقریباً آٹھ سواور پچاس ہزار ملازمین پر مشتمل 1172 کمپنیوں کے لیے تقریباً 93 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ صحت کے عالمی بحران کا سبب بننے والی کورونا وائرس کی وباء نے عالمی اور ملکی معیشت پر نمایاں اثرات ڈالے ہیں، دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان پر بھی اس کے تباہ کن اثرات ابھی پوری طرح سامنے آنا باقی ہیں۔ ملک لاک ڈاؤن نافد کرنے کے بعد چند پابندیاں نرم کرنے کی طرف رواں دواں ہے جبکہ انفیکشن کی سطح بڑھ رہی ہے، اس سے معاشی سرگرمیوں کو معاونت ملنی چاہیے۔سٹیٹ بینک نے خطرات کو کم کرنے اور متعلقہ فریقوں کو سہولت دینے کی خاطر متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں، ان اقدامات میں یہ شامل ہیں، زری نرمی، سرمائے کے بفرز کھولنا، کارپوریٹ، ایس ایم ای اداروں اور گھریلو قرض گیروں کے لیے قرض کی اصل رقم کی ادائیگی کا التوا، قرضوں کی ری سٹرکچرنگ، ری شیڈونگ، رعایتی قرضوں کی فراہمی تاکہ ملازمتوں کو تحفظ دیا جائے اور کورونا وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے صحت عامہ کے نظام کو مستحکم بنایا جائے۔ اقدامات کی مکمل فہرست سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

سٹیٹ بینک

مزید :

صفحہ آخر -