شادی ہالز ایسوسی ایشن کا وزیر اعلیٰ سے شادی ہالز کو کھولنے کا مطالبہ

شادی ہالز ایسوسی ایشن کا وزیر اعلیٰ سے شادی ہالز کو کھولنے کا مطالبہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر)شادی ہالز ایسو سی ایشن خیبر پختونخوا کے عہدیداران نے وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ چار ماہ سے بند شادی ہالز کو ایس او پیز کیساتھ کھولنے کی اجازت دی جائے جبکہ چار ماہ میں ہونیوالے نقصان کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ شادہ ہالز کا مزید معاشی قتل عام نہ ہو،پشاور پریس کلب میں شادی ہالز ایسو سی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر خالد ایوب نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا لاک ڈاون کے باعث14مارچ سے شادہ ہالز بند ہے جسکی وجہ سے شادی ہالز کا اب تک ڈھائی ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں چار سو اور دیگر اضلاع میں 130رجسٹرڈ شادی ہالز ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ شدہ 300شادی ہالز صوبہ میں موجود ہے اور ایک شادی ہال میں تقریبا 40کے قریب ملازمین کام کرتے ہیں تاہم چار ماہ سے بندش کی وجہ سے ملازمین کے تنخواہوں سمیت ہالز کے کرایہ نے شادی ہالز کے کاروبار سے وابستہ افراد کی کمر توڑ کے رکھ دی جبکہ مزید تنخواہوں اور کرایوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور ملازمین بھی بے روزگاری کی وجہ سے پریشانی سے دو چار ہیں اسکے علاوہ صوبہ بھر میں بینکس،نادرا دفاتر اور دیگر کاروبار کھول دئے گئے ہیں لیکن شادی ہالز کو بدستور بند کر رکھا ہے جو ہمارے معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان،چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے مطالبہ کیا ہے کہ شادی ہالز کا مزید معاشی قتل عام بند کیا جائے جبکہ شادی ہالز کو سخت ایس او پیز کیساتھ کھولنے کی اجازت دی جائے اور چار ماہ سے بند شادی ہالز کے نقصنات کا ازالہ کرنے کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ شادی ہالز کے کاروبار کو مزید تباہی سے بچایا جا سکیں اور ہم حکومت کو یقین دہانی کراتے ہے کہ شادی ہالز میں ماسک کا استعمال سمیت جراثیم کش سپرے اور دیگر ایس او پیز کا بھر پور خیال رکھا جائے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -