ایجوکیشن فاؤنڈ یشن کے عملے کی کمی کو پورا کیا جائیگا، اکبر ایوب خان

ایجوکیشن فاؤنڈ یشن کے عملے کی کمی کو پورا کیا جائیگا، اکبر ایوب خان

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم اکبر ایوب خان نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ فاؤنڈیشن کے عملے کی کمی کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا اور خالی آسامیاں فوراً مشتہر کی جائیں۔ کسی بھی استاد کی تنخواہ حکومت کی طرف سے مقررہ حد سے ہرگز کم نہیں ہونی چاہیے جبکہ کمیونٹی سکولوں کو فوراً فعال کرنے کے لئے کمرے کرایوں پر لئے جائیں، مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر کیا جائے اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پروگرامز کے تحت زیر تعلیم بچوں کے لیے آئی ڈی کارڈ بنوائے جائیں تاکہ مانیٹرنگ میں آسانی رہے۔وہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تیسویں (30) اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ندیم اسلم چوہدری، مینیجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن محمد عرفان، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن محمد جاوید اور بورڈ کے دیگر ممبران اس موقع پر موجود تھے۔وزیر تعلیم اکبر ایوب خان نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں ایچ آر سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ لیگل ایڈوائزر کی تعیناتی کے احکامات بھی جاری کر دیئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو فاؤنڈیشن کی طرف سے دی جانے والی ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار وضح کیا جائے اور جن سکولوں کے خلاف کورٹ یا کسی اور ادارے کی انکوائری ہو تو ان کو مزید ادائیگیاں نہیں کی جائیں گی۔اکبر ایوب خان نے مزید کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کام کی فوراً تکمیل کے لیے اگر محکمہ تعلیم سے سٹاف کی ضرورت ہو تو ان کو ہر قسم کا تعاؤن دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں فاؤنڈیشن کے زیر سایہ چلنے والے اسکولوں کی مقامی ممبران صوبائی اسمبلی سے تصحیح کرانا بھی ضروری ہوگا جبکہ فاؤنڈیشن کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی قانون کے مطابق مقرر کی جائیں۔وزیر تعلیم نے مینجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت جاری کی کہ مسائل کی نشاندہی پر غلطی کے مرتکب سکولوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ اکبر ایوب خان نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے ساتھ ہماری مکمل سپورٹ ہوگی تاکہ اسکولوں سے باہر بچوں کو بھی اسکولوں میں لایا جا سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -