قومی اسمبلی، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخی، ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل

      قومی اسمبلی، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخی، ایوان مچھلی منڈی میں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر مراد سعید نے خواجہ آصف کے نکتہ اعتراض کو جھوٹا کہہ دیا جس کے بعد ایوان ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، مسلم لیگ (ن)کے اراکین کی جانب سے شورشرابہ پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری بھی برس پڑے اور اراکین کو ہدایت کی کہ آپ خاموش ہو جائیں اور جواب سنیں،(ن)لیگی رہنما خواجہ آصف نے ایوان نہ چلنے کی دھمکی دید ی، وفاقی وزیر مراد سعید اور روحیل اصغر کے درمیان تلخ جملوں کاتبادلہ ہوا،معاملہ گالم گلوچ تک پہنچ گیا، (ن)لیگی رہنما رانا تنویر کو حکومتی ارکان نے تقریر نہ کرنے دی،ڈپٹی سپیکر نے معاملہ بگڑنے پر اجلاس کی کارروائی 10منٹ تک روک دی۔قومی اسمبلی کااجلاس گزشتہ روز ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے زیر صدارت شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے کہاکہ مجھے پارلیمنٹ ہاؤس میں کئی بجٹ پیش کرنے اور سننے کی سعادت نصیب ہوئی،پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا کہ بجٹ میں اخراجات کی تفصیلات نہ دی گئی ہوں، ہم سے بجٹ پر ووٹ لیا جا رہا ہے تو بتایا تو جائے کہ بجٹ میں ہے کیا۔ وزیر اعظم کے پارلیمانی مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ نوید قمر کے نقطہ اعتراض کا بہتر وزارت خزانہ والے ہی بتا سکتے ہیں،میں وزارت خزانہ سے پوچھ کر ایوان کو آگاہ کردوں گا۔مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہاکہ وزیر خارجہ،وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور وزیر اعظم کی جانب سے کچھ بیانات منسوب کیے گئے،وزیر خارجہ کا بیان وائرل ہوا کہ انہوں نے کہا بھارت سکیورٹی کونسل کا ممبر بن جائے تو قیامت نہیں آئے گی ایک اور تقریر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات کی گئی،وزیر خارجہ نے یہ بیانات نہیں دئیے تو وضاحت کریں۔وفاقی وزیر مراد سعید نے خواجہ آصف کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔خواجہ آصف کے نکتہ اعتراض کو جھوٹاکہنے پر اپوزیشن نے مراد سعید کے خلاف احتجاج کیا۔مراد سعید کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن)نے شور شرابا کیا۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے اراکین کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ خاموش ہوجائیں جواب سنیں۔ قاسم خان سوری نے کہاکہ مجھے ہاؤس چلانا آتا ہے میں کسی کی دھمکی میں نہیں آؤں گا۔ خواجہ آصف نے ایوان نہ چلنے دینے کی دھمکی دی۔ مراد سعید نے کہاکہ یہ طریقہ ہمیں بھی آتا ہے،پھر خواجہ آصف یہاں بات تک نہیں کرسکے گا۔ اجلاس کے دوران خواجہ آصف اور مراد سعید کی تقاریر کے دوران ایوان میں شور شرابا ہوا تو ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ تمام ارکان ایک دوسرے کا احترام کریں، ایوان کی کارروائی دیکھ کر عوام تک کیا پیغام جائیگا، تمام ارکان مہذب الفاظ اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔اجلاس کے دور ان وفاقی وزیر مراد سعید اور شیخ روحیل اصغر کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،دونوں اراکین کے درمیان معاملہ گالم گلوچ تک پہنچ گیا،اجلاس میں ارکان نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دیں کہ تقریر نہیں کرنے دیں گے۔ شدید ہنگامیہ آرائی کے دور ان ڈپٹی سپیکر نے فلور (ن)لیگی رکن رانا تنویر کو دیدیا۔شیخ روحیل اصغر اور مراد سعید میں تلخ کلامی اور چند نازیبا الفاظ پر ڈپٹی سپیکر کیساتھ رانا تنویر بھی برہم ہوگئے اور کہاکہ ایسی صورتحال میں ڈپٹی سپیکر میں کیا بات کروں، ایوان میں کشیدہ صورتحال کم نہ ہونے کے باعث ڈپٹی سپیکر نے اجلاس 10 منٹس کیلئے ملتوی کردیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی صورت نہ تو تسلیم کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی ایسی سوچ میں شامل ہے، ان سے متعلق جو پہلے موقف تھا اس پر قائم ہیں اور رہیں گے، مسئلہ کشمیر پرجو ہمارا شروع دن سے قومی موقف تھا وہی رہے گا، اس پر کسی قسم کا ابہام کا اظہار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، اس حوالہ سے ایک کمیٹی بنائی جا رہی ہے کہ اس میں تمام سیاسی جماعتیں اپنی نمائندگی دیں اور اس پر ایک زبان پر فیصلہ کریں،ہندوستان کے سکیورٹی کونسل کا ممبر بننے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی، غیر مستقل ممبر بنتے رہتے ہیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خطاب کے بعد مسلم لیگ(ن) کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ محمدآصف نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ کے جواب کا شکر گزار ہوں،اگر اجلاس کے شروع میں یہ رسپانس ہوتا تو تلخی نہ ہوتی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے کورونا پھیلا،ہم ڈاکٹرز اور سائنس دانوں کو جبکہوزیر اعظم اپنی اے ٹی ایمز اور تاجروں صنعتکاروں کو سن رہے تھے،بجٹ دیکھ کر لگتا ہے کورونا کا کوئی خطرہ نہیں جبکہ یہ پاکستان کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، وزیر اعظم کو مزدوروں کی فکر تھی،بتایا جائے کتنے بینکاروں سے ملے کتنے ڈاکٹرز مزدوروں نرسوں فورسز سے ملے،ٹڈی دل،کورونا کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہحکومت خود مانتی ہے آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ معیشت آئی سی یو میں تھی،اب معیشت وینٹی لیٹر پر آگئی ہے،معیشت ٹھیک کرنی ہے تو آئی ایم ایف سے فاصلہ کرنا پڑے گا،این ایف سی اور اٹھارہویں ترمیم پاکستان کی فالٹ لائنز ہیں،حکومت مشاورت کی بجائے فالٹ لائنز کو چھیڑ رہی ہے،این ایف سی ایوارڈ سے کشمیر کے لیئے فنڈ رکھے جا رہے ہیں جس سے کشمیر کی خودمختاری پر سوال اٹھتے ہیں،جب آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کی طرح بٹھاتے ہو تو اثرات سوچیں،غیر قانونی این ایف سی ایوارڈ نوٹیفکیشن واپس لے ورنہ نتائج برے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہحکومت کورونا کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی ہے،کورونا کے نام پر جو رقم جمع کی گئی وہ آئی پی پیز کو دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران سندھ کے ہسپتال چرانا چاہتے ہیں مگرہم اپنے منصوبے چوری نہیں ہونے دیں گے۔

قومی اس

مزید :

صفحہ اول -