ہلٹن فارما کا پلازمہ تھراپی ٹرائل سے متعلق ویب سیمینار

ہلٹن فارما کا پلازمہ تھراپی ٹرائل سے متعلق ویب سیمینار

  

کراچی (پ ر)صف اول کی فارما سیوٹیکل کمپنی ہلٹن فارما (Hilton Pharma) پاکستان میں کورونا وائرس کے آغاز سے ہی اپنی تحقیقی گرانٹ اور تکنیکی معاونت کے ذریعے این آئی بی ڈی کے ساتھ پلازمہ تھراپی کے تجربات میں معاونت فراہم کررہی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر طاہر شمسی نے ہلٹن فارما کے آفس میں پاکستان بھر کے ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو آگہی فراہم کے لئے ویب سیمنار کا انعقاد کیا۔ انہوں نے ماہرین کے سامنے اپنی گفتگو کی شروعات میں بتایا کہ کون سے ادارے پینل پر ہیں، اسکے ساتھ ہی انہوں نے مریض کا اندراج، ڈیٹا کے حصول اور کنٹرول گروپ کی تفصیلات کے ساتھ اب تک کے پورے آزمائشی سفر پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی۔ ان میں سب سے اہم پہلو جس پر انہوں نے روشنی ڈالی اس میں پلازمہ کے حصول کا موجودہ مرحلہ ہے اور یہ کہ اس میں کس طرح سے وسعت لائی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا، "اب تک ہم ملک میں جاری ٹرائل کے لئے 230 سے زائد مریضوں کو پلازمہ فراہم کرچکے ہیں۔ " ڈاکٹر طاہر شمسی نے پلازمہ عطیات کی اہمیت پر مزید زور دیتے ہوئے کہا، "ملک میں کورونا وائرس عروج پر پہنچنا شروع ہوچکا ہے اور ہمارا صحت کا نظام متاثر ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا 20 ہزار افراد کے پلازمہ کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں طویل سفر طے کرنا ہوگا۔ "انہوں نے کورونا کی بغیر علامات والے افراد میں اینٹی باڈیز ٹیسٹ کے لئے پائیدار کٹس کی فراہمی کا انتظام کرنے پر ہلٹن فارما کے اضافی تعاون کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا، "ایسے افراد معاشرے میں بغیر علامات کے ساتھ موجود ہیں اور یہ ممکنہ ڈونرز کی ایک بڑی تعداد ہے۔ "انہوں نے سرکاری اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو اب عوام سے پلازمہ کے عطیات کی اپیل کررہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ علاقوں میں جاکر انہیں وصول کرنے میں معاونت کررہے ہیں۔

یہ ویب سیمینار ایک انٹرایکٹو سیشن تھا جو ایک بڑے اقدام کا حصہ ہے جس کے تحت ہلٹن فارما ڈاکٹروں کے بڑے نیٹ ورک سے رسائی حاصل کررہی ہے اور انفرادی طور پر انہیں پیغام کی فراہمی کے ساتھ ان سے پلازمہ کے عطیات کا پیغام پھیلانے کی اپیل کی جائے گی۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نے ڈاکٹروں کو پلازمہ کے حصول کا عمل دکھایا اور واضح کیا کہ کورونا سے صحت یاب مریض چار سے پانچ بار پلازمہ عطیہ کرسکتا ہے اور ہر بار ملنے والے پلازمہ سے دو مریضوں کی مدد ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹرائل میں ان مریضوں کو بلامعاوضہ پلازمہ فراہم کیا جارہا ہے جو طبی اہلیت پر پورے اترتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی نے وزارت قومی صحت و خدمات، این ڈی ایم اے، تمام صوبائی حکومتوں اور ڈریپ کی فارمیسی سروسز جیسے متعدد سرکاری اداروں کی جانب سے این آئی بی ڈی کو تعاون کی فراہمی پر بھی شکریہ ادا کیا۔

مزید :

کامرس -