گدھوں میں اضافہ ہو گیا

گدھوں میں اضافہ ہو گیا
 گدھوں میں اضافہ ہو گیا

  

قومی بجٹ ماضی میں اعدادوشمار کا گورکھ دھندا کہلاتا تھا،مگر حالیہ پیش کیا جانے والا وفاقی بجٹ جھوٹ کی جادو گری کا مجموعہ اور پلندہ ہے۔بجٹ میں کوئی قومی معاشی اقتصادی پالیسی پیش کی گئی نہ کسی سمت اور منزل کا تعین کیا گیا اور نہ ہی مستقبل کیلئے قوم کو امید کی کوئی کرن دکھائی گئی ہے۔مہنگائی میں کمی اور بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے بھی کوئی فارمولہ پیش نہیں کیا گیا،توانائی بحران کے خاتمہ کے حوالے سے بھی قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا،صنعت،زراعت،تجارت،برآمدکے شعبوں پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی،غیر ملکی قرض اتارنے اور آئندہ نہ لینے بارے بھی بجٹ دستاویز خاموش ہے۔ملکی تاریخ کا یہ پہلا بجٹ ہے جس میں سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کیلئے کوئی خوشخبری نہیں تنخواہیں تو کیا بڑھائی جاتیں ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا،حالانکہ سابق ملازمین کی اکثریت زندگی کے آخری ایام کس مپرسی میں بسر کر رہی ہے اور کرونا سے سب زیادہ اگر کسی کو خطرہ ہے تو وہ یہ سینئر سیٹیزن ہیں،جن کو خوراک اور علاج معالجہ کیلئے رقم کی بہت ضرورت رہتی ہے اور اس مد میں وہ اولاد،رشتہ داروں،ملنے والوں کا منہ تکتے رہتے ہیں،مگر ان کی بھی امیدوں پر حالیہ بجٹ میں پانی پھر گیا ہے۔

یہ حقیقت بھی قوم کی اکثریت کیلئے دلچسپی کا باعث ہو گی کہ انگریز دور کی بجٹ دستاویزات آج بھی ہر بجٹ کی تیاری کیلئے مشعل راہ ہوتی ہیں،برطانوی سرکار کی بجٹ دستاویزات کی روشنی میں آج بھی صرف اعدادوشمار ہی تبدیل کئے جاتے ہیں،ہر سال گزرے سال کی بجٹ دستاویزات میں اعدادوشمار میں ردوبدل اور ایک دو نئی آئٹمز کے ایڈیشن سے نیا بجٹ تیار کر لیا جاتا ہے،لکیر کے فقیر بجٹ ساز گزشتہ بجٹ میں دی گئی لائن اپناتے ہیں،سابق بجٹ میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ بچت کیلئے اندھے اخراجات کا خاتمہ کیا جاتا ہے،دکھاوے کیلئے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ صدر مملکت،وزیر اعظم،گورنر،وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اخراجات کم کر دئیے گئے،لیکن وہ اخراجات جہاں سے خورد برد آسانی سے کی جا سکے ان کی راہ نہیں روکی جاتی یوں کرپشن بھی جاری رہتی ہے اور سرکاری خزانے میں لوٹ مار بھی۔

سب سے زیادہ کرپشن اگر کسی فنڈ میں ہوتی ہے تو سرکاری عمارات،دفاتر،رہائیش گاہوں کی مرمت،توسیع،تزین و ارائیش میں کی جاتی ہے،صرف ان اخراجات کو چند سال کیلئے روک دیا جائے تو دعویٰ سے کہا جا سکتا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کیلئے سٹیٹ بینک یا غیر ملکی اداروں سے قرض نہ لینا پڑے اور اگر فضول قسم کے ترقیاتی فنڈز کیساتھ ہر عہدہ پر فائز حکام،افسروں کے صوابدیدی فنڈز پر بھی پابندی عائد کر دی جائے تو بجٹ خسارے کی بجائے فاضل ہو جائے،اور قومی وسائل حقیقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے وافر فنڈز بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔یہ بات کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ کھلی ڈھلی حقیقت ہے کہ سرکاری عمارات کی سالانہ مرمت،توسیع اور تزین و آرائیش کیلئے مختص فنڈز میں سے 50سے60فیصد فنڈز متعلقہ محکمہ کے افسروں اور ٹھیکیداروں کی جیب میں چلا جاتا ہے،باقی میں سے نصف سے بھی کم رقم استعمال میں آتی ہے،جبکہ نئے منصوبوں کا بھی 30سے40فیصد کے فنڈز کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں،صوابدیدی فنڈز کا تو 60سے80فیصد حصہ غیر ضروری خرچ کیا جاتا ہے یامل بانٹ کر ہضم کر لیا جاتا ہے،مگر ان فنڈز کو ختم کرنے کی نہ ماضی میں کسی حکومت نے کوشش کی نہ آج کی حکومت اس حوالے سے کسی ایڈونچر کے چکر میں دکھائی دیتی ہے،کوئی مانے نہ مانے ان فنڈز میں اوپر سے لیکر نچلے عملے تک کا حصہ ہوتا ہے۔

مرمت و توسیع کے ٹھیکوں میں افسران 5فیصد تو ٹھیکہ الاٹ کرنے کابھتہ لیتے ہیں بعض اوقات اس سے بھی زائد، بل کی ادائیگی پر 5فیصدکمیشن بھی ان کی جیب میں جاتا ہے، ایس ڈی او5فیصد،اوورسئیر3فیصد،اکاؤنٹینٹ 2فیصد،کیشئیر ایک فیصد کمیشن لیتا ہے جو ہر ترقیاتی محکمہ میں طے شدہ ہے،25ہزار سے اور اس سے کم کے بیشتر ٹینڈر کی رقم عملہ کی جیب میں جاتی ہے،کیونکہ ایسے کاموں کا ٹینڈر نہیں ہوتا ایکسئین کی مر ضی جس پر چاہے عنائت کر دے،یہ رقم عملہ اور ٹھیکیدار میں تقسیم ہو تی ہے،بڑے ترقیاتی منصوبوں میں بھی 30سے 40فیصد تک رقم کمیشن کے نام پر عملہ کی جیب میں چلا جاتا ہے،یہ سارا سسٹم انگریز دور سے جاری ہے مگر تب خورد برد کم ہوتی تھی مگر آج کرپشن عروج پر ہے،بجٹ میں پرانے بجٹ کی دستاویز میں کسی کے فنڈز زیادہ اور کسی کے کم کرنے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔

اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ وفاق کے تعمیراتی الگ ہیں صوبوں کے الگ،اضلاع کے الگ،اس کے بعد مختلف محکموں کے اپنے بھی تعمیراتی محکمے ہیں،جبکہ تعمیرات کیلئے لا تعداد اداروں کی ضرورت ہی نہیں،انگریز دور میں پلوں سڑکوں کی تعمیرات کیلئے ایک،عمارات کی تعمیرکیلئے ایک وفاقی ادارہ اور ایک ایک صوبائی ادارہ ہوتا تھا،میونسل کمیٹیوں کے پاس گلیاں نالیاں تعمیر کرنے کا کام تھا، ڈیموں،بندوں،کی تعمیر کیلئے ایک ادارہ تھا،یہ تینوں ادارے آج بھی موجود ہیں مگر ان کیساتھ کئی اور ادارے قائم کر دئیے گئے محض فنڈز میں سے اپنا حصہ لینے کیلئے۔

یہ محکمے بھی قومی خزانے پر بوجھ ہیں مگر اس طرف توجہ نہیں دی جاتی،پی آئی اے،سٹیل ملز،ریلوے سمیت متعدد ادارے صرف سیاسی،ضروری بھرتیوں کی وجہ سے تباہ ہوئے،ایسے میں یہ ادارے سیاسی دباؤ میں کام کرتے ہیں اور معاشی تباہی پھیلا رہے ہیں،ضرورت ان اداروں میں آپریشن کلین اپ کی بھی ہے مگر چونکہ یہ ادارے کرپشن میں معاون ہیں اس لئے کسی بجٹ ساز نے ادھر توجہ نہ دی،ایک اور دلچسپ بات یہ کہ ان اداروں کا آڈٹ کر نے والا محکمہ بھی کرپشن میں برابر کا شریک ہے،ایک عالمی رپورٹ کے مطابق پولیس تو یونہی بدنا ہے ملک میں کرپشن میں سر فہرست تعمیراتی محکمے ہیں جن کا کام بندوں کی مرمت کرنا دریاؤں کے بند باندھنا اور ان کی مرمت کرنا ہے،یہ لوگ مٹی میں مٹی ملا کر قومی سرمائے کو مٹی کر رہے ہیں مگر اس کرپشن کو روکنے کیلئے بجٹ میں اقدام تجویز کئے گئے نہ کوئی سفارش کی گئی،یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو کرپشن رکے گی نہ ملک ترقی کے زینے طے کر سکے گا،ضرورت قومی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بچانے کی ہے مگر 70سال سے پرنالہ جہاں گر رہا تھا وہیں گر رہا ہے،کرپشن روکنے کیلئے کوئی عملی اور حقیقی اقدام دکھائی نہیں دے رہا،جن محکموں پر افرادی قوت کا بوجھ ہے اسے بھی کم کرنے کی ضرورت ہے،ورنہ سال میں 12بجٹ پیش کر لیں کوئی معاشی تبدیلی نہیں آنے والی نہ بجٹ کے ذریعے قومی وسائل کی بندر بانٹ کو روک کر حقداروں کو حق دیا جا سکے گا۔

ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین،سرکاری ملازم تنخواہ میں اضافہ سے محروم رہیں گے،رشوت خوروں کو تو فرق نہیں پڑتا تنخواہ بڑھے نہ بڑھے مگر وہ سرکاری ملازمین جو دیانتداری سے اپنے فرآض انجام دیتے ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہوتی رہے گی،زراعت جس سے ملکی آبادی کا 60فیصد وابستہ ہے یونہی رو پیٹ کر چلتا رہے گا،شوگر ملز مالکان کاشتکاروں کو لوٹتے رہیں گے مگر بجٹ دستاویز کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -