کسٹمز ہاؤس کراچی میں 68افسران کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

  کسٹمز ہاؤس کراچی میں 68افسران کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کسٹمزہاؤس کراچی میں دوایڈیشنل کلکٹراورایک ڈپتی کلکٹرسمیت 68افسران کروناوائرس کاشکارہوگئے ہیں جبکہ ڈائریکٹرٹرانزٹ ٹریڈ محمدزاہدکھوکھرکروناوائرس کی وباسے گزشتہ روزخالق حقیقی سے جاملے تھے اس کے علاوہ ایک اورڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ کے افسرمیں کروناوائرس کی تشخیص پر ڈائریکٹوریٹ میں کاروباری سرگرمیاں بندکردی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق کسٹمزہاؤس کراچی میں کروناوائرس سے بچاؤ کے لئے ایس اوپیزپر عملدرآمدنہیں کیاجارہاجس کے باعث کسٹمزہاؤ س میں کام کرنے والے کسٹمزاسٹاف میں کروناوائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیاہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ کسٹمزنے ایک نجی دواسازکمپنی کے اشتراک سے گذشتہ ہفتہ 618 کسٹمزافسران واسٹاف کا اینٹی باڈی ٹیسٹ کروایاگیا۔جس میں سے دوایڈیشنل کلکٹراورایک ڈپٹی کلکٹرسمیت 68افسران واسٹاف کا کروناٹیسٹ مثبت آیاجبکہ 99افسران واسٹاف میں کروناوائرس ایکٹیوپایاگیالیکن ان کے جسم میں اینٹی باڈیزبن رہی ہیں اس کے باعث ان پر کروناوائرس کا اثرنہیں ہورہاجبکہ 450افسران واسٹاف میں کرونا وائرس کاٹیسٹ منفی آیاہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ کسٹمزنے دوایڈیشنل کلکٹراورایک ڈپٹی کلکٹرسمیت 68افسران واسٹاف کروناوائرس کی وبامیں مبتلاہونے پر قرنطینہ کردیاگیاہے اوران افسران واسٹاف کو پی سی آرکی ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے پر آفس آنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ 99لوگوں کوکروناوائرس ایکٹیوہونے پر ان کو خودسے قرنطینہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں علاوہ ازیں 450افسران واسٹاف میں کروناوائرس منفی آیاہے اس لئے انہوں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سختی سے ایس اوپیز پر عملدآمدکریں اورکام کرتے وقت سماجی دوری کا خیال رکھیں۔آل پاکستان کسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشدجمال نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی ایس اوپیز کو نظراندازکیاگیاہے جس کی وجہ سے کسٹمزہاؤس میں کروناوائرس کی وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ محکمہ کسٹمزڈیوٹی وٹیکسزکی ادائیگیاں کے لئے آئن لائن سسٹم کا دائرہ کاروسیع کرناچائیے جس کے لئے پاکستان کے تین بڑے شہروں کراچی،لاہوراوراسلام آبادمیں کم ازکم نیشنل بینک آف پاکستان کی دس برانچوں میں ڈیوٹی وٹیکسزکی وصولی کی جائے جبکہ حکومت کوچاہئے کہ 25ہزارڈالرتک کے درآمدی کنسائمنٹس کو ایل سی کے بغیردرآمدکرنے کی اجازت دی جائے اورتمام کنسائمنٹس کی کلیئرنس پروفائل بیس پر گرین چینل کے ذریعے کی جائے تاکہ کروناوائرس کی وباسے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ کیاجاسکے۔علاوہ ازیں یوٹریڈ لاجسٹک کے شرجیل جما ل نے کہاکہ محکمہ کسٹمزحکومتی ایس اوپیز پر عملدآمدنہیں کررہاجس کے باعث کسٹمزہاس میں کروناکے مریضوں کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہورہاہے تاہم محکمہ کسٹمزکو چاہئے کہ وہ حکومت کی جانب سے دی گئی ایس اوپیز پر سختی سے عمل کریں تاکہ کروناوائرس کی اس وباسے بچاجا سکے۔انہوں نے کہ گزشتہ روزایک ایماندارآفیسرمحمدزاہدکھوکھرکے انتقال پر ان کو بے حدافسوس ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ وقت ایک دوسروں کی مدکرنے کا ہے۔شرجیل جمال نے کہاکہ پاکستان میں اسمگلنگ گذشتہ 70سالوں سے ہورہی ہے جس کو تاحال روکانہیں جاسکاتاہم محکمہ کسٹمزکو چاہئے کہ وہ اپنے افسران کی جان کی حفاظت کے لئے ایسے اقدامات اٹھائے جس سے افسران کی لوگوں سے کم سے کم ملاقات ہو۔محکمہ کسٹمزکو ایسا لائحہ عمل تیارکرناچائیے کہ ڈیوٹی وٹیکسزکی ادائیگیاں آئن لائن ہوں اورجن کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال بے حدضروری ہوکی جائے ان ہی اقدامات پر عمل کرکے کسٹمزافسران وکلیئرنگ ایجنٹس،درآمدوبرآمدکنندگان کی جان بچائی جاسکتی

مزید :

صفحہ آخر -