یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کیخلاف اے ایس اے کاتحریک چلانے کافیصلہ

  یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کیخلاف اے ایس اے کاتحریک چلانے کافیصلہ

  

ملتان(سٹاف رپورٹر)اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن بہاالدین زکریا یونیورسٹی نے یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا اور کہا کہ کسی صورت میں نیا ایکٹ نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ا س سلسلے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار ملک، سیکرٹری ڈاکٹر خاور نواش، ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر صالحہ نے کہا پاکستان کی تمام (بقیہ نمبر40صفحہ7پر)

پبلک سیکٹر یونیورسٹیز مالی بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔بہت سارے معاملات میں یونیورسٹیوں کے پاس اساتذہ کی تنخواہوں کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طلباکی فیس بڑھائیں اور اپنے اخراجات پورے کریں۔دوسری طرف ایچ ای سی نے فنڈز بھی فریز کردئے ہیں‘ ابھی اساتذہ کی نمائندہ تنظیمیں اس مسئلہ کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل ترتیب دے رہی تھیں کہ تعلیم اور اعلی ٰتعلیم میں ترقی کے نام پر آنے والی حکومت نے اپنے اعلی تعلیمی اداروں پر ایک اور شب خون مارنے کا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں ایک بل پیش کر دیا گیا ہے جس کی رْو سے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کی کی خودمختاری کو یکسر ختم کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت یونیورسٹی کے سب سے اہم فیصلہ ساز ادارے سنڈیکیٹ کی چیئرمین شپ وائس چانسلر سے واپس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مجوزہ بل کے تحت سینڈیکیٹ کا چیئرمین کسی ریٹائرڈ جج یا کسی بیوروکریٹ کو لگایا جا سکے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے یہ تجویز پیش کی جائے کہ آئندہ سے لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوگا گا یا مختلف محکموں کے سیکرٹریز ریٹائرڈ ججز ہوں گے۔ سنڈیکیٹ کی کمپوزیشن مختلف یونیورسٹیز کے لئے لیے مختلف ہے نئی بننے والی بہت سارے یونیورسٹیز میں سینڈیکیٹ کے اندر اساتذہ کے منتخب نمائندوں کی سیٹیں ختم کر دی گئی ہیں پچھلے چند سالوں میں یونیورسٹی آف ساہیوال اور یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی سنڈیکیٹ کے اجلاس لاہور سیکرٹریٹ میں ہورہے ہیں کیونکہ کسی متعلقہ وزیر کو ساہیوال یا اوکاڑہ آنا پسند نہیں تھا‘ اس مجوزہ ایکٹ کے نفاذ کے بعد یہی صورت حال باقی تمام یونیورسٹیز میں ہوگی۔ من پسند لوگوں کو سنڈیکیٹ کا چیئرمین لگایا جائے گا اور پھر ان کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد پورے کئے جائیں گے۔ہمار ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ آپ نے تو سب کے لئے یکساں تعلیم اور اعلی تعلیم کے لئے بہتر مواقع پیدا کرنے کے نام پر ووٹ لیا تھا، آپ کے وہ وعدے کہاں گئے، آپ چند منظور نظر افراد کو نوازنے کے لئے لیے اگر اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو تباہ کرنے پر تل گئے ہیں تو جان لیں کہ اساتذہ کے نمائندے ان کے حقوق اور اْن کے اداروں کی خودمختاری کو بچانے کے لیے ان کے ساتھ ہیں اور ہر سطح پر احتجاج کریں گے۔

فیصلہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -