صوبائی بجٹ کے بعد سرائیکی رہنماؤں کااہم اجلاس، نئی حکمت عملی تیار

صوبائی بجٹ کے بعد سرائیکی رہنماؤں کااہم اجلاس، نئی حکمت عملی تیار

  

ملتان (پ ر)سرائیکی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی بجٹ پر غور کیا گیا اور وسیب کو نظر انداز کرنے پر فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ میں ترمیم نہ کی گئی تو بجٹ کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے۔ اجلاس میں ظہور دھریجہ، ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ، شریف خان لشاری، روبینہ بخاری(بقیہ نمبر6صفحہ6پر)

، ثوبیہ ملک، حاجی عید احمد دھریجہ و دیگر نے شرکت کی۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ حکمرانوں کی ترجیحات میں سرائیکی صوبہ اور سرائیکی وسیب کی ترقی شامل نہیں، صرف لولی پاپ دیئے جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے جن منصوبوں کے لئے گزشتہ بجٹ میں فنڈز مختص کئے پورے سال میں ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہوا، اس سال انہی منصوبوں کو پھر سے دہرا دیا گیا۔ ترقی معکوس یہ ہوئی کہ گزشتہ بجٹ میں سول سیکرٹریٹ کیلئے تین ارب روپے رکھے گئے جو کہ تمام کے تمام لیپس ہوئے، موجودہ بجٹ میں اسے نصف کر دیا گیا۔ حالانکہ سول سیکرٹریٹ نہیں صوبائی سیکرٹریٹ بننا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمران وسیب کے لئے ن لیگ سے بھی ازاں بد تر ثابت ہوئے ہیں، وہ وسیب کو جنوبی پنجاب کہتے ہیں، ہم حکمرانوں سے پوچھتے ہیں کہ سرکاری سطح پر پی ایچ ڈی سرائیکی میں ہو رہی ہے یا جنوبی پنجابی میں؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور عثمان بزدار پشتو، بلوچی اور پنجابی سندھی کا نام فخر سے لیتے ہیں سرائیکی کا نام لیتے ہوئے ان کی زبان پر چھالے کیوں پڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم وسیب کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، چاہے ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری وکلاء برادری میں بہت اشتعال اور غصہ پایا جاتا ہے، انصاف کے ادارے میں بھی وسیب کے وکلاء کو انصاف نہیں ملتا، ججوں کی تعیناتی میں وسیب کے وکلاء کو نظر انداز کیا جاتا ہے، شہباز شریف دور میں پانچ سو سول جج رکھے گئے محض 27 جج وسیب سے تھے، باقی سب کا تعلق پنجاب سے تھا، اب 600 سول جج اور 20 ہائی کورٹ کے جج تعینات کئے جا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ 300 سول جج اور 10 ہائیکورٹ کے جج سرائیکی وسیب سے لئے جائیں۔ شریف خان لشاری نے کہا کہ صوبہ محاذ اور تحریک انصاف نے سول سیکرٹریٹ نہیں صوبے کا وعدہ کیا تھا، وعدہ خلافی پر ان کے خلاف ا?ئین کی شق 62اور 63 کا اطلاق ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لفظ جنوبی پنجاب ایک گالی ہے، ہم سرائیکستان لیں گے۔ روبینہ بخاری اور ثوبیہ ملک نے کہا کہ سرائیکی وسیب کی خواتین کا بھی استحصال ہو رہا ہے اور بجٹ میں خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ سرائیکی صوبے کی تحریک میں خواتین بھی شانہ بشانہ ہیں۔ حاجی عید احمد دھریجہ نے کہا کہ سرائیکی قوم کا اپنا وطن اپنی تہذیب و ثقافت ہے، وہ کسی کے کمی اور مزارع نہیں، وہ کسی سے خیرات نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں، حکمرانوں کو یہ حق دینا پڑے گا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ا?ئندہ اجلاس میں احتجاجی تحریک کا شیڈول جاری کر دیا جائے گا۔

تیار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -