کورونا فنڈ کے قیام کی منظوری، ایس او پیز کی خلا ف ورزی پر ملک بھر میں 1512مارکیٹیں دکانیں سیل، 14انڈسٹریل یونٹس کو جرمانے، چوبیس گھنٹوں میں مزید 88افراد جاں بحق، لاہور کے 61علاقے مکمل بند

کورونا فنڈ کے قیام کی منظوری، ایس او پیز کی خلا ف ورزی پر ملک بھر میں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے مرحلہ وار انٹرنیشنل فلائٹس بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔وفاقی کابینہ نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019کے سیکشن 32کے تحت کوویڈ- 19کے نام سے خصوصی فنڈ کے قیام اور1.24کھرب روپے کے معاشی پیکیج میں سے اب تک بچ جانے والی رقوم کو اس فنڈ میں ڈالنے کی بھی منظوری دیدی جبکہ وفاقی کابینہ نے کورونا سے متاثرہ مریضوں کے استعمال میں آنیوالی دوائی(انجکشن remdesivir)کی قیمت کا تعین کرنے کی بھی منظوری دے دی وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ابتدائی طور پر عرب ممالک کے لئے بین الاقوامی پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اپنے ہم وطن بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہے۔ ابتدائی طور پر عرب ممالک کے لئے بین الاقوامی پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گلف ممالک سے پاکستانیوں کی محفوظ وطن واپسی کے بعد اگلہ مرحلہ شروع ہوگا۔ سب سے پہلے بے روزگار ہونے والے مزدور اور محنت کشوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارے دل کے قریب ہیں مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کورونا وبا کے باعث لاکھوں پاکستانی روزگار سے محروم ہوئے جس کا دکھ ہے۔ ہمیں اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے انہوں نے کہا کہ ملکی مصنوعات کی بیرون ملک برآمد خصوصاً آموں، فروٹ اور چاول کی برآمد اور ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کو برآمدات کے حوالے سے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں وفاقی کابینہ نے کورونا سے متاثرہ مریضوں کے استعمال میں آنیوالی ایک دوائی(انجکشن remdesivir)کی قیمت کا تعین کرنے کی بھی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوائی کی درآمد پر ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی،الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون)پیکا 2016) کے حوالے سے گلگت بلتستان میں پریزائیڈنگ افسر مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا جائے، گھروں میں کام کرنے کی کیٹگری کو بھی ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991کے شیڈول ون کا حصہ بنایا جائے گا،ائیروناٹیکل اسٹڈی 31جولائی 2020تک مکمل کی جائے، ملکی مصنوعات کی بیرون ملک برآمد خصوصاً آموں، فروٹ اور چاول کی برآمد اور ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کو برآمدات کے حوالے سے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں،کوویڈ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے حکومت کی حکمت عملی نہایت متوازن اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر مرتب کی گئی ہے، لاک ڈاؤن کورونا سے نمٹنے کا حل نہیں ہے،بھارت میں لاک ڈاؤن کے منفی اثرات خصوصاً غریب طبقے پر پڑنے والے اثرات اور مشکلات دنیا کے سامنے ہیں، عوام میں ایس او پیز پر عمل کرانے کے حوالے کابینہ اراکین متحرک کردار ادا کریں،مشکل صورتحال میں گبھرانے کی بجائے حکمت کے تحت اور متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کورونا کی صورتحال کا ملکی معیشت اور خصوصاً عام عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرنے کی حکومتی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی عمل کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے تعمیرات کے شعبے کو تاریخی مراعاتی پیکیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے فروغ کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ جہاں معاشی عمل تیز ہو وہاں نوجوانوں کے نوکریوں کے مواقع پیدا ہو سکیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لئے این سی او سی (نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر) کی طرز پر نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندگان شامل ہوں گے اور جو روزانہ کی بنیاد پر تعمیرات کے شعبے میں درپیش مسائل کا فاسٹ ٹریک حل یقینی بنائے گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نامساعد معاشی حالات کے باوجود حکومت نے پبلک دیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے لئے بھی خاطر خواہ رقوم مختص کی ہیں تاہم بڑھتی ہوئی ترقیاتی ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ ترقیاتی عمل میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملکی مصنوعات کی بیرون ملک برآمد خصوصاً آموں، فروٹ اور چاول کی برآمد اور ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کو برآمدات کے حوالے سے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ کورونا وائرس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کورونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام میں حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوویڈ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے حکومت کی حکمت عملی نہایت متوازن اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر مرتب کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کورونا سے نمٹنے کا حل نہیں ہے۔ انہو ں نے کہا کہ بھارت میں لاک ڈاؤن کے منفی اثرات خصوصاً غریب طبقے پر پڑنے والے اثرات اور مشکلات دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام میں ایس او پیز پر عمل کرانے کے حوالے کابینہ اراکین متحرک کردار ادا کریں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ جون2019میں پٹرول کی کل سیل 617000ٹن تھی۔ اس سیل کو مدنظر رکھتے ہوئے جون 2020کے لئے 847000ٹن کا انتظام کیا گیا۔ اس وقت236000ٹن پٹرول ملک میں موجود ہے393000ٹن پٹرول کے جہاز لائن میں ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں اکاون فیصد سیل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پٹرول کی قلت کا مسئلہ بڑی حد تک حل کر لیا گیا تاہم کچھ حصوں میں بعض وجوہات کی بنا پر کچھ مشکلات کا سامنا ہے جن کو حل کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 10جون 2020کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں ہیلتھ کیئر ورکرز، جو کورونا کے خلاف برسرپیکار ہیں، کے لئے کو رسک الاؤنس دینے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اس سے ساتھ اس اجلاس میں الیکٹرک وہیکل پالیسی، سال 2020کے لئے ملک میں یوریا کھاد کی ضروریات کے تخمینوں اور گندم کی حکومتی سطح پر خرید کی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے گندم کی ڈیوٹی فری درآمدکے فیصلے شامل ہیں۔ملک کے بڑے شہروں (اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاورم اور ملتان) میں واقع ائیرپورٹس کے ملحقہ علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے کے کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ باسٹھ فیصد علاقوں کے لئے این او سی کا اجراء کیا جا چکا ہے جبکہ بقیہ علاقے جو کہ ائیر پورٹس سے ملحقہ ہیں ان کے حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کثیر المنزلہ عمارات کی اونچائی کی حد کے حوالے سے نوٹیفیکیشن کا اجراء کرے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ کوروناوائرس کی وجہ سے یہ عمل قدرے تاخیر کا شکار ہوا ہے لہذا اس کی تکمیل میں کچھ مزید وقت درکار ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا کی صورتحال کا مقابلہ کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے1.24کھرب روپے کا معاشی پیکیج دیا گیا اس پیکیج کے تحت دی جانے والی رقوم کاایک حصہ عوام اور صنعتی عمل کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیا جا چکا ہے تاہم اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کہ اس پیکیج کے تحت دئیے جانے والے فنڈز آئندہ مالی سال میں بھی اسی مقصد کے لئے برؤے کار لائے جا سکے وفاقی کابینہ نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019کے سیکشن 32کے تحت کوویڈ- 19کے نام سے ایک خصوصی فنڈ کے قیام کی منظوری دی ہے۔1.24کھرب روپے کے معاشی پیکیج میں سے اب تک بچ جانے والی رقوم کو اس فنڈ میں ڈالا جائیگا تاکہ نئے مالی سال میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ رواں مالی سال کے بقیہ فنڈز بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کام آ سکیں۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خصوصاً غریب خاندانوں کے ایسے بچوں کہ جن کو گھروں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گھروں میں کام کرنے کی کیٹگری کو بھی ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991کے شیڈول ون کا حصہ بنایا جائیگااس اقدام سے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قانون میں موجود سقم کو دور کیا گیا ہے اور ان بچوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے جن کو ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر گھروں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔تفصیلات کے مطابق پٹرول کی قلت پر وزیراعظم کے زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر نے صورتحال پر انھیں بریفنگ دی۔دونوں حکام کی جانب سے پٹرول بحران پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور جرمانوں سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کیا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ٹیموں نے کئی چھاپے مارے ہیں، جس کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں پٹرول اب دستیاب ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ پٹرول کی مصنوعی قلت کسی صورت قبول نہیں ہے۔ عوام کو ریلیف فراہمی کے ساتھ حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

وفاقی کابینہ

لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کابینہ کی کمیٹی نے لاہور میں 61 مقامات سیل کرنے کی منظوری دے دی۔جن علاقوں کو سیل کیا گیا ہے ان میں عسکری ٹین، ڈی ایچ اے فیز ون اور فائیو مکمل بند کر دیئے گئے۔پنجاب کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک، سیکرٹری صحت، کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر نے شرکت کی۔ رامنگ سٹریٹ نمبر 23، چودھری بلڈنگ، قلعہ گجر سنگھ، عبدالکریم روڈ، عثمانیہ کالونی اور رائل پارک کو سیلکر دیا گیا۔کریم پارک بلاک 3، 2 اور 4، امین پارک سٹریٹ نمبر ایک کو بھی سیلکر دیا گیا، جوہرٹاؤن بلاک بی اور ایف 2 کو بھی بند کر دیا گیا جبکہ۔ کینال ویو سوسائٹی بلاک بی کو، واپڈ اٹاؤن بلاک ایف 2 اور جی۔ پی سی ایس آئی آر بلاک 2 بی، عسکری 10 ڈی ایچ اے فیز 5 کے تمام بلاک، غوثیہ کالونی، الحمد کالونی، طارق کالونی کیولری گراؤنڈ شیراز ولاز، بلال کالونی داروغہ والا، جلو موڑ، دھوبی محلہ بھی سیل ہوگا۔باٹا پور بلاک اے، بسم اللہ ہاؤسنگ سکیم جی ٹی روڈ، مناواں، حسین پورہ، کوٹھی سٹاپ اور ڈی ایچ اے فیز ون قائد ملت کالونی کچا راوی روڈ، گجا پیر روڈ تاج پورہ، شاہ عالم کالونی سٹریٹ نمبر 2۔ علی محمد پارک، اسٹریٹ نمبر 3، نظام آباد بلاک ای کو سیل کر دیا گیادوسری طرف وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھرمیں 24گھنٹے میں ایس اوپیز کی 12400 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، جس پر 1512 مارکیٹیں،دکانوں کو سیل اور 14 انڈسٹریل یونٹس کو جرمانے کئے گئے۔ اجلاس میں صوبوں نے این سی او سی کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر بریفنگ دی، جس میں کہا گیا ملک بھر کے مخصوص علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن جاری ہے، ملک بھرمیں 24گھنٹے میں ایس اوپیزکی 12400 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں اور 1512 مارکیٹ،دکانوں، 14 انڈسٹریل یونٹس کو جرمانے و سیل کیا گیا جبکہ ملک بھر میں 1466 ٹرانسپورٹرز کو جرمانے کئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 24 گھنٹے میں اسلام آباد میں ایس او پیز کی 364 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی، جس کے باعث 154 دکانیں سیل،147 گاڑیوں کوجرمانے کئے گئے۔ اسی طرح گزشتہ 24گھنٹے میں کے پی میں ایس او پیز کی 5336 خلاف ورزیاں سامنے آئیں اور 257 مارکیٹ، دکانیں سیل جبکہ 104 ٹرانسپورٹرز پر جرمانے عائد کئے گئے، بلوچستان میں بھی ایس اوپیز کی 1075 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں اور ایس اوپیز کی خلاف ورزیوں پر 104 مارکیٹ و دکانیں سیل کردی گئیں۔ بریفنگ میں بتایا گزشتہ 24گھنٹے میں پنجاب میں ایس او پیز کی 3682 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، جس کے باعث پنجاب بھر میں 655 مارکیٹ، دکانیں، انڈسٹریل یونٹ سیل کردیئے گئے اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر 801 گاڑیوں کو جرمانے کئے گئے جبکہ 24 گھنٹے میں سندھ میں ایس اوپیز کی 860 خلاف ورزیاں ہوئیں، جس پر 41 مارکیٹ،دکانیں سیل اور 7 گاڑیوں کو جرمانے کئے گئے۔اجلاس میں کہا گیا گزشتہ24گھنٹے میں آزادکشمیر میں ایس او پیز کی 865 خلاف ورزیوں پر 153 مارکیٹ،دکانیں سیل اور 321 گاڑیوں کوجرمانے کئے گئے جبکہ گلگت بلتستان میں ایس او پیز کی 218 خلاف ورزیاں کے باعث 48 مارکیٹ ودکانیں سیل اور 53 ٹرانسپورٹرزکوجرمانے عائد کئے گئے۔محکمہ داخلہ سندھ نے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سے متعلق ترمیمی حکم نامہ جاری کردیا، محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق سندھ میں ہوٹلز اور ریسٹورنٹس ہفتہ، اتوار کو بھی کاروبار کرسکیں گے۔ حکم نامے کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے کے لیے ٹیک اوے کے اوقات کار شام 7 بجے تک ہوں گے، ریسٹورنٹس، کیفے سے ہوم ڈیلیوری سروس رات 10 بجے تک ہوگی۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ہوٹلز، کیفے، ریسٹورنٹس ایس او پیز پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے دو سیکٹر سیل کر نے کا فیصلہ کرلیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے تیزی سے بڑھتے کورونا کیسز کی وجہ سے 2 سیکٹرز کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکٹر آئی ایٹ میں ایک دن میں کورونا کے دو سو کیس اور سیکٹر آئی -10 میں چار سو کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں ان علاقوں کو سیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکتا ہے۔

لاک ڈاؤن

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) ملک میں کورونا سے مزید 88 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2872 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرکے 151208 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 1081 اور سندھ میں 886 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 707 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 85، اسلام آباد میں 83، گلگت بلتستان میں 17 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ منگل کے روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 4331 کیسز اور 88 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں پنجاب سے 1740 کیسز 50 اموات، سندھ 2287 کیسز 33 اموات، اسلام آباد288 کیسز 5 اموات اور آزاد کشمیر سے 16 کیسز سامنے آئے ہیں۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1740 کیسز اور 50 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جن کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 55878 اور اموت 1081 تک جا پہنچی ہیں۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا سے 17730 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔سندھ سے ا?ج کورونا کے مزید 2287 کیسز اور 33 اموات رپورٹ ہوئی جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بذریعہ ٹوئٹر بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11819 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 2287 نئے کیسز سامنے آئے اور مزید 33 مریض انتقال کرگئے۔وزیراعلیٰ کیمطابق صوبے میں کل کیسز کی تعداد 57868 اور اموات 886 ہوگئی ہیں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے 2287 کیسز میں سے 1436 نئے کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ا?ج مزید 1222 مریض صحتیاب ہوئے جس سیصحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 29245 ہوگئی ہے۔وفاقی دارالحکومت سے ا?ج کورونا کے مزید 288کیسز اور 5 اموات سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 8857 ہوگئی ہے جب کہ انتقال کرنے والے افراد کی تعداد 83 ہو چکی ہے۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 2037 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے ا کورونا کے مزید 16 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 663 ہوگئی ہے اور اموات کی تعداد 13 ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 254 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔پیرکو خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 32 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 707 تک جاپہنچی ہے۔محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 459 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 18472 ہوگئی ہے۔صوبے میں 4692 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔بلوچستان میں پیر کے روز مزید 150 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 8327 ہوگئی۔صوبے میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں تعداد 85 ہوہے۔بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2916 ہے۔پیر کو گلگت بلتستان میں مزید 14 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 1143 ہو گئی ہے جبکہ ایک شخص ہلاک بھی ہوا۔گلگت میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ہے جب کہ اب تک 728 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔دوسری طرف چین کے قومی صحت کمیشن نے کہاہے کہ چینی مین لینڈ پر نوول کروناوائرس کے 40نئے کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 32مقامی سطح پر ترسیل جبکہ8درآمدی کیسز ہیں رپورٹ میں کہاہے کہ مقامی سطح پر ترسیل کے کیسز میں سے 27بیجنگ، 4صوبہ ہیبے اور 1 صوبہ سیچھوآن میں سامنے آیاہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81 لاکھ 18 ہزار 570 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 4 لاکھ 39 ہزار 195 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 34 لاکھ 63 ہزار 91 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آسولیشن میں ہیں، جن میں سے 54 ہزار 565 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 42 لاکھ 16 ہزار 284 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 18 ہزار 283 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 21 لاکھ 82 ہزار 950 ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 74 ہزار 801 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 16 ہزار 716 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ 89 ہزار 866 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 8 لاکھ 91 ہزار 556 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 44 ہزار 118 زندگیاں نگل چکا ہے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 7 ہزار 91 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 37 ہزار 210 ہو چکی ہے۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 41 ہزار 736 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 96 ہزار 857 ہوچکی ہے۔

کورونا ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -