چینی فوج کے ہاتھوں دراصل کتنے بھارتی فوجی ہلاک ہوئے؟ اصل اعدادوشمار جاری

چینی فوج کے ہاتھوں دراصل کتنے بھارتی فوجی ہلاک ہوئے؟ اصل اعدادوشمار جاری
چینی فوج کے ہاتھوں دراصل کتنے بھارتی فوجی ہلاک ہوئے؟ اصل اعدادوشمار جاری

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین اور بھارت کے درمیان ہمالیہ کے سرحدی علاقے میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں بھارت کے بیس فوجی ہلاک ہوئے جب کہ مزید چار زخمی فوجی اس وقت زندگی اور موت کی کشمش میں ہیں۔

بھارتی حکام نے ہلاکتوں کے اعداد وشمار جاری کردیئے۔ اس سے قبل بھارتی فوج نے کہا تھا کہ سرحدی کشیدگی میں ایک افسر(کرنل) سمیت تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں تاہم بعد میں اطلاعات سامنے آئیں کہ جھڑپ میں بیس سے زیادہ افراد شدید زخمی بھی ہوئے جن میں سے گزشتہ رات تک 17زخمی فوجی بھی لقمہ اجل بن گئے۔

دودرجن کے قریب ہلاکتوں سے بھارت کے کئی گھروں میں صف ماتم بچھ چکی ہے۔حکام کے مطابق چار شدید زخمی ابھی بھی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

چین اور بھارت کے درمیان 45سال میں پہلی بار خونریز جھڑپ ہوئی ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے ایل اے سی پر کشیدگی پرمذاکرات کے دوران  دراندازی کرنا قابل مذمت ہے۔اے ایف پی کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا کہ انڈین فوجیوں نے پیر کو دو بار سرحد پار کی اور انھوں نے ' چینی فوجیوں کو اشتعال دلوایا، ان پر حملے کیے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔'

جب کہ خفت زدہ بھارتی وزارت خارجہ اب الزام چین پر لگارہی ہے کہ اس نے گلوان وادی پر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے سفارتی نمائندے جیمز رابنز نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ہمالیہ کی بلندیوں پر چین بھارت کشیدگی بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور دوایٹمی قوتوں کے درمیان اس قدر کشیدگی کسی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے.

بھارت کا دعویٰ ہے کہ دونوں جانب ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم چین نے بھارتی فوج کے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاہے۔

دوسری جانب 

چینی فوج کے ایک ترجمان نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو لگام ڈالے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ویسٹرن تھیئٹر کمانڈ کے ترجمان چینگ شویلی کا بیان پی ایل اے کے مصدقہ ویبو اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔ اس بیان میں چانگ نے کہا کہ انڈیا سختی کے ساتھ اپنے فوجیوں کو روکے اور تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کے صحیح راستے پر آگے بڑھے۔

چینگ نے کہا: 'انڈین فوجیوں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور پھر سے ایک بار ایل اے سی کو عبور کیا۔ دانستہ طور پر چینی فوجیوں کو اکسایا اور ان پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے مابین آمنے سامنے کا تصادم ہوا اور یہی بات اموات کی وجہ بنی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انڈیا اپنی فوجیوں کو سختی کے ساتھ روکے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔'

گزشتہ روز ہونے والی کشیدگی کے بعد بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی حکام نے سرحد پر مذاکرات کیے تاہم وہ خاطر خواہ نتائج نہیں لاسکے البتہ بھارت کے مطابق جس جگہ کشیدگی ہوئی وہاں سے اب فوجیں ہٹ چکی ہیں۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -