آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،اگرآپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے توبہترہوتا،جسٹس عمرعطا کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر ریمارکس

آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،اگرآپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے ...
آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،اگرآپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے توبہترہوتا،جسٹس عمرعطا کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،اگرآپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے توبہترہوتا،عدالت آج اس معاملے پراپناحکم تحریرکردے گی،آپ اپنی اہلیہ کاپیغام لےکرآئے،آپ کی اہلیہ کا پیغام ہمارے شیڈول کومتاثرنہیں کرےگا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں10رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ اہلیہ کے مو¿قف کے بعداپنی درخواست پرمقدمہ لڑوں گا،اس معاملے میں میری اہلیہ پرکیوں الزام عائدکیاگیا؟۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ جج صاحب ہم آپ کااحترام کرتے ہیں،اب آپ تشریف رکھیں،حکومتی وکیل کودلائل دینے دیں،جسٹس قاضٰ فائزعیسیٰ نے کہاکہ میں یہاں جج کی حیثیت سے نہیں آیا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،اگرآپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے توبہترہوتا،عدالت آج اس معاملے پراپناحکم تحریرکردے گی،جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ آپ اپنی اہلیہ کاپیغام لےکرآئے،آپ کی اہلیہ کا پیغام ہمارے شیڈول کومتاثرنہیں کرےگا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ میںنے حکومتی پیش کش قبول نہیں کی،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ کیس ایف بی آر کوبھیج رہے ہیں، یہ فل کورٹ کی کارروائی ہے،آپ بیٹھ جائیں،9 ماہ میں ہم نے بھی کیس کی تیاری کی ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ حکومتی وکیل نے کہاتھاایف بی آروالے جج سے ڈرتے ہیں،عدالت میری اہلیہ کے بیان کے بعدان سے سوال کرسکتی ہے،منہ بندکرتے ہوئے اس ریفرنس کوبرداشت کیا،شہزاداکبر،فروغ نسیم،سابق اٹارنی جنرل نے ایک دوسرے کیخلاف پریس کانفرنس کی،تینوں شخصیات نے ایک دوسرے کوجھوٹاقراردیا،میں منافق نہیں کرتا،جوکہتاہوں سچ کہتاہوں،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ اس لیے کہتے ہیں کہ ریفرنس میں نقائص ہیں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -