سندھ حکومت تنخواہوں اور پینشن میں کتنا اضافہ کرنے جا رہی ہے؟ بڑی خبر

سندھ حکومت تنخواہوں اور پینشن میں کتنا اضافہ کرنے جا رہی ہے؟ بڑی خبر
سندھ حکومت تنخواہوں اور پینشن میں کتنا اضافہ کرنے جا رہی ہے؟ بڑی خبر

  

کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ 17جون بدھ کو سندھ کابجٹ پیش کرینگے، سندھ حکومت نے مالی سال 2020-21 کیلئے 12 کھرب 20 ارب روپے سے زائد کی بجٹ تجاویز تیار کرلی ہیں، نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ہو گا۔ذرائع کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے دس فیصد اضافے کی تجویز ہے،محکمہ صحت کے بجٹ میں 15فیصد اضافہ کرنے اور اس محکمہ کے نامکمل منصوبوں کی تکمیل کیلئے ترجیحی بنیاد پر فنڈز مختص کیے جانے کی بھی تجویز ہے ،بجٹ میں کرونا وبا اور ٹڈی دل کے حملوں کی روک تھام اہم ایجنڈا ہوگا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق سندھ کے نئے مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت سے صوبے کو 742 ارب روپے سے زائد کی آمدنی اور250 ارب روپے کی کٹوتی کا سامنا ہے جس کے باعث سندھ بجٹ کے مجموعی حجم میں کمی بھی متوقع ہے۔ دوسری جانب کورونا وائرس کے باعث صوبائی حکومت کے محصولات کا ہدف 275 ارب روپے مقررکیے جانے کا امکان ہے،سندھ حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کافیصلہ کیا ہے جبکہ احساس کیش پروگرام کی طرز پرسندھ بجٹ میں سندھ پیپلزسپورٹ کیش پروگرام شروع کرنے اورچھوٹے کاروباری لوگوں کوقرضے دینے سمیت بجٹ تجاویز میں 30 ارب روپے سے زائد کا معاشی ریلیف پیکیج بجٹ کا حصہ ہوگا۔

حکومت سندھ کے بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 960 ارب روپے سے زائد لگائے جانے کا امکان ہے۔ نئے مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں نئی گاڑیوں اورفرنیچرکی خریداری کے لیے 15 سے 18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صوبہ سندھ کے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے۔غیرحتمی بجٹ تجاویز کے مطابق سندھ کے بجٹ کا حجم 1220 ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے جبکہ سالانہ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام میں 25 سے 30 فیصد کٹوتی اور اے ڈی پی کی مد میں 165 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 150 ارب مختص کے جائیں گے جبکہ صحت کے شعبے کے لیے 110 ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں مختص کرنے کا امکان ہے اس ضمن میں کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے بجٹ میں 20 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

صحت کے شعبے میں ترقیاتی سیکٹر کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے اورتعلیم کے شعبے کے لیے 190 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے امن وامان کے لیے 110 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔سندھ حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کرے گی ،بجٹ میں زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں چھوٹے قرضے دینے کی تجویز ہے۔چھوٹے کسانوں کوسندھ بینک سے قرضہ دینے کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ضلعی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 15 ارب مختص کرنے کا امکان ہے،غربت کے خاتمے کے لیے کیش ٹرانسفر کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔

مزید :

بجٹ -علاقائی -سندھ -کراچی -