عدلیہ کی ساکھ کوایک جج کے باعث متاثرنہیں ہونے دیں گے،بنیادی سوال مالی امورکاہے ،اس کاجواب لیاجائےگا،،جسٹس عمرعطا بندیال

عدلیہ کی ساکھ کوایک جج کے باعث متاثرنہیں ہونے دیں گے،بنیادی سوال مالی ...
عدلیہ کی ساکھ کوایک جج کے باعث متاثرنہیں ہونے دیں گے،بنیادی سوال مالی امورکاہے ،اس کاجواب لیاجائےگا،،جسٹس عمرعطا بندیال

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہرجج قابل احتساب ہے،عدلیہ کی ساکھ کوایک جج کے باعث متاثرنہیں ہونے دیں گے،بنیادی سوال مالی امورکاہے،اس کاجواب لیاجائےگا،چاہے جسٹس قاضی فائزعیسٰی کے وکیل رضامندی نہ دیں،عدالت اس معاملے پرآگے بڑھے گی۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر سماعت جاری ہے،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،عدالت نے کہاکہ کوئی بھی شخص جوڈیشل کونسل میں رائے کے بغیرریفرنس بھیج سکتا ہے، صدرمملکت کوریفرنس بھیجنے سے پہلے اپنی رائےکا تعین کرنا ہوگا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صدر کے سامنے رائے قبل مواد کیاتھا ،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ جج کے مس کنڈیکٹ کا آئین میں تعین نہیں،عدالت نے کہاکہ صدرکہہ دیں ان کی نظرمیں جج کامس کنڈیکٹ ہے تویہ دلیل خطرناک ہے۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ شوکازمیں جن الزامات کاذکرہے وہی ریفرنس میں درج ہیں،عدالت نے کہاکہ ریفرنس غیرملکی جائیدادوں کی ملکیت اورخریداری کے ذرائع کاہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ عدالت کونسل کی کارروائی میں نہیں جا سکتی،لگتا ہے کونسل نے بڑا محتاط رویہ اختیارکیا،عدالت مالی معاملات پر جوابدہ ہے ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ہرجج قابل احتساب ہے،منیر ملک نے رضا مندی دے دی تو ٹھیک ہے ،ہم ججز اپنی نجی اور پبلک لائف پر جوابدہ ہیں ،عدلیہ کی ساکھ کوایک جج کے باعث متاثرنہیں ہونے دیں گے،بنیادی سوال مالی امورکاہے،اس کاجواب لیاجائےگا،چاہے جسٹس قاضی فائزعیسٰی کے وکیل رضامندی نہ دیں،عدالت اس معاملے پرآگے بڑھے گی۔

فروغ نسیم نے کہاکہ ایک مرتبہ جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے توچیلنج نہیں ہو سکتی،آرٹیکل 211 کے تحت کونسل کی کارروائی چیلنج نہیں ہو سکتی ،درخواست گزار نے کونسل کے شوکازنوٹس کو کالعدم قراردینے کی استدعا نہیں کی ۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کونسل کی کارروائی نہیں ہو سکتی،آپ شوکازنوٹس پر انحصارکیوں کررہے ہیں ،اس صورت میں ریفرنس کی ساکھ کیاہوگی،فروغ نسیم نے کہاکہ آرٹیکل 209 کے تحت کونسل کے پاس مواد آنے پر ازخودکارروائی کااختیار ہے،جوڈیشل کونسل مواد ملنے پر جج کے خلاف کاررروائی کرنے کی مجاز ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ازخودکارروائی کااختیار ہے تو کیا افتخارچودھری کیس کافیصلہ ختم ہو گیا ،یہ دلیل بڑی خطرناک ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -