آج کورونا کی چھٹی ہے ؟ چند جواب طلب سوالات ۔۔۔

آج کورونا کی چھٹی ہے ؟ چند جواب طلب سوالات ۔۔۔
آج کورونا کی چھٹی ہے ؟ چند جواب طلب سوالات ۔۔۔

  

ہمارے احباب  ہمیں میڈیا میں ہونے کی وجہ سے  خواہ مخواہ کا ارسطو سمجھتے ہیں کیونکہ ہم  میڈیا میں ہونے کی باوجود  ’’سوشل میڈیائی  شر‘‘ سے محفوظ ہیں ۔ اسی لئے ہماری رائے کو صائب سمجھا جاتا ہے ۔ خیر اسے چھوڑئیے  آپ صرف ہماری دردبھری کہانی سنئیے ، بلکہ پڑھئیے ۔۔

کل دفتر جاتے ہوئے  راستے میں    اپنے ہمسائے اختر صاحب سے ملاقات ہوئی  تو وہ نہایت معصومیت سے گویا ہوئے ۔ ’’ بیٹا تمھیں تو خیر پتہ ہی ہوگا کہ  کورونا کیا واقعی کوئی وائرس ہے یا ایسے ہی کوئی ڈرامہ ہے ؟ ‘‘  جلدی میں ہونے کی باوجود بھی میں نے صرف اس جملے پر اکتفا کیا  کہ ’’ انکل سب سچ ہے ‘‘ ۔

دفتر آ کے دو تین لوگوں کو  ماسک کے بغیر دیکھا  تو  خود ہی اپنا منہ چھپا کر چلنے لگے کہ احتیاطی تدابیر  اختیار کر لیں  تو   اچانک  ایک کولیگ  نگین نے بلا لیا  ’’ یار تم تو پرانی جرنلسٹ ہو  ، یہ تو بتائو کہ اس وائرس کے ساتھ ہمیں کب تک جینا ہوگا ؟  آخر تمھیں  کچھ درست معلومات ہوں گی ۔۔ ‘‘

گھر آئی تو منجھلی بھانجی کہنے لگی ’’  خالہ جانی   میں نے ابھی ابھی اپنے کلاس فیلو منعم سے پوچھا ہے  تو وہ کہہ رہا ہے کہ سب کمیشن کی گیم ہے حکومت لاشوں پر سیاست کر رہی ہے ۔ کورونا  کے مریض  تو بس ایک بہانہ ہیں  ان کے بدلے باہر کی دنیا سے پیسے لئے جا رہے ہیں۔۔ خیر میں نے اسکو کہہ دیا ہے کہ میری خالہ بہت بڑی صحافی ہیں وہ آجائیں تو ان سے پوچھ کے بتا دیتی ہوں  ۔۔‘‘

اب  آپ صرف یہ سوچئیے کہ  اگر آپ کے ساتھ ایک دن تو کیا روز یہ صورتحال ہو تو آپ کیا یقینا نیم پاگل نہیں  ہوں گے ؟  لیکن دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو عوام الناس کے اذہان میں  اس وائرس کے حوالے سے  کئی سوالات پائے جاتے ہیں ۔۔۔ چند نمونے کے سوالات پیش خدمت ہیں اور ممکنہ جوابات بھی کچھ لوگوں نے بتائے خیر میرا کام تو صرف لکھنا ہے  سوچنا آپ کی بھی ذمہ داری ہے ۔

’’ اگر کورونا واقعی وائرس ہے  تو سنا ہے کہ یہ امریکا نے چین کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے ایک بیالوجیکل حملہ کیا ہے‘‘  ( ممکنہ جواب   ۔۔ اگر امریکا ایسا کرتا تو سب سے زیادہ  تو  نقصان امریکا میں ہوا ہے‘‘

’’ کورونا کی صورتحال اب بہت خطرناک ہے  خیر یہ ہونا تھا ، ہمارے اعمال ہی ایسے ہیں ۔ ‘‘  ( ممکنہ جواب ۔۔اللہ تعالی بہت غفور و رحیم ہے  وہ اپنے بندوں کو مشکل میں دیکھ نہیں سکتا )

’’ پاکستان سمیت دنیا بھر میں  اس وائرس کی وجہ سے بہت اموات ہو رہی ہیں تو ان اشخاص کی لاشیں کہاں دفنائی جا رہی ہیں ؟  ان کے لواحقین کو لاشیں کیوں نہیں دی جا رہیں  (  ممکنہ جواب جاں  بحق ہونے والے افراد کے لوگ لاشیں لینے سے انکار کر دیتے ہوں گے ، ہسپتال والوں نے خود ہی کچھ ڈمپ کرنے کی جگہ بنائی ہو گی ۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھیں کہ روز کتنے لوگ  پاکستان سمیت مختلف حادثات میں مرتے ہیں کیا سب کی لاشیں  واپس کی جاتی ہیں ؟  )

’’ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی پلیٹ فارم پر ہے  اوپر سے لے کر نیچے تک کے عہدیداران کے لئے  کمیشن مقرر کر دیا گیا ہے  جو کہ باقاعدگی سے انھیں مل رہا ہے  ، ایک ایک کورونا مریض کے بدلے تیس لاکھ مل رہے ہیں اور لواحقین کو ۵ لاکھ  ، گیم ہے سب کی سب‘‘ ( ممکنہ جواب۔۔ اچھا جی چلیں مان لیا کمیشن ہے مگر کون سی دنیا دے رہی ہے  دنیا میں تو خود وائرس سے لوگ مر رہے ہیں اور ہمارے  ملک سے زیادہ )

’’ کورونا مریضوں کے لئے کون سا  اجتماعی  قبرستان بنایا گیا ہے ، اس طرح تو ہر جگہ کورونا کے مریض پھیل جائیں گے ۔ ‘‘ ( ممکنہ جواب۔۔ وائرس ایک سے دوسرے کو منتقل ہوتا ہے  اکٹھے قبریں پاگل بنائیں گے ؟ اور کورونا مریض ایک جگہ تو نہیں ملک بھر کے مختلف  شہروں میں ہیں )

 ’’ ماسک  ، سینی ٹائزر  اور دیگر اشیا کے زیادہ استعمال سے اپنی پسند کی کمپینوں اور  افراد کو ٹھیکے دئیے گئے ہیں اور انھوں نے خوب پیسہ کمایا ہے‘‘ ( ممکنہ جواب ۔۔ سو فیصد ایسا ہی ہوا ہے  )

’’ بچوں کی تعلیم کا بہت حرج ہو رہا ہے  ، آن  لائن تعلیم کیسے ہو گی ۔ ؟ ‘‘ ( ممکنہ جواب ، جن لوگوں کو  جدید طریقہ تعلیم کی بجائے لکیر کا فقیر بننے کی عادت ہے  وہ تو یہی کہیں گے ۔ )

اتنے سارے سوال میں لکھ کر اور آپ پڑھ کر یقینا تنگ آچکے ہوں گے  لیکن  کیا  ان سوالات کا اٹھنا زندہ قوم کی علامت نہیں  ، مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ سوالات  کام کے ہیں یا نہیں  یا مہمل ہیں  لیکن سوالات تو ہیں  لہذاان پر انگلی اٹھانے سے بہتر یہ ہے کہ ان کا جواب دیا جائے کیونکہ عوام تو سمارٹ  ، موٹے ، پتلے ، درمیانے لاک ڈائون کے درمیان پھنس کر یہی سوال کرتے ہیں ۔

اتنا لکھ کر مجھے تھکن ہونے لگی تو سوچا کہ پارلر کا ہی چکر لگا لیا جائے  اب وہاں  ایک خاتون کا کہنا تھا  کہ  ’’ کیا پاکستان میں کورونا کی دو دن چھٹی ہوتی ہے جو ہفتہ اتوار لاک ڈائون ہے  اورباقی دن  کورونا  ڈر کے مارے چھپ کر بیٹھ جاتا ہے ) ۔یہ نیا سوال سن کر میں نے اپنا سر پکڑ لیا ۔جس چیز سے بچ کر گھر سے نکلے تھے اس نے باہر بھی  پیچھا نہ چھوڑا ۔۔۔

 ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -