سندھ کے ڈکیتوں کا خوبصورت خواتین کے ساتھ گٹھ جوڑ، پاکستانیوں کو کیسے لوٹا جارہا ہے؟ حیران کن طریقہ سامنے آگیا

سندھ کے ڈکیتوں کا خوبصورت خواتین کے ساتھ گٹھ جوڑ، پاکستانیوں کو کیسے لوٹا ...
سندھ کے ڈکیتوں کا خوبصورت خواتین کے ساتھ گٹھ جوڑ، پاکستانیوں کو کیسے لوٹا جارہا ہے؟ حیران کن طریقہ سامنے آگیا

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوﺅں کا راج ہے جو لوگوں کو لوٹنے اور اغواءکرنے کے لیے اب لڑکیوں کا بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ خوبرو لڑکیاں مردوں کو فون پر اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر بلاتی اور ڈاکوﺅں کے ہاتھوں اغواءکروا دیتی ہیں اور پھر وہاں سے لاکھوں روپے تاوان دے کر ہی رہائی ملتی ہے۔پولیس ڈاکوﺅں کے اس نئے طریقہ واردات سے اس قدر عاجز آ چکی ہے کہ اس کی طرف سے شکار پور تا کشمور انڈس ہائی وے پر ہر پانچ کلومیٹر بعد ایک بل بورڈ نصب کیا گیا ہے جس پر لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ فون پر کسی لڑکی سے محبت کرنے کے بعد اس علاقے میں ان سے ملنے مت آئیں اور نہ ہی یہاں شاہراہوں پر کھڑی لڑکیوں کی مدد کریں۔

سماءٹی وی کے مطابق علاقے کے ڈی ایس پی نے بتایا ہے کہ ”ڈاکوﺅں کے ساتھ مل کر وارداتیں کرنے والی یہ لڑکیاں بہت چالاک ہوتی ہیں۔ وہ سندھی، اردو اور پنجابی زبانیں بولتی ہیں۔ وہ عموماً فون پر مردوں کو اپنی محبت کے جال میں پھانستی ہیں اور پھر کرم پور ، غوث پور یا دیگر کسی علاقے میں ملنے کے لیے بلاتی ہیں۔ آنے والے مرد لڑکی کے لیے مٹھائی کا ڈبہ، کپڑے یا حتیٰ کہ آم وغیرہ لے کر آتے ہیں، مگر وہاں اس کی ملاقات کسی لڑکی کی بجائے ایک یا دو ڈاکوﺅں سے ہوتی ہے۔ وہ عام لوگوں کے روپ میں ہوتے ہیں اور شکار کو بتاتے ہیں کہ وہ لڑکی کے کزن یا بھائی ہیں اور باجی نے ہمیں آپ کو لینے کے لیے بھیجا ہے۔ وہ اس شخص کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر کچے کے علاقے میں لے جاتے ہیں اور وہاں سے انہیں جنگل میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے گھر والوں سے رابطہ کرکے لاکھوں روپے تاوان مانگا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس طریقے سے اغواءہونے والوں میں ایک گوجرانوالہ کا نوجوان نوید مسیح بھی تھا۔ نوید کو کومل نامی لڑکی کی کال موصول ہوئی، جس نے بتایا کہ وہ سکھر کی رہائشی ہے۔ اس کے بعد دونوں فون پر بات کرنے لگے اور بالآخر کومل نے نوید مسیح کو ملنے کے لیے بلا لیا۔ وہاں نوید کو اغواءکرکے جنگل لیجایا گیا اور زنجیروں سے باندھ کر تشدد کیا گیا اور بھوکا پیاسا رکھ کر مجبور کیا گیا کہ وہ گھر والوں کو کال کرے اور 50لاکھ تاوان دینے کو کہے۔ دو ماہ یہ تشدد سہنے کے بعد ایک روز ڈاکوﺅں نے اس کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی اور مشکیں کس کر کسی دوسری جگہ منتقل کرنے لگے۔ نوید مسیح نے بتایا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اب وہ مجھے کہاں لیجا رہے تھے۔ کافی راستہ طے کرنے کے بعد میں گولیوں کی آواز سنی۔ میں فوراً زمین پر لیٹ گیا۔ ایک گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی اور پھر کسی نے آ کر میری آنکھوں سے پٹی اتاری تو میں نے دیکھا کہ وہ پولیس اہلکار تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ لڑکیاں اس قدر چالاک ہوتی ہیں کہ ایک بار ان میں سے ایک کلثوم نامی لڑکی نے لاڑکانہ کے پولیس اہلکارسید محمد علی شاہ کو اپنے چنگل میں پھنسا کر اغواءکرا دیا تھا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -