برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے تجویز کی جانے والی دوا نے کیسے جان بچائی؟ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے نے اپنی کہانی سنادی

برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے تجویز کی جانے والی دوا نے کیسے جان بچائی؟ ...
برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے تجویز کی جانے والی دوا نے کیسے جان بچائی؟ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے نے اپنی کہانی سنادی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے برطانوی ماہرین نے بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان کورونا وائرس کے مریضوں پر عام پائی جانے والی دوا ’ڈیکسامیتھاسون‘ کے تجربات کر رہے تھے۔ اب ان تجربات کے نتائج میں انہوں نے بتایا ہے کہ یہ پہلی دوا ہے جو بہت حد تک کورونا وائرس پر مو¿ثر ثابت ہوئی ہے اور یہ دوا دینے سے وینٹی لیٹر پر موجود سنگین نوعیت کے مریض کی موت ہونے کا خطرہ 35فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ دوا بنیادی طور پر سٹیرائیڈ ہے۔ 69سالہ پیٹر ہیرنگ نامی برطانوی شخص کو اپریل میں کورونا وائرس ہوا تھا اور اسے ایڈن بروکس ہاسپٹل لایا گیا تھا جہاں اس نے رضاکارانہ طور پر خود کو اس دوا کے ٹرائیلز کے لیے پیش کر دیا۔ اب وہ صحت مند ہو چکا ہے اور اس نے ڈیکسامیتھاسون کو معجزاتی دوا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹروں نے مجھے یہ دوا تجویز کی اور اس کے ٹرائیلز کا حصہ بننے کا مشورہ دیا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ میں نے ان کی بات مان لی اور اس معجزاتی دوا نے میری زندگی بچا لی۔ یہ تجربات کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر پیٹر ہوربی کا کہنا ہے کہ ”ڈیکسامیتھاسون کے ذریعے بہت حد تک کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔“ عالمی ماہرین نے اس تحقیق کو بہت بڑا بریک تھرو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے سنگین نوعیت کے مریضوں میں وائرس کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -