شوگر کے مریضوں کے لیے کورونا وائرس زیادہ خطرناک کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی

شوگر کے مریضوں کے لیے کورونا وائرس زیادہ خطرناک کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے وجہ ...
شوگر کے مریضوں کے لیے کورونا وائرس زیادہ خطرناک کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر سے ماہرین اپنی تحقیقات میں بتا چکے تھے کہ کورونا وائرس پہلے سے ذیابیطس، بلڈپریشر، پھیپھڑوں اور دل کے عارضوں میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اب امریکہ اور برازیل کے سائنسدانوں نے ایک مشترکہ تحقیق میں اس کی وجہ بھی تلاش کر لی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف ساﺅپاﺅلو اور یونیورسٹی آف واشنگٹن کے سائنسدانوں نے 700لوگوں پر کی جانے والی اس تحقیق میں پتا چلایا ہے کہ ان امراض میں مبتلا افراد کے پھیپھڑوں کی سطح پر صحت مند لوگوں کی نسبت زیادہ ’اے سی ای2ری سیپٹرز‘ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کورونا وائرس ان کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اے سی ای 2ری سیپٹرزکے ذریعے ہی کورونا وائرس خلیوں میں داخل ہوتا اور انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔ جس شخص میں یہ ری سیپٹرز زیادہ ہوں کورونا وائرس اس کے خلیوں میں زیادہ آسانی سے داخل ہوتا ہے اور کے خلیوں کی مشینری کو ہائی جیک کرکے تباہ کر دیتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اگر ہم ذیابیطس اور دیگر امراض میں مبتلا لوگوں میں اس انزائم کا علاج کر دیں اوراس کا لیول معمول پر لے آئیں تو اس سے ان لوگوں کو بھی کورونا وائرس کا زیادہ شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -