بھارت اور چین دراصل کیوں لڑرہے ہیں؟ دونوں کے درمیان جھگڑا کیا ہے؟ آپ بھی جانئے

بھارت اور چین دراصل کیوں لڑرہے ہیں؟ دونوں کے درمیان جھگڑا کیا ہے؟ آپ بھی ...
بھارت اور چین دراصل کیوں لڑرہے ہیں؟ دونوں کے درمیان جھگڑا کیا ہے؟ آپ بھی جانئے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین اور بھارت کے مابین ایل اے سی پر کافی عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی تھی لیکن لگ بھگ چار دہائیوں بعد  کسی ایک ملک کے فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ گزشتہ دنوں پیش آیا ہے۔ گزشتہ پیر کی شب ہونے والی اس جھڑپ میں چینی فوج کی کارروائی میں  ایک بھارتی کرنل سمیت 20 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ فارن پالیسی کے مطابق 1975ءکے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ چینی اور بھارتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں کوئی ہلاکت ہوئی۔ بھارتی فوج کی طرف سے اپنے آفیسر اور فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی اور بتایا گیا کہ اس جھڑپ میں چینی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ چینی فوج نے بھی اس بات کا اعتراف کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کے کتنے فوجی مرے تھے۔

ان دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہونے والی اس جھڑپ کی آخر بنیاد کیا ہے؟ 1950ءکی دہائی میں چین اور بھارت کے درمیان کافی دوستی تھی لیکن جلد ہی ہمالین بارڈر کے تنازعے پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں سردمہری آنی شروع ہوئی جو بعد ازاں مخاصمت میں بدل گئی۔ خطے کی دیگر بارڈر لائنز کی طرح لداخ کی یہ بارڈر لائن بھی برطانوی حکام کی کھینچی ہوئی ہے جو بہت غیرواضح اور انتہائی متنازعہ ہے۔ اسی متنازعہ سرحد کی وجہ سے 1962ءمیں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی اس نہج کو پہنچ گئی کہ نوبت جنگ تک جا پہنچی۔ یہ جنگ چین نے جیتی اور بھارت کو شرمناک شکست اٹھانی پڑی۔ پاکستان کے بھارت کے ساتھ جو تنازعات ہیں ان میں چین پاکستان کی حمایت کرتا ہے، اور اس پر بھی بھارت چین کے ساتھ مخاصمت رکھتا ہے۔ رہی سہی کسر چین کے منصوبے پاک چائنہ اقتصادی راہداری نے نکال دی۔ اس منصوبے سے بھارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔

اس وقت لداخ میں جس لکیر کو بارڈر کہا جاتا ہے اسے بھارت اور چین دونوں ہی تسلیم نہیں کرتے اور اسے انٹرنیشنل بارڈر کی بجائے ’ایل اے سی‘ (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) کا نام دیا گیا ہے۔ 2017ءمیں چینی انجینئرز نے اس علاقے میں چین، بھارت اور بھوٹان کے بارڈر پر ایک سڑک تعمیر کرنے کی کوشش کی جس پر چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے آ گئیں اور ڈوکلام کے علاقے میں73دن تک یہ سٹینڈ آف جاری رہا۔ اس دوران پتھروں، ڈنڈوں اور لاتوں مکوں سے دونوں ممالک کی افواج میں جھڑپیں ہونے کی خبریں بھی آتی رہیں۔ چین کی سڑک تعمیر کرنے کی یہ کوشش اور اس کے نتیجے میں ہونے والا سٹینڈ آف ہی دونوں ممالک کے مابین موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ہیں جو اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس میں فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آ گیا ہے۔

پیر کے روز ہونے والی اس جھڑپ سے پہلے تک لگ رہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی و سفارتی سطح پر قیام امن کی جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کے نتیجے میں بحران کم ہو رہا ہے لیکن اچانک اس جھڑپ کے باعث جنگ کے خطرات سروں پر منڈلاتے نظر آنے لگے ہیں۔ دونوں ملک حالیہ جھڑپ اور اس سے پہلے ہونے والی جھڑپوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔ ہر فریق دوسرے پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ دونوں ملکوں کا جنگجو میڈیا اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہر جھڑپ کے بعد اپنی اپنی فوج کی فتح کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ 2019ءکے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے وقت بھارتی اور پاکستانی میڈیا نے بھی کچھ ایسا ہی مظاہرہ کیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے لیڈروں کو ناک بچا کر آگے بڑھنے کا موقع مل گیا۔

اب ایل اے سی پر چین اور بھارت کے درمیان آگے کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں۔ بھارت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کو کم کرنے اور صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی بھارت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین دانستہ طور پر ایل اے سی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس معاملے پر چین کا ردعمل زیادہ ڈیمانڈنگ تھا۔ اس کی طرف سے بھارت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے دانستہ طور پر اس علاقے میں جھڑپوں کا آغاز کیا جو ہمیشہ سے چین کا تھا۔

2017ءکے سٹینڈ آف کے وقت بھی دونوں ملکوں میں جنگ چھڑنے کا بہت خطرہ تھا لیکن کامیابی سے یہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا گیا لیکن حالیہ صورتحال بہت آسانی کے ساتھ قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ دونوں واقعات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس وقت سٹینڈ آف میں دونوں طرف کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی لیکن اس پیر کی رات ہونے والی جھڑپ میں کافی ہلاکتیں ہو چکی ہیں چنانچہ دونوں طرف انتقام لینے کے لیے دباﺅ بڑھ سکتا ہے جس سے صورتحال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ چین 1990ءاور 2000ءمیں کامیابی کے ساتھ روس اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے حل کر چکا ہے۔ اس کے بعد ان سرحدوں پر چین اور ان ممالک کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ تاہم اس ہمالین خطے میں سرحد کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ حساس اور کٹھن ہے۔

اس خطے میں موجود قدرتی وسائل، خاص طور پر پانی کے ذخائر، ایسی وجہ ہیں جو اس مسئلے کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ 1ارب 40کروڑ سے زائد لوگ اس خطے سے نکلنے والے دریاﺅں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے مغربی بارڈر کے برعکس اس بارڈر پر دو سے زائد فریق ملوث ہیں، جن میں چین اور بھارت کے ساتھ بھوٹان اور نیپال بھی شامل ہیں اور پاکستان بھی اس میں ایک فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر مستزاد چین کی بڑھتی طاقت اور قومیت پرستی، دوسری طرف بھارت میں بھی قومیت پرستی اپنے عروج پر ہے چنانچہ دونوں ملک کسی طور خطے سے دستبرداری قبول نہیں کر سکتے۔ ان پہلوﺅں کو مدنظر رکھتے ہوئے غالب امکان یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے تنازعے کی طرح چین اور بھارت کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا تنازعہ بھی مستقبل قریب میں مستقل طور پر حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

مزید :

بین الاقوامی -