پنجاب اور سندھ کا بجٹ ، عوام کے مسائل اور تقریروں کی ریس

پنجاب اور سندھ کا بجٹ ، عوام کے مسائل اور تقریروں کی ریس
پنجاب اور سندھ کا بجٹ ، عوام کے مسائل اور تقریروں کی ریس

  

وفاق کے بعد پنجاب اور سندھ کا بجٹ 2021-22ءبھی  پیش کردیا گیا۔ دونوں صوبوں کے مطابق انہوں نے اپنا بہترین بجٹ پیش کیا ۔ پنجاب نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی جبکہ سندھ نے 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے ۔ پنجاب نے مزدور کی کم از کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی اور سندھ نے 25 ہزار روپے کردی ہے۔ میرے خیال میں بجٹ کا یہ وہ حصہ ہوتا جس میں پاکستان کی اکثریت عوام  بحت ومباحثہ کرتی نظر آتی ہے۔ 

 سندھ بجٹ کے کل حجم پر نظر دوڑائیں  تو معلوم ہوا ہے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ  نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال 2021-22ء کے لیے سندھ بجٹ 1477.903 ارب روپے ہے ۔ خسارے کا تخمینہ 25،738 ارب لگایا گیا ہے اور صوبائی بجٹ میں 19.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ 

 پنجاب کا نئے مالی سال کا بجٹ 2653 ارب روپے رکھا گیا ہے ۔ بجٹ گزشتہ سال سے 18 فی صد زیادہ ہے ۔  تعلیمی بجٹ پر دونوں صوبوں نے اضافہ کیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ صحت بجٹ میں اضافہ کیا ہے ۔

سندھ نے صحت کے بجٹ میں 29 فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ پنجاب نے مجموعی طور پر 442 ارب روپے مختص کیے ہیں ۔ پنجاب کا محکمہ زراعت کا ترقیاتی بجٹ 31 ارب 50 کروڑ کی  تجویز دی گئی ہے۔ سندھ نے وبا سے نمٹنے کے لیے 24.72 بلین روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ۔ پنجاب نے شعبہ صحت کے لیے 370 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔

کورونا وبا کے دوران پاکستان بھر میں تعلیم حاصل کرنے کے مسائل نظر آتے رہے ہیں ۔ آن لائن تعلیم کو حاصل کرنے کے لیے طالب علم کو انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تھی۔ اور کورونا وبا میں معیشت سمیت ہر شعبہ میں مشکلات آئی ہیں ۔ پنجاب اور سندھ سمیت پاکستان بھر کا تعلیم اور صحت دونوں کا مسلہ نظر آتا ہے ۔

دونوں صوبوں کے مطابق انہوں نے اپنا بہترین بجٹ پیش کردیا ہے ۔ پاکستان میں غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی کمانا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔۔۔ پاکستان میں بے روزگار کی تعداد 66 لاکھ سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔۔ ۔ 

پاکستان میں بجٹ تقریر سے عوامی مسائل  تو کم نہیں ہوسکے گے۔۔ ۔ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی مسائل کو دلدل کیسا نکالا جائے ؟؟؟ اب موجودہ  حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ مختص کیا گیا بجٹ پر مکمل عمل کیا جائے اور عوام کو پریشانیوں سے نکالا جائے ۔۔۔ ورنہ تقریروں کی ریس میں سیاستدان تو نمبر لیتے رہیں گے جبکہ دوسری جانب عوام کی پریشانیوں کا مذاق اڑایا جاتا رہے گا۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -