علامہ طاہر اشرفی کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا اور الزامات ، پاکستان علماء کونسل نے بڑا قدم اٹھا لیا

علامہ طاہر اشرفی کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا اور الزامات ، پاکستان ...
علامہ طاہر اشرفی کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا اور الزامات ، پاکستان علماء کونسل نے بڑا قدم اٹھا لیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی اور پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا ، من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا گیا ،پاکستان علماء کونسل کے رہنما مولانا محمداسلم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو صاحبزادہ ضیاء ناصر نامی شخص کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے درخواست دے دی ۔

تفصیلات کے مطابق علامہ طاہر محمود اشرفی جو ان دنوں نجی دورے پر سعودی عرب میں موجود ہیں کہ خلاف فیس بک پر صاحبزادہ ضیاء ناصر نامی شخص نفرت انگیز اور من گھڑت الزامات کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے ۔پاکستان علماء کونسل کے ذرائع کے مطابق صاحبزادہ ضیاء ناصر  نامی شخص دیار غیر میں بیٹھ کر اکثر و بیشتر فیس بک پر مختلف عسکری و سیاسی قیادت اور مختلف مذہبی جماعتوں کے قائدین اور علماء کے خلاف شر انگیز اور نفرت پر مبنی پوسٹیں کرتا ہے ،ضیاء ناصر نے گذشتہ چند دنوں سے ایک طویل وقفے کے بعد علامہ طاہر محمود اشرفی کے خلاف انتہائی نازیبا پوسٹیں شیئر کرنا شروع کی ہوئی ہیں جن میں ایسے من گھڑت الزامات عائد کئے جا رہے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

علامہ طاہر محمود اشرفی سوشل میڈیا پر پاکستان علماء کونسل کے ذمہ داران اور کارکنان کو ایک دوسرے پر الزام تراشی اور گالم گلوچ کی بجائے ہمیشہ مہذب گفتگو کی تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم صاحبزادہ ضٰاء ناصر کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد پاکستان علماء کونسل لاہور کے رہنما مولانا محمد اسلم نے ایف آئی اے میں ضیاء ناصر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ لندن میں بھی ضیاء ناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

دوسری طرف مختلف مکاتب فکر کے علماء کا کہنا ہے کہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے ہمیشہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گالیاں نکالنے اور من گھڑت خبریں شائع کرنے والوں کو بھی معاف کیا ہے اور کسی طرز کی کوئی قانونی کارروائی نہیں کی تاہم ضیاء ناصر نامی شر پسند کا  ایک سازش کے تحت علمائے حقہ کے خلاف الزامات اور گھناؤنے الزامات عائد کرنا مشغلہ بنا ہوا ہے ،ایسے شخص کو معاف کرنا بھی زیادتی ہے لہذا تحقیقاتی ادارے کو اس شخص کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اس سازش کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے سخت ترین سزا دینی چاہئے تاکہ یہ کیس مثال بن سکے اور آئندہ کوئی بھی شرپسند علماء کے خلاف زہر افشانی نہ کر سکے ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -