ہلال احمر اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت

ہلال احمر اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت
ہلال احمر اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت

  

بین الاقوامی انجمن صلیب احمر و ہلال احمر ایک فلاحی ادارہ ہے جس کی شاخیں دنیا کے ہر ملک میں ہیں۔ یہ ادارہ سب سے پہلے سوئٹزر لینڈ میں قائم ہوا۔ اس کا مقصد جنگ میں زخمی ہونے والے سپاہیوں کی دیکھ بھال اور جنگی قیدیوں کی امداد اور خبر گیری کرنا تھا۔ بعد میں اس کے مقاصد کو وسعت دے دی گئی اور زمانہ امن میں بھی اسے عوام کی خدمت کاذریعہ بنا دیا گیا۔ چنانچہ اب یہ ادارہ ہنگامی حوادث سے متاثر ہونے والوں کی بھی امداد کرتا ہے۔ 1940ء  میں بین الاقوامی ریڈ کراس سوسائٹی نے بچوں کے تحفظ اور امداد کی غرض سے ایک الگ شعبہ قائم کر دیا۔

 ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے پرچم کے تحت امداد پہنچانے والی گاڑیاں اور ایمبولنس بین الاقوامی قانون کے تحفظ میں ہوتی ہیں۔ یہ تحفظ اب ریڈ کرِسٹل کے پرچم کے تحت کام کرنے والی گاڑیوں کو بھی دستیاب ہو گا۔ حالت جنگ میں انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی متحارب ممالک اور ان کی نیشنل ریڈ کراس سوسائٹیز کے مابین غیرجانبدار رابطے کا کام انجام دیتی ہے اور جنگی قیدیوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے اور انہیں ڈاک اور اسی نوع کی دوسری سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ جنگ کے علاوہ قدرتی آفات میں بھی یہ تنظیم فعال کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں ریڈ کراس سوسائٹی کا نام فروری 1974ء  میں بدل کر پاکستان ہلال احمر سوسائٹی رکھ دیا گیا اور اس کے صلیب کے نشان کی جگہ سرخ ہلال نے لے لی۔

ہلال احمر ریڈ کراس کا منشور اب وسعت اختیار کر گیا ہے اور اس میں قدرتی آفات کے علاوہ فرسٹ ایڈ، تھیلا سیمیا سنٹرز، ایمبولینس سروس،ایچ آئی وی ایڈز، نفسیاتی مشاورت، خون کا عطیہ، بلڈ کولیکشن، لیبارٹری کی سہولیات، فری ڈسپنسریاں، فری ہسپتال اور دیگر فلاحی پراجیکٹ شامل ہیں۔ پاکستان میں اب اس بین الاقوامی ادارہ کی نسبت  دیگر فلاحی ادارے ریسکیو1122،ایدھی اور چھیپا  آگے چلے گئے ہیں۔

دنیا بھر میں ہونے والے واقعات ہمیں اس تنظیم کے کاموں کی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ حال میں نیپال کے زلزلے میں عالمی امداد اوراس کے اراکین کی جانفشانی اور بہادری اس  کا  جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ہم دنیا بھر میں اس تحریک کے انسانی فلاحی امدادی اورعالمی انسانی قانونی امور میں قریبی تعاون سے کام کرتے ہیں۔  ریڈ کراس انٹرنیشنل کمیٹی کا بحیثیت جنیوا کنونشن کے سرپرست کے عالمی انسانی قانون میں خصوصی کردار ہے۔

ریڈکراس /ہلال احمر اب پاکستان میں اس طرح متحرک نہیں رہا، جس طرح پہلے تھا اب اس میں سیاسی عناصر شامل ہو گئے ہیں اور ملازمین کو کوئی تحفط نہیں ہے اس کے قوانین  کو ذاتی مفادات کی خاطر جب چاہے تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس سے  اس کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے اس ادارہ کو پاکستان میں کسی محکمہ کے سپرد کر دینا چاہیے اور چیک اینڈ بیلنس کی کوئی اتھارٹی بھی قائم کر دینی چاہیے اس ادارہ پر میری کتاب ”ریڈ کراس اور انسانیت“ بھی سامنے آئی ہے، جس میں اس کے ڈھانچہ کی تبدیلیوں کی نشاندھی کی گئی ہے، حکومت کو اس ادارہ کی طرف توجہ دے کر اس کی ساکھ کو بحال کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -