"پی پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد اب حکومت پر دباؤ نہیں، اگلے الیکشن کی تیاریں کریں" سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا مشورہ

"پی پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد اب حکومت پر دباؤ نہیں، اگلے الیکشن کی ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت میں جنگ بندی کے بعد ہی ایوان کا ماحول بہتر ہوا، پیپلز پارٹی کے پاکستان ڈٰیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے علیحدگی کے بعد سخت سیاست کا خاتمہ ہوگیا، اب حکومت اور اپوزیشن کو اگلے الیکشن پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ اگر حکومت اگلے دو سالوں میں سر جھکا کر کام کرے گی تو ہی الیکشن میں سر اٹھا کر مقابلہ کرسکے گی۔

نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی ہوئی تو اس کے بعد ایوان کا ماحول بدل گیا۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن نے سلوک سے ایوان کی کارروائی چلانے پر اتفاق کیا جس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔

بجٹ پاس کروانے کے حوالے سے سوال پر سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بیک فٹ پر ہے، حکومت کے پاس ووٹ پورے ہیں ، ابھی ایسی کوئی ایسی بغاوت نہیں ہوئی کہ لوگ کہیں کہ ہم ووٹ نہیں دیں گے۔

مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس پہلے بھی اکثریت تھی اور اب بھی اکثریت موجود ہے، بجٹ میں بہت سے مثبت اشارے ملے ہیں لیکن جب تک مہنگائی اور بیروزگاری ختم نہیں ہوگی تو حکومت کیلئے مشکلات ہوں گی۔ دو سال کے عرصے میں بہت سا کام کرنا باقی ہے، حکومت سر جھکا کر کام کرے گی تو ہی انتخاب کے میدان میں سر اٹھا کر مقابلہ کرسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد غصے کا اظہار تھا، اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ جب ماحول بہتر ہوگیا ہے تو سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس سے شور شرابہ مزید بڑھتا۔

شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کے حوالے سے مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے پرفارم کیا ہے جس کے سب معترف ہیں، ان کے دور میں پنجاب میں بہت کچھ ترقی ہوئی ہے، اسی پرفارمنس کی بنیاد پر انہوں نے 2018 کے الیکشن میں بھی ووٹ لیے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی میں پھر اسی پرفارمنس کی بات کی جس کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ پرفارم کرچکے ہیں اس لیے اگلی بار بھی انہیں ووٹ دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے الگ ہوئی تو اپوزیشن کی سیاست کو دھچکا لگا، اس کے بعد استعفوں کی بات ختم ہوگئی ، اب سخت سیاست کے ذریعے حکومت پر دباؤ نہیں بڑھایا جاسکتا۔ حکومت اور اپوزیشن کو اگلے الیکشن کی تیاری کرنی چاہیے، انتخابات کے اندر ہی مقابلہ ہوگا جو حکومت، اپوزیشن ، ملک اور جمہوریت کیلئے بہتر ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -