تیز دھوپ نے ہر پتھر کنکر کا رنگ اڑا رکھا تھا،دریا ہم سے کچھ دور لا تعلقی سے بہہ رہاتھا

تیز دھوپ نے ہر پتھر کنکر کا رنگ اڑا رکھا تھا،دریا ہم سے کچھ دور لا تعلقی سے ...
 تیز دھوپ نے ہر پتھر کنکر کا رنگ اڑا رکھا تھا،دریا ہم سے کچھ دور لا تعلقی سے بہہ رہاتھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:104

 زیارت شاہ شمس تبریز:

اب ہم کھلے علاقے میں سفر کر رہے تھے۔تیز دھوپ نے ہر پتھر کنکر کا رنگ اڑا رکھا تھا۔دریا ہم سے کچھ دور لا تعلقی سے بہہ رہاتھا،اب اس کی خنکی ہم تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ سورج کی تپش سے خشک زمین سے دھواں سا اٹھتا نظر آتا تھا جس سے آ نکھوں کے سامنے کا منظر ہلکا ہلکا لرزتا تھا جیسے پانی کی سطح پر کوئی عکس لرزتا ہے ۔ ایک سیمنٹ کے چبو ترے پر چند چھو ٹے چھوٹے سفید، ہرے اور سرخ جھنڈے فرش میں نصب تھے۔ پاس ہی پتھروں کے ایک ڈھیر میں تین چارمزید سفید جھنڈے گڑے ہو ئے تھے۔ چبو ترے کے ساتھ ایک آ ہنی گلّا نصب تھا جو مقفل بھی تھا۔ عقیدت اپنی جگہ ، احتیاط اپنی جگہ۔ یہ زیارت شاہ شمس تبریز تھی۔ 

شمش تبریز کے نام سے کون واقف نہیں۔ مولانا روم (1207- 1273 ئ) کی شمس تبریز سے ملا قات نے فلسفہ تصوف پر ان مِٹ اثرات چھو ڑے ہیں۔ فارسی ادب کے چار ستون ہیں۔ حافظ ، سعدی، فردوسی اور رومی۔ رومی کی وجہ شہرت ان کے دیوان سے زیادہ ان کی مثنوی ہے۔ کہتے ہیں شمس تبریز اگر مولا نا روم کی زندگی میں نہ آ تے تو فارسی زبان کو”مثنوی“ جیسی لافانی تخلیق میسر نہ آ تی جسے ”ہست قرآں در زبان ِ پہلوی“ بھی کہا جاتا ہے۔ 

مو لوی ہر گز نہ شد مو لائے روم

تا غلامِ شمش تبریزی نہ بود 

میں خود مثنوی کا قاری اور عاشق ہوں۔ جانے سردیوں کی کتنی دھند بھری منجمد راتیں پروفیسر خوشی محمد اختر صاحب کی رہنمائی و معیت میں مثنوی کو پڑھنے اور سمجھنے میں گزاری ہیں۔ رومی اور شمس تبریز کی محبت کے گرد اسرار کے دبیز پردے ہیں۔ وہ کہاں سے آ ئے تھے؟ اور کہاں گئے؟ با لخصوص شمس تبریز کی موت ایک بہت بڑا راز رہی ہے۔ ان کی قبر کا کہیں نشان نہیں ملتا۔ با لعموم یہ مشہور ہے کہ جلا ل الدین رومی کے بیٹے نے شمس تبریز کو قتل کر کے یا کروا کے لاش کو کہیں غائب کر دیا تھا۔ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شمس تبریز ملتان میں دفن ہیں ۔

  ایک مردہ لڑکے کے حوالے سے کرامت کو علما ءنے خلاف ِ شریعت قرار دے کر شمس کی سزا کا مطالبہ کر دیا جسے شمس نے احترامِ شریعت میں قبول کر لیا۔ قا ضی نے شمس تبریز کی کھال اتارنے کا فیصلہ دیاجب کھال اترنے کا وقت آ یا تو شمس نے سر کے بالوں کو پکڑا اور اپنی کھا ل ایک قمیض کی طرح اتار کر اپنے ہاتھوں قا ضی کو پیش کر دی۔ 

اب یہ ہوا کہ بے کھال کے جسم کی وجہ سے کو ئی شمس کو قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ ایک روز بھوک سے تنگ آ کر انہوں نے ایک قصا ئی کی منت کی تو اس نے گو شت کا ایک ٹکڑا ان کی جانب اچھال دیا۔اب سوال اس ٹکڑے کو بھو ننے کا تھا جسے شہر میں کوئی بھون کر دینے کو تیار نہیں تھا ۔ جب کسی نے مدد نہ کی تو انہوں نے آسمان میں چمکتے سورج کو دیکھ کر کہا۔

”تو بھی شمس ہے، میں بھی شمس ہوں۔ اب تو ہی میرا ٹکڑا بھون دے۔“

یہ سنتے ہی سورج زمین کے قریب ہوا جس کی تپش سے نا صرف گو شت کا ٹکڑا بھُن گیا بل کہ شمس کے جسم پر کھرنڈ بھی آ گیا۔ اس دن سے ملتان میں گر می زیادہ پڑ نے لگی ہے۔

مجھے یہ واقعہ اپنے والد سے بارہا سننے کا اتفاق ہوا ہے۔ والد صا حب سے سوال پوچھنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ وہ سوال پوچھنے کو گستاخی، گم راہی اور کفر سمجھتے ہیں اور جواب دینا اپنی توہین لیکن میرے ذہن میں بہت سے سوال تھے جن کا جواب، سوائے اندھے یقین کے، کہیں نہیں تھا، کسی کے پاس نہیں تھا۔

میرا تجسس مجھے ملتان میں اس مزار تک لے گیا جو شمس تبریزی کے نام سے منسوب ہے۔ مزار کے باہر تختی اور اندر مزار کی لوح دیکھ کر میں چو نکاجہاں صا حب ِ مزار کا نام ”شمس سبزواری المعروف شمس تبریزی“ تحریر تھا۔ شمس سبزواری اسماعیلی مذہب کے داعی(متوفیٰ 1276) گزرے ہیں جو اسماعیلی مذہب کے انتیسویں امام قاسم شاہ کے حکم پر جنوبی ایشیاءمیں تبلیغ ِ دین کے لیے ایران کے شہر سبزوار سے آئے تھے ۔ایک زمانہ تھا کہ فاطمی خلافت کی وسعت شمالی افریقہ ، شام ، یمن ،حجاز ، فلسطین، سسلی ، افغانستان وغیرہ سے لے کر ملتان تک تھی۔ سندھ اور ہند میں اسماعیلی دعوت عروج پر تھی۔ چوں کہ ملتان دسویں صدی عیسوی کے آس پاس ہندوستان میں اسماعیلیت کا مرکز بھی رہا ہے اس لیے شمس سبزواری کا یہاں آ نا قرین ِ قیاس ہے۔ قصہ گوئی اور عوام کی کم علمی نے انہیں شمس سبز واری سے شمس تبریزی بنا دیا جو کبھی اس علاقے میں نہیں آئے۔ جس مقام پر مبیّنہ طور پر سورج قریب ہوا تھا اسے ملتان والے ”سورج کنڈ“ کہتے ہیں اور شمس تبریز کی کرامت والی جگہ سے منسوب کرتے ہیں۔ سورج کنڈ ہندو مت کی وہ جگہ ہے جہاں گئے وقتوں میں ایک پُر شکوہ مندر تھا جس میں سوریا دیوتا یعنی سورج کی پوجا ہوا کرتی تھی ۔ یہ مندر حضرت بہاؤالدین زکریا ؒ کے مزار کے پاس ہی ہے اور اس کا تذکرہ قبل از اسلام کی تواریخ میں بھی ملتا ہے۔ سورج کنڈ کے سورج اور شمس تبریزی کے شمس میں معنوی مماثلت نے تاریخ کو عقیدے سے الجھا دیا۔ میں بہت سال پہلے سورج کنڈ کامندر دیکھنے گیا تھا لیکن اب وہاں صرف تاریخ اور مندرکا ملبہ تھا جس پرعقیدت سے سرشار لوگ شمس تبریزی کی کرامت کی نسبت سے جمعرات کی جمعرات چراغ جلا کر منتیں مانگتے تھے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -