ملک چلانے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو رموزِ سیاست سے واقف ہو اور ملک کی کشتی کو وقت کے طوفانی دھارے سے بحفاظت نکال سکے

ملک چلانے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو رموزِ سیاست سے واقف ہو اور ملک کی ...
 ملک چلانے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو رموزِ سیاست سے واقف ہو اور ملک کی کشتی کو وقت کے طوفانی دھارے سے بحفاظت نکال سکے

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :28

فلسفہ سقراط

اگرچہ سقراط سے قبل بھی فیثاغورث اور سوفسطائی بھی اپنے فلسفوں کا پرچار کرتے تھے لیکن سقراط نے روح کی پاکیزگی، نیکی اور علم کو اپنے فلسفے کا موضوع بنایا۔سقراط کا یقین تھا کہ سچائی ابدی ہے اس کو کوئی زوال نہیں۔سقراط محبت کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز قرار دیتا ہے۔ہمیں اپنے نفس کی حفاظت کرنی چاہیے اسی میں سکون و راحت ہے۔”انسان آخرت میں اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔“

”اصلاح نفس ہی کے ذریعے انسان خود کو مطمئن کر سکتا ہے۔ انسانی شخصیت میں مرکزی اہمیت اس کے ذہن، عقل یا روح کی ہے جب کہ جسم کی اہمیت ثانوی ہے جسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے عقل اور روح استعمال کرتی ہے۔“

”کسی کی شخصیت کی بجائے اس کے جسم سے محبت کرنا حیوانوں کا کام ہے۔“

”بدصورت اپنی بدصورتی کو نیکیوں سے دور کریں اور خوبصورت اپنی خوبصورتی پر برائیوں کے دھبّے نہ پڑنے دیں۔“

”ہر شخص میں چاہے وہ غلام ہو یکساں صلاحیت ہوتی ہے اس لیے سب لوگ برابر انصاف کا حق رکھتے ہیں۔“

”فلسفیانہ غوروفکر کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں جذبات و محبت کی بڑی اہمیت ہے اور ان کا اصل مقصد اعلیٰ روحانی فتوحات کا حصول ہے۔ جذبات و محبت کے راستے کی پہلی منزل جمال و خوبصورتی سے آگاہ اور چاہت میں مبتلا ہونا ہے جب کہ آخری منزل سطحی و جسمانی تعلق سے ترقی کر کے اعلیٰ مقاصد میں مگن ہونا ہے۔“

”حریت فکر ایک لازمی شے ہے۔“جو شخص دنیا سے نجات پا کر آخرت میں آ جائے گا وہاں وہ ان حقیقی ججوں کو پائے گا جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ وہاں انصاف کرتے ہیں۔“

”سیاست ایک فن ہے جس کے لیے خداداد صلاحیت کے علاوہ وسیع مطالعہ اور مہارت درکار ہوتی ہے۔“

”اسمبلی احمقوں، ذہنی معذوروں، موچیوں، ترکھانوں، لوہاروں، کسانوں، دکانداروں اور منافع خوروں پر مشتمل ہے جو ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیسے کوئی چیز سستی لے کر مہنگی بیچی جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کے مسائل پر ایک دفعہ بھی نہیں سوچا۔“

”ملک چلانے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو رموزِ سیاست سے واقف ہو اور ملک کی کشتی کو وقت کے طوفانی دھارے سے بحفاظت نکال سکے۔“

”ہر اس شہری کو صرف اس وجہ سے کہ وہ عاقل و بالغ ہے حکومت چلانے کا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی گلی میں چلتے ہوئے شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بادشاہ یا حکمران کا انتخاب کرے۔ کوئی شخص اس بنیاد پر کہ اسے عوام نے چنا ہے، حکمران کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ بادشاہ یا حکمران وہی ہوتا ہے جو جانتا ہو ملک کو کیسے چلانا ہے۔“

”تمام متضاد اشیاءمثلاً کم زیادہ، کمزور مضبوط، بڑا چھوٹا، سونا جاگنا، زندگی اور موت آپس میں یوں منسلک ہیں کہ ایک کے بعد دوسرا وجود میں آ رہا ہے جس طرح سونے کے بعد جاگنا ہے۔ اسی طرح موت کے بعد زندگی ہے اگر متضادیوں ایک دوسرے کی جگہ نہ لے رہے ہوتے تو کائنات میں ٹھہراﺅ آ جاتا اور بالآخر تمام اشیاءفنا ہو جاتیں۔“

”میں مرنے کے لیے جاتا ہوں اور تم زندہ رہنے کے لیے لیکن ہم دونوں میں سے کون بہت تقدیر کی طرف جا رہا ہے اللہ ہی کو معلوم ہے سیاست ایک آرٹ اور جمہوریت ایک طے شدہ حماقت ہے۔“

”میرا دعویٰ ہے جو شخص اپنی زندگی فلسفہ کے لیے وقف کرے گا وہ مرتے وقت خود کو مطمئن پائے گا اور ایسے یقین ہونا چاہیے کہ وہ اگلی دنیا میں شاندار نعمتوں سے نوازا جائے گا۔“

”ریاست کی مثال ایک خوب پلے ہوئے گھوڑے کی مانند ہے جو اپنے وزن اور بھاری بھر کم وجود کے باعث سست رفتار ہے اسے ایک ایسی کاٹنے والی مکھی کی ضرورت ہے جو اسے نیند سے جگا کر ہوشیار کرے۔“

”جو شخص دوسری دنیا کے سفر کے لیے تیار بیٹھا ہو۔ اس کے لیے اس سے مناسب اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ وہ وہاں کی زندگی کے بارے میں سوچے اور ہستی کے اس سفر کے بارے میں باتیں کرے۔“

”یہ نہ سوچو زندگی اور اولاد صحیح بات پر مقدم ہے بلکہ صحیح بات ہی سب پر مقدم ہے ایسا کرنے ہی سے تم اپنے آپ کو ان کے حضور بَری کرا سکو گے جو دوسری دنیا کے حکمران ہیں۔“

”موت کوئی مصیبت یا بلائے عظیم نہیں ہے یہ تو ایسی پرسکون اور گہری نیند کی مانند ہے کہ پارس کا شہزادہ بھی ایسی پرسکون نیند کو ترستا ہے یا پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا نام ہے۔“

”مجھے یقین ہے کہ مَیں مرنے کے بعد سب سے پہلے ان خداﺅں کے پاس جاﺅں گا جو عقلمند بھی ہیں اور اچھے بھی۔ اگر مجھے ان کا یقین نہ ہوتا تو مرنے پر افسردہ ہونا غلط نہ سمجھتا۔“

”نیک لوگوں کے لیے دوسری دنیا ایک نعمت ہے۔“

”فکر کو صرف اپنی ذات اورجائیداد کے لیے استعمال نہ کرو بلکہ تمہارا اولین اور بالاتر فرض اپنی روح کی نگہداشت کرنا ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ دولت سے فضلیت حاصل نہیں ہوتی بلکہ ہمیں فضیلت سے ہی دولت اور ہر قسم کی ذاتی اور اجتماعی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔“(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -