سرکاری ادارے پاکستان پوسٹ آفس سروس استعمال کریں، پی اے سی

 سرکاری ادارے پاکستان پوسٹ آفس سروس استعمال کریں، پی اے سی

  

اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس سمیت تمام سرکاری اداروں کو پاکستان پوسٹ آفس کی سروس استعمال کرنے کی ہدایت کردی جبکہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے نقصانات سے متعلق بریفنگ بھی طلب کر لی،کمیٹی نے آڈٹ حکام کو پی ٹی سی ایل کا آڈٹ کرنے کا حکم بھی دے دیا جبکہ ڈی جی ایف ڈبلیو او کی اجلاس میں عدم شرکت پر سیکرٹری دفاع کو خط لکھتے ہوئے آئندہ میٹنگ میں سیکرٹری دفاع اور ڈی جی ایف ڈبلیو او کو طلب کر لیا۔جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں ہوا جس میں وزارت مواصلات کے سال 2019-20کے آڈٹ اعتراضات کاجائزہ لیا گیا،اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کے ضرورت سے زیادہ اسٹاف کے کمیٹی اجلاس میں آنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کی ضرورت تو تھی نہیں،کیوں اپنے دفاتر کو چھوڑ کر آئے ہیں، آپ کے دفاتر ادھر خالی ہوتے ہیں لوگ رلتے رہتے ہیں، جو متعلقہ لوگ ہوں وہ کمیٹی میں آئیں، ایف ڈبلیو او والے کیوں نہیں آئے ان کو کال کریں ان کے آڈٹ پیراز ہیں جو بھی سربراہی کر رہے ہیں اس کو یہاں ہونا چاہئے، قانون قانون ہے۔نور عالم خان نے سیکرٹری مواصلات سے کہا کہ جو انکوائریاں آرڈر ہوئیں تھیں ان کے لئے ایک ایک مہینے کا وقت دیا گیا تھا ایک ایک سال کیوں نہیں انکوائریاں کرائی گئیں، رکن کمیٹی وجیہہ قمر نے کہا کہ یہ تو پی اے سی کا وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ 

پی اے سی

مزید :

علاقائی -