بجٹ جھوٹ پر مبنی ڈاکو منٹ، غلامی کا مسودہ، روٹی مہنگی اور موت سستی ہو گئی: سراج الحق 

بجٹ جھوٹ پر مبنی ڈاکو منٹ، غلامی کا مسودہ، روٹی مہنگی اور موت سستی ہو گئی: ...

  

     لاہور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام پر بمباری جاری ہے، بجٹ کے نتیجے میں روٹی مہنگی اور موت سستی ہو گئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو بجٹ پیش کیا وہ جھوٹ پر مبنی ڈاکومنٹ اور غلامی کا مسودہ ہے۔ 9502ارب کے بجٹ میں لگ بھگ چارہزار سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اور چارہزار این ایف سی کی مد میں صوبوں کو جائے گا، جب کہ 1500 ارب دفاع پر خرچ ہوں گے۔حکومت بتائے ترقیاتی کاموں اور تنخواہوں کے لیے پیسہ کہاں سے لائے گی۔ عوام کو نچوڑ کر جو رقم اکٹھی کی جائے گی وہ عالمی مالیاتی اداروں کی قسطیں چکانے میں صرف ہو گی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ کی عیاشیوں کی قیمت غریب عوام ادا کریں۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کے لیے سانس لینا دشوار، حکمران اشرافیہ 2600ارب کی سبسڈی لے رہا ہے۔ پی ڈی ایم، پی پی کی حکومت پی ٹی آئی کا تسلسل ہے، دونوں نے قوم کا حال اور مستقبل آئی ایم ایف کے ہاتھوں بیچ دیا۔ بدھ کی رات گیارہ بجے حکومت نے عوام پر ایک اور ڈرون حملہ کر کے پٹرول کی فی لٹر قیمت 234روپے کر دی، لوگوں کے لیے اپنے بچوں کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر سکول چھوڑنا دشوار ہو گیا ہے۔ گیس کی قیمت میں 45فیصد اضافہ ہوا، 135گرام کی روٹی کی قیمت 20روپے تک پہنچ گئی، غریب کو ایک نوالہ دو روپے میں پڑرہا ہے۔ حکومت 37ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دعوے کرتی ہے، مگر ملک کے طول و عرض میں 12سے 14گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے، صرف اسلام آباد میں وزیروں اور مشیروں کے دفاتر میں ائیرکنڈیشنر چل رہے ہیں۔ قوم کو کہتا ہوں کہ سینہ کوبی اور رونے دھونے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ موجودہ نظام تباہی کا نظام ہے اور تینوں بڑی جماعتیں اس نظام کی رکھوالی میں مصروف ہیں۔ کل جو بیانیہ پی ٹی آئی کا تھا وہ آج پی ڈی ایم اور پی پی کا ہے۔ ملک کو اسلامی نظام ہی بچا سکتا ہے اور صرف جماعت اسلامی ہی پاکستان میں اللہ اور اس کا قانون نافذ کر کے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ امیر صوبہ خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم ان کے ہمراہ تھے۔سراج الحق نے کہا کہ ایک طرف غریب نان شبینہ کا محتاج ہے تو دوسری جانب حکمرانوں کے اثاثوں میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ حکمران اب بھی قوم کو یہی رٹ سناتے ہیں کہ وہی ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -