وفاقی بجٹ میں رئیل سٹیٹ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا، بلڈرز، ڈویلپرز 

  وفاقی بجٹ میں رئیل سٹیٹ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا، بلڈرز، ڈویلپرز 

  

لاہور (رپورٹ:میاں اشفاق انجم، تصاویر: ایوب بشیر) پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پوری قوم سکتے میں ہے، وفاقی بجٹ نے مایوس کیا،رئیل سٹیٹ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا، فائلر کیلئے ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ کیپٹل گین ٹیکس کی مدت کو چھ سال کی بجائے تین سال کیا جائے،پنجاب کے بجٹ کے نکات کی وضاحت کی جائے، رئیل سٹیٹ سیکٹر سے تین درجن صنعتیں جڑیں ہوئی ہیں، گھر بنانے کیلئے ایمنسٹی سکیم دی جائے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اعتماد اور پراپرٹی خریدنے والوں کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے۔ بلڈرز اور ڈویلپرز کیلئے ون ونڈو نظام وضح کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان کے نامور رئیل سٹیٹ ایجنٹس بلڈرز اور ڈویلپرز نے وفاقی اور صوبائی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ یوسف چوہان نے کہا کہ میاں شہباز شریف سے بڑی امیدیں تھیں، رئیل سٹیٹ سیکٹر کو ریلیف نہ دینا لمحہ فکریہ ہے۔ طارق منیر نے گین ٹیکس کی مدت بڑھانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔میجر وسیم انور چودھری نے کہا ہے پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ماہ میں تین دفعہ اضافہ عوام کے لئے جان لیوا ہے۔چوھری سرور لنگڑیال، راجہ اکرم علی نے فائلر کیلئے ٹیکس میں اضافہ کو ظلم قرار دیا ہے۔چودھری مقرب وڑائچ، میاں شاہ جہاں، میاں زاہد اسلام نے اوورسیز پاکستانیوں کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔کرنل محمد صدیق، ملک آصف نے کہا کہ ضد اور ہٹ دھرمی سے نقصان ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر خالد محمود چودھری،چودھری اکرام الحق نے نان فائلر کو فائلر بنانے کیلئے سکیم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔غلام فرید قادری،میاں حاجی رمضان نے پنجاب بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندہ قراردیا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کیلئے فوری مراعات کا اعلان کیا جائے۔

 بلڈرز اور ڈویلپرز 

مزید :

صفحہ آخر -