مراسلہ سیاسی معاملہ تھا تو عمران خان اسے سلامتی کمیٹی میں کیوں لیکر گئے؟ مریم نواز

       مراسلہ سیاسی معاملہ تھا تو عمران خان اسے سلامتی کمیٹی میں کیوں لیکر ...

  

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مرکزی نائب صدرمسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف کیساتھ کیے ہوئے معاہد ے پر عمل نہ کیا تو ملک دیوالیہ ہو جائیگا، اب عمران خان کہہ رہا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بولنے کی ضر و رت نہیں، مراسلہ سیاسی معاملہ تھا تو میرا سوال ہے عمران خان اسے سلامتی کمیٹی میں کیوں لیکر گئے؟، یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے سیاسی معاملہ نہیں، عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی اداروں کو داؤ پر لگادیا، عمران خان کیخلاف ایک کے بعد ایک کرپشن کا سکینڈ ل سامنے آرہا ہے، انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈاکے ڈالے لیکن یہ باتیں چھپیں گی نہیں، اس پر کیسز بنیں گے اور بننے چاہئیں، اگر کوئی انتشارکی کال دیگا تو ریاست اس کو پوری قوت سے روکے گی،الیکشن اپنے وقت پر ہونگے،عمران خان اور اس کی جعلی جماعت کیلئے میں اکیلی کافی ہوں۔ا سلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا آئی ایم ایف معاہدے کے تحت پٹرول کی قیمت 300 روپے ہونی چاہیے، یہ وہی معاہدہ ہے جو عمران خان حکومت نے جو لا ئی 2019ء میں آئی ایم ایف کیساتھ کیا۔انہوں نے کہا شہباز شریف حکومت نے اپنی طرف سے ایک ٹیکس نہیں لگا یا، معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کڑوا گھونٹ پی رہی ہے، شہباز شریف بطور وزیراعظم آئی ایم ایف معاہدے کے پابند ہیں، اگر ہم اس معاہدے کو توڑتے تو پاکستان خدانخواستہ خسارے میں جاتا۔ان کا کہنا تھا پچھلے بجٹ پر پیٹرول پر لیوی اور سیل ٹیکس بڑھا نے کا معا ہد ہ کیا گیا تھا، عمران خان کو پتہ چلا کہ حکومت جانیوالی ہے توجاتے ہوئے ملکی معیشت پر وار کیا، عمران خان کا خیال تھا کھیلوں گا نہ اگلی حکومت کو کچھ کر نے دوں گا، عمران خا ن کا خیال تھا اگر میں جاؤں گا تو اگلی حکومت کو برباد کر کے جاؤں گا۔مریم نواز نے کہا حکومت رخصت ہوتی ہے تو عوام کو کارکردگی بتاتی ہے، عمران خان کوپتہ ہی نہیں تھا معیشت کیسے چلانی ہے، عمران خان 4 سال تک ملکی معیشت سے کھلواڑ کرتے رہے، معیشت خراب ہوگئی تو پاکستان کا پیسہ گروی رکھاگیا۔عمران خان نے جاتے جاتے جو تباہی مچائی اس سے نکلنے میں مہینوں یا سال لگ جائیں گے، ملک کو اس نہج پر عمران خان لے کر آیا،سابق صدر پرویز مشرف کی واپسی کو لیکر نوازشریف کے بیان سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا وازشریف کی ٹوئٹ خالصتاً انسا نی بنیادوں پر تھی، انہوں نے واضح طور پر کہا مجھے اور میرے خاندان پر جو ظلم انہوں نے توڑے جس کا شکار نہ صرف وہ بنے بلکہ پورا خاندان گیارہ سا ل تک بنتا رہا۔میرے سامنے نواز شریف کو 1999ء میں کراچی کی عدالت نے دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی، میں اس عدالت میں موجود تھی، انہیں اٹک قلعہ میں پھینکا گیا اور جلا وطن کیا گیا، وہ اپنے والد کو دفنانے نہیں آسکے، اس وقت حکمران مشرف تھے، مشرف جس سٹیج پر ہیں نہ اٹھ سکتے ہیں اور نہ بیٹھ سکتے ہیں، نواز شریف نے بہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔نوازشریف ذاتی انتقام پر یقین نہیں رکھتے، انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ جو تکالیف انہوں نے برداشت کیں جس میں ان کے اپنے پیارے گزر گئے لیکن انہوں نے کہا میں نہیں چاہتا کہ میرا بدترین دشمن اور مخالف بھی وہ سہے جو مجھے سہنا پڑا، نوازشریف آج بھی وطن سے دور ہیں اور وطن واپس نہیں آپارہے۔نوازشریف حکومت کا حصہ نہیں انہوں نے ذاتی حیثیت میں بات کی، جو مشرف دور میں انہیں سہنا پڑا، عدلیہ کیساتھ کیا ہوا وہ عدلیہ اور وہ جانیں، نوازشریف نے یقینی بنایا وہ اپنی ذاتی حیثیت میں بات کریں، عمران خان ایک ماہ رانا ثنااللہ سے ڈرکر پشاور کے بنکر میں چھپے رہے، لانگ مارچ کی کال کیلئے لیڈ کرنا پڑتا ہے، لوگوں کے بچوں کو ریاست کے آگے چھوڑ کر انقلاب نہیں آتے، سخت فیصلوں کے بعد ملک کو مستحکم کرنے کیلئے وقت درکار ہے، پاکستان مقررہ وقت پر انتخابات کی طرف جائیگا، کوئی ایسی صورتحال نہیں بنائی جائیگی کہ خوامخواہ جلد الیکشن کی بات ہو۔میرا آج بھی بیانیہ ووٹ کو عزت دو ہے اور آگے بھی رہیگا، ن لیگ کو بیساکھیوں کی ضرورت نہیں، یہ ضرورت فتنہ خان کو تھی، اس کو بیساکھیاں ملیں، وہ بیساکھیاں جب تک تھیں اس کی حکومت چلی، جیسے ہی بیساکھیاں ہٹیں وہ منہ کے بل گرپڑا، ن لیگ عوام کی قوت پر یقین رکھتی ہے، عوام کی خدمت کرتی ہے اور فیصلے کیلئے عوام کے پاس جاتی ہے۔

مریم نواز

مزید :

صفحہ اول -