قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے جوڈیل کی اس سے جلد قوم کو آگاہ کرینگے: شہباز شریف

    قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے ...

  

            اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھانے کے سواکوئی چارہ نہیں، معاہدے پر پی ٹی آئی حکومت نے دستخط کیے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہم  جلدمعاشی مشکلات سے نکلیں گے،آئی ایم ایف اور پی ٹی آئی حکومت کی ڈیل کی تفصیلات سے جلد قوم کو آگاہ کریں گے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادیوں پر مبنی مخلوط حکومت نے مسلسل تیسری بار پٹرولیم قیمتیں بڑھائی ہیں، گذشتہ 20 روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 84 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کو جلد شروع کرنے کی ہدایت کی اور قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن)، بابوسر ٹنل اور خضدار کچلاک روڈ پر بھی کام جلد شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری شاہراہوں کے تعمیراتی منصوبوں پر پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء  احسن اقبال، مولانا اسعد محمود، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، چیئرمین این ایچ اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم کواجلاس میں بتایا گیا کہ M-6 سکھر، حیدر آباد موٹروے کراچی پشاور موٹروے کا اہم سیکشن ہے جس پر کام گزشتہ حکومت کی سست روی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا. 306 کلومیٹر لمبا چھ رویہ موٹروے 15 انٹرچینجز کے ساتھ 6 اضلاع میں سے گزرے گا. موٹروے کے قیام سے سفر کا وقت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت اور پورے پاکستان سے برآمدات کی کراچی بندرگاہوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو گی۔ منصوبے پر کام چھ ماہ کے اندر شروع کردیا جائے گا جس کی تکمیل 2.5 سال میں ہو گی۔250 کلومیٹر قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن) کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کی فیزیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے جسے 7 ماہ کے دوران مکمل کر لیا جائے گا جس سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی اور داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کی تعمیر کی وجہ سے متبادل راستہ میسر ہو گا۔بابوسر ٹنل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹنل کے علاوہ 66 کلومیٹر روڈ کا مکمل سیکشن تعمیر اور موجودہ روڈ کی بحالی کا کام کیا جائے گا. شاہراہ کے اس حصے میں موسمِ سرما کی برفباری کے دوران ٹریفک کی بلا تعطل روانی کیلئے سنو گیلیریز بھی تعمیر کی جائیں گی. وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کو شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبے کی تکمیل کی ہدایات جاری کیں۔وزیرِ اعظم کو پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا، وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر اور مؤثر بنانے کیلئے جامع تجاویز مرتب کرنے کیلئے 9 رکنی کمیٹی تشکیل کردی۔ کمیٹی میں وفاقی وزیرِ مواصلات، ہاوسنگ منسٹر، ایم ڈی PPRA، چیئرمین PEC شامل ہونگے. وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا  ہے  کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی دلچسپی کے تمام امور پر دونوں ممالک کا موقف مشترک ہے،دونوں ممالک وقت کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جمعرات کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی کی قیادت میں 'روڈ ٹو مکہ' پراجیکٹ ٹیم نے  ملاقات  کی۔  ملاقات  میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے سعودی محکمہ سے  منصور شاہد ایس الطائیبی بھی موجود تھے۔  سعودی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے  روڈ ٹو مکہ منصوبے پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا  اس اقدام کے تحت ہزاروں پاکستانی عازمین حج کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی،'روڈ ٹو مکہ' اقدام مستقبل میں پاکستان کے دیگر شہروں تک پھیلایا جائے گا۔  وزیر اعظم نے کہا  پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی دلچسپی کے تمام امور پر دونوں ممالک کا موقف مشترک ہے،دونوں ممالک وقت کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس موقع پر  سعودی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ترقی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔سعودی سفیر نے کہا   'روڈ ٹو مکہ' اقدام کا مقصد سعودی امیگریشن اور کسٹم سے متعلق رسمی کارروائیوں کو حج کے لیے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روانگی سے قبل مکمل کرنا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف  نے  تمام وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ سیالکوٹ کی کاروبار برادری اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تاکہ سیالکوٹ کی موجودہ 2.5 ارب ڈالر کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے، اس سلسلے میں تمام وسائل  بطریق احسن برو ئے  کار لائے جائیں، وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے حکام سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کے لیے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے سیکٹر سپیسیفک کونسلز کے قیام، سیالکوٹ انڈسٹریل زون اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنائیں، کراچی، لاہور اور سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں میں   ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائیں  جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف سے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے وفد نے  وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔وزیر اعظم نے تمام وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ سیالکوٹ کی کاروبار برادری اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، تاکہ سیالکوٹ کی موجودہ 2.5 ارب ڈالر کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس سلسلے میں تمام وسائل کو بطریق احسن برو ئے  کار لانے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے حکام کو ہدایات جاری کیں کہ سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کے لیے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے سیکٹر سپیسیفک کونسلز کے قیام، سیالکوٹ انڈسٹریل زون اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنایا جا ئے  تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک سے برآمدی شعبے کے لیے درکار خام مال کا زیادہ سے زیادہ حصہ ملکی سطح پر تیار کر کے قیمتی زر مبادلہ بچایا جا سکے۔مزید برآں انہوں نے کراچی، لاہور اور سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں میں   ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے وزارت ریلوے و ہوابازی کے حکام کو سیالکوٹ کے برآمدکنندگان کو خصوصی کارگو ٹرینز کی فراہمی اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے لیے غیر ملکی کمرشل فلائٹس کی تعداد بڑھانے کے لیے باہمی مشاورت سے قابل عمل پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین کی بحالی پر کام کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری پنجاب کو جدید فنی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کرنے کے لیے سیالکوٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کے قیام اور سیالکوٹ میں سیف سٹی پراجیکٹ جلد شروع کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ملاقات میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اعلی سرکاری حکام بھی  شریک تھے۔چیف سیکرٹری پنجاب اور گورنر سٹیٹ بینک نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -