عمران نیازی نے عوام کے سینوں میں دھوکوں کے خنجر گھونپے: حمزہ شہباز

 عمران نیازی نے عوام کے سینوں میں دھوکوں کے خنجر گھونپے: حمزہ شہباز

  

        لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ تین ماہ سے پنجاب میں آئینی حوالے سے اتار چڑھاو آئے، پنجاب کی تاریخ میں آئینی لحاظ سے ایسے نشیب و فراز نہیں دیکھے۔ میں اللہ تعالٰی کے ساتھ صوبے کے عوام کو بھی جواب دہ ہوں اور ہمیں اپنی ذمہ داری کا بخوبی احساس ہے۔جبکہ دوسری جانب عمران نیازی کہتا ہے کہ خدانخواستہ  ایٹمی طاقت برباد ہوجائے گی،فوج ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔عمران نیازی نے چار سال میں قوم سے کیا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔قوم کے پاس دو راستے ہیں جن میں سے ایک سچائی کا راستہ ہے اور دوسرا انتشار اور سازش کا۔عمران نیازی کہتا ہے اداروں نے میرے خلاف سازش کی ہے اور مسلسل الاپ رہا ہے کہ میرے خلاف سازش ہوئی ہے۔ ریاست ہماری ماں ہے اور  اس سے محبت ہونی چاہیے لیکن اس کے ایما پر اداروں کے خلاف کئی ماہ سے زہر اگلا جا رہا ہے۔عمران نیازی نے اداروں پر بے بنیاد الزامات لگانے اور راگ الاپنا رہا کہ میرے خلاف سازش کی گئی ہے، عمران نیازی کے ایماء پر کئی ماہ سے یہ تماشا چل رہا ہے۔ وہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، صوبائی وزراء سردار اویس لغاری، ملک محمد احمد خان اور عطا تارڑ بھی اس موقع پر موجود تھے۔انہوں نے کہا  یہی شخص کہتا تھا کہ 4حلقے کھولدو مگر پھرفیصلہ آیا کہ کوئی دھاندلی نہیں ہوئی مگر کہا کہ میں نہیں مانتا۔ آج کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کا کمیشن بنا دو۔ بات سمجھیں کہ ایک آدمی چار سال میں عوام سے کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی پورا نہ کر سکا۔نیازی یقین رکھو کہ اس ملک نے قائم رہنا ہے۔ عمران نیازی کے دور میں مزدور سے 50لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا، نوجوانوں سے ایک کروڑ نوکریوں کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔پرانے پاکستان میں جی ڈی پی 5.8 فیصد تھی اور سابق دور میں یہ گروتھ منفی ہو گئی۔ قوم کو آٹا اور گھی وغیرہ کی لائنوں میں لگا دیا گیا۔ کون کہتا تھا کہ خونی لانگ مارچ ہو گا؟ آر پی اوز کے پاس ربڑ بلٹ تھیں۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے وزراء علیٰ نے پولیس کے ہمراہ ہمارے پولیس اہلکاروں  پر ہوائی فائرنگ کی۔ بلڈوزر اور کرین کے ساتھ یہ چلتے رہے،ان کے جلسے میں 25لاکھ میں سے چوبیس لاکھ 90 ہزار افراد کم تھے اور کہا میں بیٹھوں گا جب تک الیکشن کی کال نہیں آئے گی مگر ایک ہی رات میں بنی گالا واپس چلا گیا۔ وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا میں نے اپنی جوانی کے کئی سال جیل کی ویرانی میں گزار دیئے۔ میرے والد کینسر کا مریض تھے، ان کی تیمار داری نہیں کر سکا،22ماہ جیل کاٹی مگر کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ  پرویز الہٰی نے حکم دیا گیا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو حاضر کیا جائے پھر 12کروڑ عوام کے بجٹ کا فیصلہ ہو گا۔ میں نے ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ ڈپٹی سپیکر پر جو جان لیوا حملہ ہوا کہ کیسے وہاں ایک بیٹھا ہوا کسٹوڈین مبارکبادیں دے رہا تھا جب اس کے غنڈے ڈپٹی سپیکر پر حملہ کر رہے تھے۔پھر قوم نے دیکھا کہ ٹوٹا ہوا بازو ایک ہی دن میں جڑ بھی گیا۔ الزام لگایا کہ حمزہ شہباز نے راڈ سے میرا سر پھاڑا اور اسمبلی سے باہر پھینک دیا۔ پرویز الٰہی نے کس طرح بے شرمی سے کہہ دیا کہ وہ کانسٹیبل تو شہید ہی نہیں ہے۔ اس وقت حمزہ شہباز نے فیصلہ کیا کہ ہم چیف سیکرٹری اور آئی جی کو کسی صورت پیش نہیں کریں گے۔میں اس طرح کے واقعات بطور وزیر اعلیٰ نہیں، بحیثیت انسان دیکھتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں چار مرتبہ اجلاس بلایا گیا، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے رہے مگر پرویز الٰہی کی ذاتی خواہش پر برخاست کیا جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ سب کو عزت دینے والا ہے مجھے اس منصب پر اللہ تعالیٰ نے چنا ہے۔ تین ماہ میں آئینی طور پر بہت اتار چڑھا? آئے۔ کیاکبھی کسی نے دیکھا کہ وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ کے بغیر کام کرتا رہے؟ چند ہفتوں میں 50لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کی گئی اور کسانوں کو ان کا حق دیا گیا۔ 2200فی فن گندم خریدی جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ 200ارب روپے کی سبسڈی کا فیصلہ کیا۔ دیکھنا ہوگا کہ اس وقت غربت اور افلاس کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں بھوک ناچ رہی ہے۔ان کے گھروں میں بچے روٹی کاسوال کرتے ہیں۔کابینہ میں توسیع کرنا تھی مگر نہ کی جا سکی، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو راضی کرنا ہی مشن ہے۔  48گھنٹے انتظار کیا اور پھر ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس ہوا۔ پرویز الٰہی کی انا کی تسکین  آئی جی اور چیف سیکرٹری کو پیش کرنے سے ہوتی تھی۔ میں نے تمام آئینی راستے دیکھے کیوں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔آئین میں کدھر لکھا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو پیش کریں تو بجٹ ہو گا؟ آج میں خوش ہوں کہ بجٹ پیش ہو گیا۔ تنخواہ دار طبقے کی بنیادی تنخواہ ملا کر تیس فیصد اضافہ ہوا اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا ہے۔کل لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے درخواست دائر کی ہے کہ میری مراعات بحال کی جائیں جبکہ ایک طرف عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔فرح گوگی کی کرپشن سب کے سامنے ہے اور یہ موصوف ایلیٹ کی گاڑیاں اور مالی مانگ رہے ہیں۔ یہ وہی وزیر اعلیٰ ہے جس کو معلوم تھا کہ چار سال سے سیف سٹی کے زیادہ تر کیمرے بند پڑے ہیں۔ عوام کے گھروں میں تیس فیصد کیمرے بند ہونے کی وجہ سے ڈاکے پڑ رہے ہیں۔  

حمزہ شہباز

مزید :

صفحہ اول -