سینیٹ، پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی کا احتجاج 

سینیٹ، پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی کا احتجاج 

  

      اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)سینیٹ میں ڈاکٹر سکندرمیندھرو کی وفات پرخالی نشست پر الیکشن کمیشن کی طرف سے شیڈول جاری کرنے پر اپوزیشن  نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو سینیٹ میں طلب کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر سکندرمیندھرو کی ابھی تدفین نہیں ہوئی اور الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا، چیئرمین سینیٹ نے الیکشن کمیشن کو فوری شیڈول واپس لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سینیٹ نے ابھی تک سکندرمیندھرو کوڈی نوٹیفائی نہیں کیا، ان کی ابھی تدفین ہونی،سینیٹ میں اردو کے اد یب گوپی چندنارنگ کی وفات پر ایوان میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔جمعرات کو سینیٹ کااجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدرات پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔قائدحزب اختلاف ڈاکٹرشہزاد وسیم نے کہا سکندر میندھرو کی ابھی تک تدفین نہیں ہوئی،الیکشن کمیشن نے انکی خالی نشست کا شیڈول جاری کردیا، دوسری جانب جب الیکشن کروانے کی بات ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن کہتا ہے تیاری نہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا ہم نے ابھی تک سینیٹر سکندرمیندرو کوڈی نوٹیفائی نہیں کیا، ابھی انکا جسد خاکی امریکہ سے آناہے۔سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہا اس تمام معاملے میں پیپلزپارٹی کا کوئی عمل دخل نہیں، بہرمندتنگی نے کہا الیکشن کمیشن اس شیڈول کو فوری روکے، دنیش کمار نے کہا اردو کے بڑے ادیب گوپی چند نارنگ  فوت ہوگئے ہیں وہ انیس سو اکتیس میں صوبہ بلوچستان میں پیدا ہوئے،ان کی وفات پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی اور ایوان بالا میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاگوپی چند کی اردو ادب کیلئے بہت زیادہ خدمات ہیں ان کو ادب میں یاد رکھا جائیگا، قائد ایوان سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا گوپی چند کی وفات پر دکھ اور افسوس ہوا ہے گوپی چند کے لواحقین کو سینیٹ کی طرف سے تعزیتی خط لکھا جائے۔ سکندرمیندھرو کی وفات پر خالی نشست پر الیکشن شیڈول جاری کرنے پر مشتاق احمد نے کہا الیکشن کمیشن ایسے ہی ہے جیسے رضیہ غنڈوں میں گھر گئی ہو،اعجاز چوہدری نے کہا ہم الیکشن کمیشن کو اپیل نہیں کریں گے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، اعظم سواتی نے کہا الیکشن کمیشن نے جو کام کیا ہے اس پر ان سے استعفیٰ مانگیں،یوسف رضا گیلانی نے کہا سکندر میندھررو کے حوالے سے اپوزیشن کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اداروں پر تنقید کرے،گیلری سے کھیلنا اچھا نہیں۔ادارے کہتے ہیں سازش نہیں تھی اور یہ کہتے ہیں کہ سازش تھی،اداروں کی عزت اور آئین کی پاسداری کریں۔سینیٹرشہزاد وسیم نے کہا ایک مرتبہ پہلے بھی اکثریت کو اقلیت میں بدلا تو اس کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا۔کیا ضرورت ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر روز وضاحت کررہے ہیں، یہ بجٹ بذات خود سازش پر مہر ثبت کررہاہے، جب سے ان کے کیس ختم ہوئے ہیں ان کو ادارے اچھے لگ رہے ہیں اورانکی کرپشن کا حساب عوام چکا رہے ہیں،ابھی بھی وقت ہے راستہ ٹھیک کریں الیکشن کروائیں۔دریں اثناء نکتہ اعتراض کے دوران سینیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے شدیداحتجاج،چیئرمین ڈائس کاگھیراؤنعرے بازی او ر علامتی واک آوٹ کیا۔باپ اورمسلم لیگ فنکشنل اور دلاور خان گروپ نے احتجاج نہیں کیااور اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ قائدحزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا وزیرخزانہ عوام کی جیب کترکربلوں میں چھپ گئے ہیں ان کو ایوان میں لائیں،وزیر خزانہ آئی ایم ایف کی پراکسی بن گئے ہیں۔اپوزیشن نے کہا اس حکومت کو مہنگائی کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا، مہنگائی کرنے کیلئے 50وزیروں کی فوج کی ضرورت نہیں، صرف وزیراعظم ہیں کافی ہیں، نوازشریف مشرف کومعاف کررہے ہیں تو قوم کو بھی معاف کردے تاکہ قوم کی مہنگائی سے جان چھوٹ جائے۔ پٹرو لیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نامنظور ہے،چیئرمین صاحب آپ وزیر خزانہ کو طلب کریں جب تک وزیر نہیں آتے بجٹ پر بات نہیں ہوگی،پہلے پیٹرو ل کی قیمت میں اضافے پر بات ہوگی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا میں نے وزیرخزانہ کو طلب کرلیاہے وہ آرہے ہیں۔اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے گھیراؤ، قیمتوں میں اضافہ واپس لو، ظالم بجٹ نامنظور، امپورٹڈ حکومت نامنظور کی شدید نعرے بازی پر چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن کاکہا وہ ایوان سے باہر جاکر نعرے لگائیں، جس پر اپوزیشن نے ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا، چیئرمین سینیٹ نے دانیش کمار اور بہرہ مند تنگی کو اپوزیشن کو منانے کی ہدایت کی جس پر وہ ان کومناکر لائے۔عرفان صدیقی کی بجٹ تقریر کے دوران وزیرمملکت خزانہ ایوان میں آگئیں۔اپوزیشن سینیٹرز نے بجٹ کو کینڈی لینڈ بجٹ قراردیتے ہوئے کہا آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے مزید مہنگائی کی جارہی ہے۔حکومت ملک میں کرپشن کو حلال اور اداروں کو غیر فعال کررہی ہے،18ویں ترمیم میں ملک کو 4حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کو روز بیان دینے کی کیا ضرورت ہے؟،فوج قابل احترام ہے آپ اس کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں، یہ ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔حکومتی سینیٹر زنے اعتراف کیا کہ ملک میں عدم استحکام کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ہم گداگر بن گئے ہیں جب ہمیں کوئی ملک قرض دیتاہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط غریبوں کیلئے تباہ کن ہوتے ہیں۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے ملک کی معیشت کو پاؤں ہر کھڑا کیا جائے، اسی دوران سینیٹ بجٹ اجلاس میں سینیٹر مولاناعطاالرحمن کی طرف سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف الزمات لگانے پر پی ٹی آئی خواتین ارکان نے شدیداحتجا ج کرتے ہوئے کورم کی نشاندہی کردی کورم مکمل نہ ہونے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزامحمدآفریدی نے اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -