ای سی ایل کیس! شکریہ چیف جسٹس

ای سی ایل کیس! شکریہ چیف جسٹس
ای سی ایل کیس! شکریہ چیف جسٹس

  

ڈالر پاکستان میں نئی تاریخ رقم کر چکا ہے، روپے کی بے قدری کا نیا ریکارڈ بن گیا ہے۔ ملکی معیشت کی ناؤ سمندر کے درمیان میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ معیشت کی کشتی میں کئی سوراخ نظر آرہے ہیں، جس کشتی کے سواروں کو علم ہے ہم ڈوب رہے ہیں اس کے باوجود ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر سوراخ بند کرنے کی کوشش کی بجائے کشتی کے ان سواروں کو کوسا جا رہا ہے جو کشتی سے اتر چکے ہیں اور سوراخوں والی کشتی کو ڈوبنے کا تماشا دیکھنے کے لئے سمندر کنارے کھڑے ہو کر دہائی دے رہے ہیں۔ ہمیں الزام دینے سے آپ کی کشتی ڈوبنے سے نہیں بچے گی۔ مان لیں ہم غلط تھے آپ تو ٹھیک ہیں آپ نے تو ہمیں نااہل نکمہ ناتجربہ کار نالائق کہہ کر گھر بھیج دیا ہم کچھ نہ کر سکے میں ایک تھا کچھ نہ کر سکا آپ تو 11جماعتیں ہیں آپ کے پاس وقت بھی ہے آپ تو ڈالر کو ڈیڑھ سو پر لانے کا وعدہ کر رہے تھے۔پٹرول سستا کرنے کا عزم کر رہے تھے بجلی، گیس مہنگی کرنے کے فیصلوں کو عوام دشمنی قرار دے رہے تھے اب ڈالر پاکستان کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے روپے کی بے قدری جاری ہے ایک ایک رات میں قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہو رہا ہے کب تک ہمیں الزام دیتے رہو گے کب عوام آپ کی حالت زار آپ کے ریڈار میں آئے گی۔ ہر وہ کشمکش اور ڈائیلاگ میں جو گزشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت اور 3ماہ پہلے گھر جانے والی حکومت کے درمیان صبح، دوپہر، شام جاری ہیں ان حالات میں لکھنا تو مجھے چاہیے تھا عوام کی حالت ِ زار پر، رنگ بکھیرتی جمہوریت پر،قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں لگے تماشے پر،مگر کہا جاتا ہے ہم کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ایک تاریخ ہیں اس لئے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں بہت کم دوست جانتے ہیں کہ میں قانون کا طالب علم ہو باقاعدہ ڈگری لے کر دو سال تک وکالت کی اور 96 میں لاہور ہائی کورٹ کا لائسنس لے کر ہمیشہ کے لئے اس شعبے کو الوداع کہہ دیا اس وقت سے صحافت کے طالب علم کی حیثیت سے زمانے کی خاک چھان رہا ہوں عدالتوں میں کیا ہوتا ہے۔ تھانوں کا کلچر کیا ہے۔ ہماری جیلوں کی دنیا کی کیا کیا کہانیاں ہیں وہ میں بیان کر سکتا ہوں، کیونکہ کئی سال تک میں پنجاب کی جیلوں کا نان آفشل وزیٹر رہا ہوں۔ جیلوں کا ایک ایک قیدی ایک داستان کا حامل ہے۔

تھانوں میں ایک ہزار روپے چوری والا کتنے دنوں سے بند ہے اور جیلوں میں بھائی سے لڑائی اور محلے کی لڑائی کی وجہ سے کتنی دیر سے پابند ِ سلال ہے۔ ذاتی اور خاندانی اور چودھریوں کی سیاست کی بھینٹ کتنے افراد چڑھ چکے ہیں۔ دس سال کا بچہ بھی ہے،70 سال کا بزرگ بھی جیل میں انصاف طلب کر رہا ہے ان تمام باتوں سے ہٹ کر ہم من حیث القوم ایسے جگڑ بند میں جکڑے جا چکے ہیں اگر ہم اس سے نکلنا بھی چاہیں تو شاہد نہ نکل سکیں۔ اگر محاورہ ہے تگڑے کی ستے وی سو،اس کی زندہ مثال، ای سی ایل کا کیس ہے جو ان دنوں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس عمر عطاء بندیال ہے، سو موٹو نوٹس لیا اور پھر اپنی قیادت میں بنچ تشکیل دیا اور آج کل اس کی سماعت جاری ہے۔معاشرے میں جاری اندھیر نگری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کا سو موٹو کیس روشنی کی کرن ہے نئی نسل کی امیدوں کا مرکز ہے، کہا جا سکتا ہے ابھی کچھ نہیں بگڑاوے کا اوا بگڑا ہوا ضرور ہے، مگر انسانیت کسی نہ کسی سطح پر زندہ ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے والے بھی سوئے ہوئے نہیں ہیں اسی لئے میں قانون کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان کو کہوں گا جناب چیف جسٹس آپ کا شکریہ۔ ای سی ایل کیس کی کہانی کے مختلف کردار ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے الزامات ہیں کہ مجھے گھر اسی لئے بھیجا گیا تاکہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے ذمہ داران پر سنجیدہ کیس ختم کرائے جا سکیں اس میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) کا زیادہ نام آتا ہے۔ ایک الزام موجودہ حکومت کے وزراء گزشتہ حکومت پر لگاتے ہیں نیب کا غلط استعمال کیا گیا۔ایف آئی اے کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا اور ہمارے اوپر جھوٹ مقدمات بنائے گئے اس لیے پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایوانِ اقتدار میں مسند پر بیٹھنے کے ساتھ ہی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ای سی ایل قانون میں تبدیلی کر دی، ایف آئی اے اور دیگر اداروں  کے اختیارات یکسر ختم کر کے اپنے اوپر چلنے والے کیسوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش شروع کر دی۔کہا گیا ہے ای سی ایل کیس اتنا آسان نہیں ہے۔ سوموٹو کیس کی اندرونی کہانی سے اوراق پلٹنے سے بڑے بڑے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے۔ 14جون کی سماعت اور15جون کو شائع ہونے والے اخبارات میں کیس کی تفصیلات نے مجھے کالم لکھنے پر مجبور کیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال صاحب کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا، کیا ای سی ایل قوانین کے حوالے سے کابینہ نے منظوری دی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں معاملہ زیر غور ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جس نے بھی سرکاری کام سے باہر جانا ہو وہ وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہو گی۔ملک میں موجودہ حالات یکسر مختلف ہیں، حکومت بنانے والی اکثریتی جماعت جا چکی ہے۔ملک اِس وقت معاشی بحران سے گزر رہا ہے،سسٹم چلانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بااختیار افراد نے ترمیم کر کے فائدہ اٹھایا،قانونی عمل میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے،کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں ہے، متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔ای سی ایل کیس ہمارے معاشرے کی نئی راہوں کا تعین کرے گا عدالت نے سیاست دانوں کو بھی لائن دی ہے یہ کوئی جواز نہیں ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں ایسا ہوتا رہا ہے اب بھی ہو گا۔قانون پر عمل داری چاہیے نہ کہ آئین میں ترمیم اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے۔ جناب چیف جسٹس آپ نے چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے،مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا ہے قانون کو ایسے ہی راستہ بنانا چاہیے۔جناب والا عدلیہ،سول کورٹ، سیشن کورٹ، سپریم کورٹ تک جانے سے پہلے تھانہ، کچہری، پٹواری،اینٹی کرپشن جیسے اداروں میں جو کھلواڑ جاری ہے اس پر بھی سوموٹو لیں اور بنچ تشکیل دیں پوری قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -