ہندی، سرائیکی، اردو کے عالمی شہرت  یافتہ نقاد ڈاکٹر گوپی چندنارنگ امریکہ  میں چل بسے،ادبی تنظیموں کا اظہار تعزیت

ہندی، سرائیکی، اردو کے عالمی شہرت  یافتہ نقاد ڈاکٹر گوپی چندنارنگ امریکہ  ...

  

ملتان(سپیشل ر پو رٹر)ہندی،سرائیکی اور اردو زبان کے عالمی شہر ت یافتہ نقاد پروفیسر ڈا کٹر گوپی چند نارنگ امر یکہ میں انتقال کرگئے، ان کی 91 برس تھی، گوپی (بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

چند نارنگ کا وسیب سے تعلق تھا، تقسیم کے وقت ہندوستان چلے گئے۔گوپی چند نارنگ نے اردو زبان کی ترقی کیلئے گراں قدر خدمات سر انجام دیں اور ان کو ادبی خدمات کے صلہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا ”پدم جی“ ایوارڈ حاصل ہوا۔ اردو کی خدمت کرنے پر ان کو تعصب اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، ہندی ادب کی لابیوں نے ان کی جدید تحقیق کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دینے کی کوشش کی مگر ان کے طاقتور کام کی وجہ سے ان کے ناقدین ناکام ٹھہرے۔ پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اردو اکیڈمی دہلی کے 1996ء سے 1999ء تک صدر رہے، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے بہترین خدمات سر انجام دیں، وفات سے پہلے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ 11 فروری 1931ء کو دُکی میں پیدا ہوئے لیکن بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ لیہ آ گئے۔ یہاں 1945ء میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی، 1948ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے آرنر کیا، 1958ء میں دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی، 1981ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے قائم مقام چانسلر اور امریکا کی امکانسن یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر رہے۔ 60 سے زائد تحقیقی کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کو دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں خصوصی لیکچر دینے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ معراج العاشقین، اردو کی تعلیم کا لسانی پہلو، ہندوستانی قصوں سے ماخوذ مثنویاں، ادبی تحریکیں، اردو شاعری میں ہندوستانی عنصر، انتھالوجی آف ماڈرن اردو پوئٹری، انتھالوجی آف اردو شارٹ سٹوریز قابل ذکر تصانیف ہیں۔ ان کی کتاب ”اردو غزل اور ہندوستانی تہذیب“ اور ”ہندوستان کی تحریک آزادی میں اردو شاعری“ نے بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی۔ اسی طرح امیر خسرو کا ہندی کلام اور سانحہ کربلا اور اردو لسانیات کے علاوہ ثقافتی و تاریخی مطالعات نامی کتابوں نے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کو نامور بنا دیا۔ سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین ظہور دھریجہ ملتان ادبی فورم کے پروفیسر ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی، ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، سید رمضان گیلانی و دیگر نے پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کو اپنی جنم بھومی سے بے پناہ محبت تھی، 1992ء میں پہلی عالمی سرائیکی کانفرنس دہلی کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے سر انجام دئیے، کانفرنس کے میزبان بیرسٹر جگدیش بترا تھے تاہم ادبی امور کے نگران ڈاکٹر گوپی چند نارنگ تھے۔ کانفرنس میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے سرائیکی زبان کی قدامت پر جو مقالہ پڑھا اس میں انہوں نے ثابت کیا کہ وادی سندھ کی اصل زبان سرائیکی ہے اور بر صغیر کی اکثر زبانیں اسی زبان سے پیدا ہوئی ہیں جسے پہلے ملتانی و دیگر زبانوں کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اب جسے سرائیکی کہا جاتا ہے۔ ایک ریسرچ سکالر نے اپنے مقالے میں سرائیکی اور سندھی کو سسٹر لینگویج قرار دیا تو ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے سٹیج پر آکر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی مدر لینگویج ہے، سرائیکی اور سندھی کا رشتہ ماں، بیٹی کا رشتہ ہے، سرائیکی ماں ہے اور سندھی بیٹی۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے یہاں تک کہا کہ اردو، پنجابی تو کیا،سرائیکی ہندی اور سنسکرت کی بھی ماں ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -