پانی کی بدترین قلت

پانی کی بدترین قلت

  

دریاؤں میں پانی کی بدترین قلت پیدا ہو چکی ہے جو 60فیصد سے متجاوز ہے اور اس کی وجہ سے ملک کے چھ بڑے ہیڈ ورکس پر پانی کا اخراج تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی 50فیصد چھوٹی بڑی نہریں بند کر دی گئیں کیونکہ محکمہ آبپاشی کے لیے نہری نظام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ نہر ی پانی کی بدستور قلت کے باعث زرعی زمینوں کو سیراب کرنا مشکل ہو چکا ہے۔قادر آباد، تریموں، بلوکی، سدھنائی، سیلمانکی،اسلام اور پنجند جیسے اہم ہیڈورکس پر پانی کا اخراج صفر ہونے کے باعث وارہ بندی شیڈول کے تحت ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے اضلاع کی50فیصد چھوٹی بڑی نہریں بند ہونے سے کسانوں کو فصلوں کی آبپا شی کے لیے شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ماہرین آبپاشی کا کہنا ہے کہ ملک میں بارشوں کا سلسلہ شروع نہ ہونے کے باعث یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گرمی کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور آئندہ ہفتے میں بارشوں کا بھی امکان ہے جس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کی صورت حال جون کے آخر میں بہتر ہونے کا امکان ہے تاہم پانی کی صورت حال ٹھیک ہونے کے باوجود کاشتکاروں کا یہ نقصان پورا ہونا مشکل ہے اس لیے پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ ریونیو سٹاف کے ذریعے پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں مالیہ اور آبیانہ میں رعایت دے۔

مزید :

رائے -اداریہ -