شہر اقتدار کی فضا کیسی؟

  شہر اقتدار کی فضا کیسی؟
  شہر اقتدار کی فضا کیسی؟

  

شہر اقتدار میں ایک طرف رونق نظر آئی تو دوسری طرف سرگوشیاں اور مایوس کر دینے والی گفتگو بھی ملی میں بدھ کی صبح سے اپنے پیارے چاند بھائی کی تلاش میں تھا ان میاں بیوی کے فون بند تھے ہمارے چاند بھائی کا حقیقی نام سجاد اشرف ہے اور وہ سابق سفیر ہیں، خیال یہ تھا کہ ان سے ملاقات ہو گئی تو درخواست کرکے ان کے دوستوں کی ایک محفل یا مجلس کا اہتمام کر لیں گے اور تبادلہ خیال میں ملکی حالات کے حوالے سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش ہو گی لیکن معلوم ہوا کہ وہ دونوں میاں بیوی ملک سے باہر اپنے بچوں کے پاس گئے ہوئے ہیں یوں اس کوشش میں ناکامی ہوئی تو خیال کیا کہ ایوان ہی کا رخ کریں اور کچھ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے جب قومی اسمبلی گیا تو حالات پہلے روز  جیسے تھے البتہ ایوان میں وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کی آواز گونج رہی تھی شاہ صاحب بڑے جلال میں تھے کہ ایوان میں حزب اقتدار کی نشستیں منہ چڑا رہی تھیں، خورشید رنجیدہ تھے کہ وزرا حضرات بھی نہیں تھے انہوں نے اپنا رنج نکالا اور کہا کہ اگر ان حضرات کو اتنی بھی دلچسپی نہیں تو پھر چھوڑیں سب اور نئے انتخاب کی طرف جائیں تاکہ نیا مینڈیٹ اور نئے لوگ آئیں، دل تو چاہا کہ شاہ صاحب سے ایک ملاقات کر لی جائے لیکن وہ اپنے خطاب کے بعد خود پر پابندی لگا چکے تھے اور ایوان میں ٹِک کر بیٹھ گئے تھے، میں باہر نکل آیا۔ گزشتہ روز ایوان سے باہر آتے ہوئے میری ملاقات شیخ روحیل اصغر سے ہوئی تو گرم جوشی کا اظہار ہوا وہ پوچھ رہے تھے کہ خیر سے آئے، میں نے بتا دیا کہ حالات کا جائزہ لے رہا ہوں۔ روحیل اصغر ہمارے پیارے شیخ اصغر (مرحوم) کے بڑے صاحبزادے ہیں اور اپنے حلقہ سے منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں وہ اپنے والد کی پیروی میں پیپلزپارٹی میں تھے اور لاہور کی تنظیم میں جنرل سیکرٹری رہے لیکن جب میاں محمد نواز شریف واپس پاکستان آئے تو وہ بوجوہ پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے تھے کوئی بڑا اعلان بھی نہ کیا والد مرحوم کی طرح دبنگ اور بے تکلف ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ حالات ٹھیک ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنا ووٹ بینک بھی برقرار رکھے اور عوام سے صرف رابطہ ہی نہ رکھا جائے بلکہ ان کے کام بھی کئے جائیں وہ خود لاہور میں روزانہ لوگوں سے اپنی فیکٹری میں  ملتے رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو ملے جلے ردعمل کا اظہار تھی ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ذاتی مسائل حل کرنا ضروری ہے۔

مجھے یہ معلوم ہے کہ شام کے بعد اسلام آباد کے بعض بڑے گھروں میں محافل جمتی ہیں جہاں ایسی ایسی بات ہوتی ہے کہ عام آدمی کے ہوش اڑ جائیں اسی لئے کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں سازشی تھیوریاں پلتی ہیں اس مرتبہ ایسی کسی محفل میں شرکت تو نہ ہو سکی کہ شہر اقتدار اب ”بے وفا“ بھی ہو گیا ہے۔ متعدد دوستوں سے فون پر رابطہ ہواملاقات نہ ہو سکی۔بہرحال زبان طیور سے سننے والی میں ہر طرف یہ تذکرہ تھا کہ سرنگیں بچھا کر جانے کے الزام والے حضرات خود اتنے نادان کیوں تھے کہ ان کی سمجھ میں یہ سب نہ آ سکا اور اب خود ہی ایسے کانٹے بچھاتے چلے جا رہے ہیں، خصوصی طور پر جب بدھ کی شب پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں تیسری مرتبہ اضافہ ہوا تو ہر شخص بلبلا رہا تھا،اب تو متعدد اپر کلاس کے حضرات بھی پریشان نظر آئے۔ ایک معزز صنعتکار سے ریستوران میں ملاقات ہو گئی میں اپنے صاحبزادے کے ساتھ کھانا کھانے گیا تھا اور وہ بھی اسی مقصد کے لئے فیملی کے ساتھ تھے، وہ بھی مایوسی کی باتیں کر رہے تھے۔ ان کا شکوہ یہ تھا کہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے صنعت کا شعبہ بُری طرح متاثر ہے اور مزید ہو گا، لاگت بڑھ جائے گی تو مصنوعات کے نرخ بھی بڑھانا ہوں گے۔ یوں عالمی مارکیٹ میں مشکل ہو گی وہ اپنے اور اپنی صنعت کے لئے بہت سی مراعات کا ذکر کررہے تھے اور چاہتے تھے کہ صنعت کو جس حد تک ہو سکے ٹیکس فری ہونا چاہیے کہ ان کی مصنوعات کی برآمد زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے جب ان سے مزدور کی مزدوری والی بات کی تو وہ بضد تھے کہ اب مزدوری بھی بڑھ چکی ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ وزیراعظم ایک صنعت کار تاجر ہیں ان کو تمام حالات کا بخوبی اندازہ ہے اور ان کو اپنی فراست سے کام لینا چاہیے۔ گفتگو بڑی دلچسپ تھی، وقت کی قلت اور ان کی فیملی کے باعث بات مکمل نہ ہو سکی، لیکن یہ تاثر مل گیا کہ ہماری اشرافیہ کا انداز فکر کیا ہے ان کو ملک سے بھی زیادہ اپنے منافع کی فکر تھی۔

شہر اقتدارکے جس حصے میں میری رہائش ہے۔ وہ ریڈ زون ہے اور اس کی بدولت یہاں تو لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی لیکن لوگوں کو رنج اور غصہ سے بات کرتے ضرور سنا کہ بجلی تو آتی ہی نہیں آ ئے گی تو جائے گی یہاں تو آتی ہی نہیں۔ابھی تک طفل تسلیاں ہیں اندازہ لگا لیں کہ آج خبروں میں محمد نوازشریف کے مرکزی ترجمان سینیٹر آصف سعید کرمانی خبروں میں تھے اور لوڈشیڈنگ پر برس رہے تھے۔عرض کردوں کہ یہ تاثر یہاں پختہ ہے اور اسی نے دوسرے شہروں کا بھی رخ کیا ہے کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو یہ اندازہ تھا کہ ملک کی معاشی حالت بہت خراب ہے تو ان حضرات نے انتظار کیوں نہ کیا؟ اور عدم اعتماد لے آئے اب ان کو کوئی عذر پیش کئے بغیر معاشی استحکام کی کوشش کرنا چاہیے، یہ نہیں کہ آپ سخت فیصلے کرکے غیر مقبولیت کی طرف جائیں اور صرف الزام لگاتے رہ جائیں۔

ان دنوں یہاں ایوانوں اور ایوانوں کے باہر جنرل (ر) پرویز مشرف کی وطن واپسی اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس زیر بحث ہیں۔ پرویز مشرف کی واپسی کے حوالے سے تو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی بیرونی سازش کی وضاحت ہی دو موضوع رہ گئے اور باقی سب پردہ سے غائب ہو گئے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی علالت کے پیش نظر ان کی واپسی کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اور فوج کی طرف سے اپنے سابق سپہ سالار کے لئے ایئر ایمبولینس کے اعلان کو بھی سراہا ہی گیا ہے کہ شدید علالت میں مبتلا شخص واپس آنا چاہے تو آنے دینا چاہیے۔ یوں بھی ان کے خلاف غداری کے مقدمہ کا کیا بنا وہ علالت کے باعث مجبور ہوئے ورنہ آرام سے اور بے فکر تھے۔ جہاں تک امریکی سازشی تھیوری کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت کا تعلق ہے تو یہ تحریک انصاف کی اپنی ہی خواہش کا جواب ہے کہ عمران خان کی طرف سے سازشی بیانیے پر اصرار جاری ہے، اب تحریک انصاف نے باقاعدہ نوٹس لے کر جواب دینا شروع کر دیا یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے دور میں ایک  پیج کا ذکر کرنا نہیں بھولتے تھے اب ان کو برداشت کرنا اور ثبوتوں کے ساتھ بات کرنا ہوگی، نہ معلوم یہ حضرات اب تک اپنے اس بیانیے پر کیسے قائم ہیں؟ شاید ان کی بھی مجبوری تھی کہ بات منہ سے نکل چکی تھی، اس پر قائم رہنا ہی بچت ہے۔

قارئین! آج تو اِدھر اُدھر کی باتیں ہو گئیں تاہم ایک بات کا یقین ہو گیا کہ اوکھلی میں سر دیا تو  موصلوں کا کیا ڈر کے مصداق حکومت کا فیصلہ اب باقی مدت اسمبلی پورا کرنے کا ہے کہ کم از کم اتنا وقت مل جائے کہ وہ مشکل فیصلے کرکے  اپنے طور پر مثبت نتائج حاصل کر سکیں، اس لئے منتظر رہیں اور ہماری طرح دیکھتے سنتے رہیں۔

مزید :

رائے -کالم -